Pages

Subscribe:

Friday, 25 May 2012

وہ اوجھل میری نگاہوں سے کہاں رہتا ہے

وہ اوجھل میری نگاہوں سے کہاں رہتا ہے .

وہ اشک بن کر آنکھوں سے رواں رہتا ہے .

کسی لمحے تنہا ہونے نہیں دیتی اسکی یادیں .

میرے آنگن میں میلے کا سامان رہتا ہے .

ہر گھڑی دل کا دریچہ کھلا رکھتے ہیں .

ہر گھڑی اس کے آنے کا گمان رہتا ہے .

لوگ کہتے ہیں زخم بھر جاتے ہیں آخر .

زخم بھر جاتے ہیں لیکن نشان رہتا ہے .

وہ ملے تو اتنا بتا دینا اسکو .

تجھ بن تیرا پیار پریشان رہتا ہے . . . !

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔