Pages

Subscribe:

Thursday, 31 May 2012

مجھے خبر تھی وہ میرا نہیں پرایا تھا


مکمل تحریر اور تبصرے >>

آرزو راہبہ ہے بے کس و تنہا و حزیں

آرزو راہبہ ہے، عمر گزاری جس نے
انہی محروم ازل راہبوں، معبد کے نگہبانوں میں
ان مہ و سال یک آہنگ کے ایوانوں میں
کیسے معبد پہ ہے تاریکی کا سایہ بھاری
روئے معبود سے ہیں خون کے دھارے جاری
راہبہ رات کو معبد سے نکل آتی ہے
جھلملاتی ہوئی اک شمع لیے
لڑکھڑاتی ہوئی، فرش و در و دیوار سے ٹکراتی ہوئی
دل میں کہتی ہے کہ اس شمع کی لو ہی شاید
دور معبد سے بہت دور چمکتے ہوئے انوار کی تمثیل بنے
آنے والی سحرِ نو یہی قندیل بنے
آرزو راہبہ ہے بے کس و تنہا و حزیں
ہاں مگر راہبوں کو اس کی خبر ہو کیونکر
خود میں کھوئے ہوئے، سہمے ہوئے، سرگوشی سے ڈرتے ہوئے
راہبوں کو یہ خبر ہو کیونکر
کس لیے راہبہ ہے بےکس و تنہا و حزیں
راہب استادہ ہیں مرمر کی سلوں کے مانند
بے کراں عجز کی جاں سوختہ ویرانی میں
جس میں اُگتے نہیں دل سوزی انساں کے گلاب
راہبہ شمع لیے پھرتی ہے
یہ سمجھتی ہے کہ اس سے درِ معبد پہ کبھی
گھاس پر اوس جھلک اٹھے گی
سنگریزوں پہ کوئی چاپ سنائی دے گی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

پا شکستہ سربریدہ خواب

شہر کے گوشوں میں ہیں بکھرے ھوئے
پا شکستہ سر بریدہ خواب
جن سے شہر والے بے خبر!
گھومتا ہوں شہر کے گوشوں میں روز و شب
کہ ان کو جمع کر لوں
دل کی بھٹی میں تپاؤں
جس سے چھٹ جائے پرانا میل
ان کے دست و پا پھر سے ابھر آئیں
چمک اٹھیں لب و رخسار و گردن
جیسے نو آراستہ دولھوں کے دل کی حسرتیں
پھر سے ان خوابوں کو سمت رہ ملے!
“خواب لے لو خواب ـــــــــــ ”
صبح ہوتے ہی چوک میں جا کر لگاتا ہوں صدا ـــــــــ
“خواب اصلی ہیں کہ نقلی”
یوں پرکھتے ہیں کہ جیسے ان سے بڑھ کر
خواب داں کوئی نہ ہو!
خواب گر میں بھی نہیں
صورت گر ثانی ہوں بس ـــــــ
ہاں مگر میری معیشت کا سہارا خواب ہیں!
شام ھو جاتی ہے
میں پھر سے لگاتا ہوں صدا ـــــــ
“مفت لے لو مفت، یہ سونے کے خواب ـــــــــ”
“مفت” سن کر اور ڈر جاتے ہیں لوگ
اور چپکے سے سرک جاتے ہیں لوگ ــــــــــ
“دیکھنا یہ “مفت” کہتا ہے
کوئی دھوکا نہ ہو!
ایسا کوئی شعبدہ پنہاں نہ ہو
گھر پہنچ کر ٹوٹ جائیں
یا پگھل جائیں یہ خواب
بھک سے اڑ جائیں کہیں
یا ہم پہ کوئی سحر کر ڈالیں یہ خواب ـــــــــ
جی نہیں کس کام کے؟
ایسے کباڑی کے یہ خواب
ایسے نابینا کباڑی کے یہ خواب!”
رات ہو جاتی ہے
خوابوں کے پلندے سر پہ رکھ کر
منہ بسورے لوٹتا ہوں
رات بھر پھر بڑبڑاتا ہوں
“یہ لے لو خواب ــــــــ”
اور لے لو مجھ سے ان کے دام بھی
خواب لے لو، خواب ــــــــــ
میرے خواب ـــــــــــ
خواب ـــــــــ میرے خواب ـــــــــ
خو ا ا ا ا ب ــــــــــــ
ان کے د ا ا ا ا م بھی ی ی ی ـــــــــــــ”
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Wednesday, 30 May 2012

آرائشِ خیال بھی ہو دل کشا بھی ہو

آرائشِ خیال بھی ہو دل کشا بھی ہو
وہ درد اب کہاں جسے جی چاہتا بھی ہو
یہ کیا کہ روز ایک سا غم ایک سی امید
اس رنجِ بے خمار کی اب انتہا بھی ہو
یہ کہ ایک طور سے گزرے تمام عمر
جی چاہتا ہے اب کوئی تیرے سوا بھی ہو
ٹوٹے کبھی تو خوابِ شب و روز کا طلسم
اتنے ہجوم میں کوئی چہرہ نیا بھی ہو
دیوانگیء شوق کو یہ دھن ہے کہ ان دِنوں
گھر بھی ہو اور بے درودیوارسا بھی ہو
جز دل کوئی مکان نہیں دہر میں جہاں
رہزن کا خوف بھی نہ رہے درکھلا بھی ہو
ہر ذرہ ایک محملِ عبرت ہے دشت کا
لیکن کسے دکھاوں کوئی دیکھتا بھی ہو
ہر شے پکارتی ہے پس پردہء سکوت
لیکن کسے سناوں کوئی ہم نوا بھی ہو
فرصت میں سن شگفتگیء غنچہ کی صدا
یہ وہ سخن نہیں جو کسی نے کہا بھی ہو
بیٹھا ہے ایک شخص مرے پاس دیر سے
کوئی بھلا سا ہو تو ہمیں دیکھتا بھی ہو
بزم سخن بھی ہو سخنِ گرم کے لیے
طاوس بولتا ہو تو جنگل ہرا بھی ہو
مکمل تحریر اور تبصرے >>

سجنا رے تورے بن جیا مورا ناہیں لاگے


مکمل تحریر اور تبصرے >>

دیار دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا (میڈم)


مکمل تحریر اور تبصرے >>

درد اپنا لکھ نہ پائے انگلیاں جلتی رہیں


مکمل تحریر اور تبصرے >>

Tuesday, 29 May 2012

میں لوگوں سے ملاقاتوں کے لمحے یاد رکھتا ہوں

میں لوگوں سے ملاقاتوں کے لمحے یاد رکھتا ہوں
میں باتیں بھول بھی جاؤں تو لہجے یاد رکھتا ہوں

سر محفل نگاہیں مجھ پے جن لوگوں کی پڑتی ہیں
نگاہوں کے حوالے سے وہ چہرے یاد رکھتا ہوں

ذرا سا ہٹ کے چلتا ہوں زمانے کی روایت سے
کے جن پے بوجھ میں ڈالو وہ کندھے یاد رکھتا ہوں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

بات پھولوں کی سنا کرتے تھے

بات پھولوں کی سنا کرتے تھے
ہم کبھی شعر کہا کرتے تھے

مشعلیں لے کے تمھارے غم کی
ہم اندھیروں میں چلا کرتے تھے

اب کہاں ایسی طبیعت والے
چوٹ کھا کر جو دعا کرتے تھے

ترک احساس محبت مشکل
ہاں مگر اہل وفا کرتے تھے

بکھری بکھری زلفوں والے
قافلے روک لیا کرتے تھے

آج گلشن میں شغف ساغر
شکوے باد صباء سے کرتے تھے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

میری آنکھوں میں امنڈ آیا ہے دریا دل کا

میری آنکھوں میں امنڈ آیا ہے دریا دل کا
پھر کہیں ٹوٹ گیا ہو نا کنارا دل کا

بس محبت سے روایات ہے کہانی دل کی
چار حرفوں سے عبارت ہے فسانہ دل کا

سانس رکتی ہے تو پھر جان کا خیال آتا ہے
دل دھڑکتا ہے تو لگ جاتا ہے دھڑکا دل کا

اسی کوشش میں بہت عمر گنوا دی میں نے
پھر بھی پورا نا ہوا مجھ سے خسارا دل کا

میری پایاب تمنائیں بتاتی ہیں مجھے
سُوکھ جائے گا کچھ روز میں دریا دل کا

بدلی بدلی سی صدا دیتی ہے دھڑکن دل کی
حجر میں اور ہی ہو جاتا ہے لہجہ دل کا

کیوں نا اے دوست ابھی ترک آ محبت کر لیں
اس سے پہلے کے بدل جائے ارادہ دل کا

فکر دنیا میں میرے دل کو بھلانے والے
تیری دنیا سے زیادہ ہے اثاثہ دل کا

عشق کاٹے گا ابھی اور چاہتیں ساغر
عقل دیکھے گی ابھی اور تماشہ دل کا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Friday, 25 May 2012

وہ اوجھل میری نگاہوں سے کہاں رہتا ہے

وہ اوجھل میری نگاہوں سے کہاں رہتا ہے .

وہ اشک بن کر آنکھوں سے رواں رہتا ہے .

کسی لمحے تنہا ہونے نہیں دیتی اسکی یادیں .

میرے آنگن میں میلے کا سامان رہتا ہے .

ہر گھڑی دل کا دریچہ کھلا رکھتے ہیں .

ہر گھڑی اس کے آنے کا گمان رہتا ہے .

لوگ کہتے ہیں زخم بھر جاتے ہیں آخر .

زخم بھر جاتے ہیں لیکن نشان رہتا ہے .

وہ ملے تو اتنا بتا دینا اسکو .

تجھ بن تیرا پیار پریشان رہتا ہے . . . !
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ذہنوں میں خیال جل رہے ہیں Zehnoon mein khyaal jal rahey hain

ذہنوں میں خیال جل رہے ہیں
سوچوں کے الاؤ سے لگے ہیں

دنیا کی گرفت میں ہیں سائے
ہم اپنا وجود ڈھونڈتے ہیں

اب بھوک سے کوئی کیا مریگا
منڈی میں ضمیر بک رہے ہیں

ماضی میں تو صرف دل دکھاتے تھے
اس دور میں ذہن بھی دکھتے ہیں

سر کٹاتے تھے کبھی شایان شان
اب لوگ زبان کاٹتے ہیں

ہم کیسے چھڑائیں شب سے دامن
دن نکلا تو سائے چل پڑے ہیں

لاشوں کے ہجوم میں بھی ہنس دیں
اب ایسے بھی حوصلے کسے ہیں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

زخم بھر جاتے ہیں

زخم بھر جاتے ہیں

ذہنوں سے اُتَر جاتے ہیں

دن گزرتا ہے تو پھر شب بھی گزر جاتی ہے

پھول جس شاخ سے جھڑ جاتے ہیں

مر جاتے ہیں

چند ہی روز میں

اس شاخ پہ آئندہ کے پھولوں کے نگینے سے

ابھر آتے ہیں !

تیرے جانے سے میری ذات کے اندر

جو خلا گونجتا ہے

اک نا اک دن اسے بھر جانا ہے

اک نا اک روز تجھے

میری پھیلی ہوئی ، ترسی ہوئی بانہوں میں

پلٹ آنا ہے !
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Thursday, 24 May 2012

انہی خوش گمانیوں میں کہیں جاں سے بھی نہ جاؤ Inhi khush gumanyoon mein kahin jaan say bhi na jao


انہی خوش گمانیوں میں کہیں جاں سے بھی نہ جاؤ
وہ جو چارہ گر نہیں ہے اسے زخم کیوں دکھاؤ
یہ اداسیوں کے موسم یونہی رائیگاں نہ جائیں
کسی یاد کو پکارو کسی درد کو جگاؤ
وہ کہانیاں ادھوری جو نہ ہو سکیں گی پوری
انہیں میں بھی کیوں سناؤں انہیں تم بھی کیوں سناؤ
یہ جدائیوں کے رستے بڑی دور تک گئے ہیں
جو گیا وہ پھر نہ آیا مری بات مان جاؤ
کسی بے وفا کی خاطر یہ جنوں فراز کب تک
جو تمہیں بھلا چکا ہے اسے تم بھی بھول جاؤ
مکمل تحریر اور تبصرے >>

یا رب غمِ ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتا Ya rab gham-e-hijran mein itna to kia hota


یا رب غمِ ہجراں میں اتنا تو کیا ہوتا
جو ہاتھ جگر پر ہے وہ دستِ دعا ہوتا
اک عشق کا غم آفت اور اس پہ یہ دل آفت
یا غم نہ دیا ہوتا، یا دل نہ دیا ہوتا
غیروں سے کہا تم نے، غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا، کچھ ہم سے سنا ہوتا
امید تو بندھ جاتی، تسکین تو ہو جاتی
وعدہ نہ وفا کرتے، وعدہ تو کیا ہوتا
ناکامِ تمنا دل، اس سوچ میں رہتا ہے
یوں ہوتا تو کیا ہوتا، یوں ہوتا تو کیا ہوتا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

مرا نہیں تو کسی اور کا بنے تو سہی

مرا نہیں تو کسی اور کا بنے تو سہی
کسی بھی طور سے وہ شخص خوش رہے تو سہی
پھر اس کے بعد بچھڑنے ہی کون دے گا اسے 
کہیں دکھائی تو دے وہ کبھی ملے ہی سہی
کہاں کا زعم ترے سامنے انا کیسی
وقار سے ہی جھکے ہم مگر جھکے تو سہی 
جو چپ رہا تو بسا لے گا نفرتیں دل میں
برا بھلا ہی کہے وہ مگر کہے تو سہی
کوئی تو ربط ہو اپنا پرانی قدروں سے 
کسی کتاب کا نسخہ کہیں ملے تو سہی 
دعائے خیر نہ مانگے کوئی کسی کیلئے
کسی کو دیکھ کے لیکن کوئی جلے تو سہی 
جو روشنی نہیں ہوتی نہ ہو بلا سے مگر
سروں سے جبر کا سورج کبھی ڈھلے تو سہی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا


بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا
جو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا
سب کچھ تو ہیں کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں نگاہیں
کیا بات ہے میں وقت پہ گھر کیوں نہیں جاتا
وہ ایک ہی چہرہ تو نہیں سارے جہاں میں
...جو دور ہے وہ دل سے اتر کیوں نہیں جاتا
میں اپنی ہی الجھی ہوئی راہوں کا تماشا
جاتے ہیں جدھر سب میں ادھر کیوں نہیں جاتا
وہ نام جو عرصے سے نہ چہرہ نہ بدن ہے
وہ خواب اگر ہے تو بکھر کیوں نہیں جاتا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

چھوڑو غم کی بات

اب کے دیکھیں راہ تمھاری
بیت چلی ہے رات
چھوڑو
چھوڑو غم کی بات
تھم گئے آنسو
تھک گئیں اکھّیاں
گزر گئی برسات
بیت چلی ہے رات
چھوڑو
چھوڑو غم کی بات
کب سے آس لگی درشن کی
کوئی نہ جانے بات
کوئی نہ جانے بات
بیت چلی ہے رات
چھوڑو غم کی بات
تم آؤ تو من میں اترے
پھولوں کی بارات
بیت چلی ہے رات
اب کیا دیکھیں راہ تمھاری
بیت چلی ہےرات
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Tuesday, 22 May 2012

بچھڑے ہوئے یاروں کی صدا کیوں نہیں آتی

بچھڑے ہوئے یاروں کی صدا کیوں نہیں آتی
اب روز زندان سے ہوا کیوں نہیں آتی

تو اب بھی سلامت ہے سفر میں تو اے مسافر
تیرے لئے ہونٹوں پر دعا کیوں نہیں آتی

ایک پیڑ کے سائے سے ہوا پوچھ رہی ہے
اب دشت میں مخلوق خدا کیوں نہیں آتی

چہروں پہ وہ سرسوں کی دھنک کیا ہوئی یارو
ہاتھوں سے وہ خوشبو حنا کیوں نہیں آتی

بستی میں سبھی لوگ سلامت ہیں تو محسن
آواز کوئی اپنے سوا کیوں نہیں آتی . . . . ؟
مکمل تحریر اور تبصرے >>

لے گا اور کیا ظالم امتحان شیشے کا Lay ga owr kia zalim imtehan sheeshey ka

لے گا اور کیا ظالم امتحان شیشے کا
انگلیوں پہ ہیرے کی، ہے نشان شیشے کا

پتھروں سے ڈرتا ہوں، آندھیوں سے ڈرتا ہوں
جب سے میں نے ڈالا ہے اک مکان شیشے کا

بے کراں سمندر میں مختصر جزیرہ ہے
کشتیاں ہیں پتھر کی، بادبان شیشے کا

اعتزاز یہ بستی سائے کو ترستی ہے
سارے چھت ہیں شیشے کے، سائبان شیشے کا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Monday, 21 May 2012

تو عکس ہے تو کبھی میری چشم تر میں اتر



نیا ہے شہر ، نئے آسرے تلاش کروں
تو کھو گیا ہے ، کہاں اب تجھے تلاش کروں




تو عکس ہے تو کبھی میری چشم تر میں اُتَر
تیرے لیے میں کہاں آئینے تلاش کروں




غزل کہوں ، کبھی سادہ سے خط لکھوں اس کو
اداس دل کے لیے مشغلے تلاش کروں




میرے وجود سے شاید ملے سراغ اسکا
میں خود کو بھی تیرے واسطے تلاش کروں




میں چپ رہوں ، کبھی بے وجہ ہنس پڑوں محسن
اسے گنوا کے عجب حوصلے تلاش کروں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

بچھڑ کے مجھ سے کبھی تو نے

بچھڑ کے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے
ادھورا چاند بھی کتنا اُداس لگتا ہے

یہ وصل کا لمحہ ہے اسے رائیگاں نا سمجھ
کے اس کے بعد وہی دوریوں کا سہارا ہے

کچھ اور دیر نا جھڑتا اداسیوں کا شجر
کسے خبر تیرے سائے میں کون بیٹھا ہے

یہ رکھ - رکھاؤ محبت سکھا گئی اس کو
وہ روٹھ کر بھی مجھے مسکرا کے ملتا ہے

میں کس طرح تجھے دیکھوں نظر جھجھکتی ہے
تیرا بدن ہے کے یہ آئینوں کا دریا ہے

اسے گنوا کے میں زندہ ہوں اسطرح محسن
کے جیسے تیز ہوا میں چراغ جلتاہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

در قفس سے پرے جب ہوا گزرتی ہے



در قفس سے پرے جب صباء گزرتی ہے
کسے خبر کے اسیروں پر کیا گزرتی ہے


تعلق کبھی اس قدر نا ٹوٹے تھے
کے تیری یاد بھی دل سے خفا گزرتی ہے


وہ اب ملے بھی تو ملتا ہے اس طرح جیسے
بجھے چراغوں کو چھو کر ہوا گزرتی ہے


فقیر کب کے گئے جنگلوں کی سمت مگر
گلی سے آج بھی ان کی صدا گزرتی ہے


یہ اہل ہجر کی بستی ہے ، احتیاط سے چل
مصیبتوں کی یہاں انتہا گزرتی ہے


بھنور سے بچ تو گئیں کشتیاں مگر اب کے
دلوں کی خیر کے موج بلا گزرتی ہے


نا پوچھ اپنی انا کی بغاوتیں محسن
در قبول سے بچ کر دعا گزرتی ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

شریک غم ہوا

شریک غم ہوا جو میرے چوٹ کھانے کے بعد
کھو دیا میں نے اسکو پانے کے بعد

مجھے ناز رہا فقط اس عمل پر سدا
اسنے مجھے اپنا مانا آزمانے کے بعد

سنا ہے تڑپ رہا ہے وہ میری وفا کے لیے
شاید پچھتا رہا ہے مجھے ٹھکرانے کے بعد

آج یوں سر راہ اسے نظر جا ملی محسن
وہ رو دیا مجھ سے نظر ملانے کے بعد

کس کس کو دوں یہ الزام بیوفائی کا
ہر کوئی چھوڑ گیا مجھے اپنانے کے بعد
مکمل تحریر اور تبصرے >>

احتجاج خوشبو کا


عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر

ہوا چراغ جلاتی رہی ہتھیلی پر

سنے گا کون مگر احتجاج خوشبو کا

کے سانپ زہر اُگلتا رہا چنبیلی پر

شب فراق میری آنکھ کو تھکن سے بچا

کے نیند وار نا کر دے تیری سہیلی پر

وہ بے وفا تھا تو پھر اتنا مہربان کیوں تھا

بچھڑ کے اس سے میں سوچوں اسی پہیلی پر

جلا نا گھر کا اندھیرا چراغ سے محسن

ستم نا کر یوں میری جان ! اپنے بیلی پر .
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ہر سمت حجر کے طوفان ہیں محسن

ہر سمت غم حجر کے طوفان ہیں محسن
مت پوچھ کے ہم کتنے پریشان ہیں محسن

ہر چہرہ نظر آتا ہے تصویر کی صورت
ہم شہر کے لوگوں سے بھی انجان ہیں محسن

جس شہر محبت نے ہمیں لوٹ لیا ہے
اس شہر سے اب کوچ کے امکان ہیں محسن

کشتی ابھی امید کی ڈوبی تو نہیں ہے
پھر کیوں تیری آنکھوں میں یہ طوفان ہیں محسن .
مکمل تحریر اور تبصرے >>

مرحلے شوق کے

مرحلے شوق کے دشوار ہوا کرتے ہیں
سائے بھی راہ کی دیوار ہوا کرتے ہیں

وہ جو سچ بولتے رہنے کی قسم کھاتے ہیں
وہ عدالت میں گنہگار ہوا کرتے ہیں

صرف ہاتھوں کو نا دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
کچھ سوالی بڑے خودار ہوا کرتے ہیں

وہ جو پتھر یونہی رستے میں پڑے رہتے ہیں
ان کے سینے میں بھی شاہکا ر ہوا کرتے ہیں

صبح کی پہلی کرن جن کو رلا دیتی ہے
وہ ستاروں کے ازادار ہوا کرتے ہیں

جن کی آنکھوں میں صدا پیار کے صحرا چمکیں
در حقیقت وہی فنکار ہوا کرتے ہیں

شرم آتی ہے دشمن کسے سمجھیں محسن
دشمنی کے بھی کچھ معیار ہوا کرتے ہیں . . . !
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ہم انا مست تہی دست بہت ہیں محسن

آج گم سم ہے جو برباد جزیروں جیسی ،
اس کی آنکھوں میں چمک تھی کبھی ہیروں جیسی

کتنے مغرور پہاڑوں کے بدن چاک ہوئے ،
تیز کرنوں کی جو بارش ہوئی تیروں جیسی

جس کی یادوں سے خیالوں کے خزانے دیکھے ،
اسکی صورت بھی لگی آج فقیروں جیسی

چاہتیں لب پہ مچلتی ہوئی لڑکی کی طرح ،
حسرتیں آنکھ میں زندان کے اسیروں جیسی

ہم انا مست ، تہی دست بہت ہیں محسن ،
یہ الگ بات کے عادت ہے امیروں جیسی . . . !
مکمل تحریر اور تبصرے >>

بہار رَت میں اجاڑ راستے

بہار رُت میں اجاڑ راستے ،
تکا کرو گے تو رو پڑو گے …

کسی سے ملنے کو جب بھی محسن ،
سجا کرو گے تو رو پڑو گے … .

تمھارے وعدوں نے یار مجھ کو ،
تباہ کیا ہے کچھ اس طرح سے …

کے زندگی میں جو پھر کسی سے ،
دغا کرو گے تو رو پڑو گے …

میں جانتا ہوں میری محبت ،
اجاڑ دے گی تمہیں بھی ایسی …

کے چاند راتوں میں اب کسی سے ،
ملا کرو گے تو رو پڑو گے …

برستی بارش میں یاد رکھنا ،
تمہیں ستائیں گی میری آنکھیں …

کسی ولی کے مزار پر جب
دعا کرو گے تو رو پڑو گے . . . !
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Sunday, 20 May 2012

چلو محسن محبت کی نئی بنیاد رکھتے ہیں

چلو محسن محبت کی نئی بنیاد رکھتے ہیں ،
خود پابند رہتے ہے اسے آزاد رکھتے ہیں ،

ہمارے خون میں رب نے یہی تاثیر رکھی ہے ،
برائی بھول جاتے ہے اچھائی یاد رکھتے ہیں ،

محبت میں کہیں ہم سے گستاخی نا ہو جائے ،
ہم اپنا ہر قدم اس کے قدم کے بعد رکھتے ہیں . . .
مکمل تحریر اور تبصرے >>

محبت ہے


دعاؤں میں کسی کا ہر گھڑی ہونا محبت ہے

کسی کی یاد کی چادر تلے سونا محبت ہے

کبھی رنگین راتوں میں اشک برسانا محبت ہے

کبھی بھلائے ہوئے کا لوٹ کر آنا محبت ہے

کسی کا خون بن کے جسم میں بہنا محبت ہے

اور اس جیون کا سب سے قیمتی گہنا . . .

محبت ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

بات ہی عجب تھی

بات ہی عجب سی تھی
روح اگر نا دیتا تو
سانس دینی پڑتی تھی
دل اگر نا دیتا تو
جان دیتی دینی پڑتی تھی
پھر بتاؤ کیا کرتا ؟
روح کو بچانے میں
سانس وار دی میں نے
اور کیا کہوں دل کی
جان ہار دی میں نے !
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Friday, 18 May 2012

میں نے اس طور سے تجھے چاہا

میں نے اس طور سے تجھے چاہا اکثر
جیسے مہتاب کو بے انت سمندر چاہے
جیسے سورج کی کرن سیپ کے دل میں اترے
جیسے خوشبو کو ہوا رنگ سے ہٹ کر چاھے
جیسے پتھر کے کلیجے سے کرن پھوٹی ہے
جیسے غنچے کھلے موسم سے حنا مانگتے ہیں
جیسے خوابوں میں خیالوں کی کماں ٹوٹتی ہے
جیسے بارش کی دعا آبلہ پا مانگتے ہیں
میرا ہر خواب میرے سچ کی گواہی دے گا
وسعت  دید نے تجھ سے تیری کشش کی ہے
میری سوچوں میں کبھی دیکھ سراپا اپنا
میں نے دنیا سے الگ تیری پرستش کی ہے . .
مکمل تحریر اور تبصرے >>

میں اس دن لوٹ آؤں گا

سنو تم نے کہا تھا نا ! !
مجھے جذبہ محبت سے کبھی جو تم پکارو گی
میں اس دن لوٹ آؤں گا ! !
تو دیکھو نا ! !
کئی لمحوں
کئی سالوں
کئی صدیوں
سے تیرا رستہ تکتی
یہ میری منتظر آنکھیں
میرے دل کی یہ دھڑکن اور سانسیں
بس تمہارا نام لیتی ہیں
وہی اک ورد کرتی ہیں
میری آنکھوں کے ساحل پر
تیری خواہش کی موجوں نے
بڑی ہلچل مچائی ہے
تیری تصویر ، سوکھے پھول اور تحفے !
تیری چاہت کی خوشبو میں
ابھی تک سانس لیتے ہیں
وہ سب رستے کے جن پر تم ہمارے ساتھ چلتے تھے
وہ سب رستے جہاں تیری ہنسی کے پھول کھلتے تھے
جہاں پیڑوں کی شاخوں پر
ہم اپنا نام لکھتے تھے
اُداسی سے بھرے منظر
تمھارے لوٹ کر آنے کی امیدیں دلاتے ہیں
سنو کچھ بھی نہیں بدلہ
تمھارے پاؤں کی آواز سننے کی
میرے کمرے کی بے ترتیب چیزیں منتظر ہیں
سنو ! ! !
تکمیل پاتی چاہتوں کو یوں ادھورہ تو نہیں چھوڑو
مجھے مت آزماؤ تم
چلو اب لوٹ آؤ تم . . . !
مکمل تحریر اور تبصرے >>

میں نے دیکھا تھا ان دنوں مین اسے

میں نے دیکھا تھا ان دنوں میں اُسے …
جب وہ کھلتے گلاب جیسا تھا … .
اس کی پلکوں سے نیند چھنٹتی تھی …
اس کا لہجہ شراب جیسا تھا …
اس کی زلفوں سے بھیگتی تھی گھٹا …
اس کا رخ مہتاب جیسا تھا
لوگ پڑتے تھے خد و خال اس کے
وہ ادب کی کتاب جیسا تھا …
بولتا تھا زبان خوشبو کی …
لوگ سنتے تھے دھڑکنوں میں اُسے …
میں نے دیکھا تھا ان دنوں میں اُسے
ساری آنکھیں تھیں آئینے اس کے . .
سارے چہروں میں انتخاب تھا وہ !
سب سے گُھل مل کے اجنبی رہنا
ایک دریا نما سراب تھا وہ …
خواب یہ ہے وہ حقیقت تھا
یہ حقیقت ہی کوئی خواب تھا وہ …
دل کی دھرتی پے آسْمان کی طرح …
صورت سایہ و صحاب تھا وہ . .
اپنی نیندیں اس کی نظر ہوئیں
میں نے پایا تھا رتجگوں میں اسے
میں نا دیکھا تھا ان دنوں میں اسے
جب وہ ہنس ہنس کے بات کرتا تھا
دل کے خیمے میں رات کرتا تھا
رنگ پڑتے تھے آنچلوں میں اُسے
میں نے دیکھا ہے ان دنوں میں اسے
یہ مگر دیر کی کہانی ہے
یہ مگر دور کا فسانہ ہے
اس کے میرے ملاپ میں حائل
اب تو صدیوں بھرا زمانہ ہے
اب یوں ہی کے حل اپنا بھی
داشتہ ہجراں کی شام جیسا ہے
کیا خبر ان دنوں من وہ کیسا ہے
میں نے دیکھا تھا ان دنوں میں اُسے
جب وہ کھلتے گلاب جیسا تھا
میں نے دیکھا تھا ان دنوں میں اُسے . . . !
مکمل تحریر اور تبصرے >>

دل بھی پریشاں ہے سرابوں سے نکل کر

سینے سے لپٹ جا میرے خوابوں سے نکل کر
اک بار ملیں ہم بھی حجابوں سے نکل کر


کرنوں کی طرح بانٹ زمانے میں اجالا
خوشبو کی طرح پھیل گلابوں سے نکل کر


مے خانوں کی صورت ہیں تیری جھیل سی آنکھیں
ڈوبے ہیں جہاں لوگ شرابوں سے نکل کر


مجھ کو بھی گوارہ نہیں اب تجھ سے بچھڑنا
دل بھی پریشان سرابوں سے نکل کر


رہنے دو ابھی گردش دوراں میں ہے محسن
بہلے گی طبیعت نئے عذابوں سے نکل کر . . . !
مکمل تحریر اور تبصرے >>

محبت جاگ جاتی ہے

سنو اے چاند سی لڑکی
ابھی تم کہہ رہی تھی نا
تمہیں مجھ سے محبت ہو نہیں سکتی
چلو مانا کے یہ سچ ہے
مگر اے چاند سی لڑکی
مجھے اتنا بتاؤ تم
کے جب موسم بدلتے ہیں
گلوں میں رنگ بھرتے ہیں
تو پھر کیوں مضطرب ہو کر
اکیلے پن سے گھبرا کر
ہوا کو راز دیتی ہو
مجھے آواز دیتی ہو
سنو اے چاند سی لڑکی
تمھارے سامنے کوئی میرا جب نام لیتا ہے
تو پھر کیوں چونک جاتی ہو
چلو مانا تمہیں مجھ سے محبت ہو نہیں سکتی
مگر اتنا سمجھ لو تم
جہاں چاہت نہیں ہوتی
وہاں نفرت کے ہونے کا کوئی امکان نہیں ہوتا
میرا دوا ہے چاہت میں
جہاں نفرت نہیں ہوتی
وہاں اکسر یہ دیکھا ہے
اگر کچھ وقت کٹ جائے
سمے کی دھول جھٹ جائے
تو وحشت بھاگ جاتی ہے
محبت جاگ جاتی ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

محبت تول دی اس نے

میرے اصرار پر آخر ،
بہت مجبور ہو کر آج .
مجھے اپنی نگاہوں کی ،
اداسی سونپ دی اس نے .
بہت بے بس ،
بہت تنہا ،
بہت بکھری محبت کی .
حقیقت کھول دی اس نے .
خلش جو اس کے دل میں تھی ،
وہ اب میری امانت ہے .
شکستہ لہجے کی جتنی ،
تھکن تھی ،
بول دی اس نے .
میری خاطر مجھے اپنی ،
محبت کہہ نہیں پائی .
مگر آج اپنے آنسوؤں سے ،
محبت تول دی اس نے .
حقیقت کھول دی اس نے .
مکمل تحریر اور تبصرے >>

تم مشرق میں مغرب ہوں

چلو یہ فرض کرتے ہیں
کے تم مشرقِ ، میں مغرب ہوں

چلو یہ مان لیتے ہیں
بڑا لمبا سفر ہے یہ !

مگر یہ بھی حقیقت ہے تمہاری ذات کا سورج
بہت سا رستہ چل کر ، میری ہستی میں ڈوبے گا ! !
مکمل تحریر اور تبصرے >>

تم دوسری ہو

سنا ہے
زمین پر وہی لوگ ملتے ہیں …
جن کو
کبھی آسمانوں کے اس پار
راہوں کے میلے میں
ایک دوسرے کی محبت ملی ہو
مگر تم . . .
کے میرے لیے نفرتوں کے اندھیرے میں
ہنستی ہوئی روشنی ہو
لہو میں رچی
رگوں میں بسی ہو
ہمیشہ سکوت شب غم میں آواز جان بن کے
چاروں طرف گونجتی ہو
اگر آسمان کے اس پار
راہوں کے میلے میں بھی مل چکی ہو
تو پھر اس زمین پر
میری چاہتوں کے کھلے موسموں سے گریزاں
میری دھوپ چھاؤں سے
کیوں اجنبی ہو . . ؟ ؟ ؟
کتابوں میں لکھی ہوئی
اور کانوں سنی
ساری باتیں غلط ہیں . . . ؟ ؟ ؟
کے تم دوسری ہو . . . ؟ ؟
مکمل تحریر اور تبصرے >>

چند لمحوں کے لئے اپنی نظر دے جانا

تم نا آؤ مجھے میری خبر دے جانا
ڈھونڈھ کر مجھ کو کہیں سے میرے گھر دے جانا

بے وفائی کا تمہاری مجھے دینا ہے جواب
چند لمحوں کے لیے اپنی نظر دے جانا

ان اندھیروں میں مجھے بے تو سفر کرنا ہے
میری راتوں کو بے امید سحر دے جانا

پار اُتَرْنا ہے مجھے ٹوٹی ہوئے کشتی پر
تم اگر چاہو تو دریا کو بھنور دے جانا

منزلوں کا تو کوئی شوق نہیں ہے مجھ کو
چلتے رہنے کے لیے رہگزر دے جانا . . . !
مکمل تحریر اور تبصرے >>

پر آسائش غم کا شکریہ

پرآسائش غم کا شکریہ ، کیا تجھے آگہی نہیں
تیرے بغیر زندگی درد ہے ، زندگی نہیں

دور تھا کے گزر گیا ، نشہ تھا ایک اُتَر گیا
اب وہ مقام ہے جہاں شکوہ بیرخی نہیں

تیرے سوا کروں پسند کیا تیری کائنات میں
دونوں جہاں کی نعمتیں ، قیمت بندگی نہیں

لاکھ زمانہ ظلم ڈھائے ، وقت نا وہ خدا دکھائے
جب مجھے ہو یقین کے تو حاصل زندگی نہیں

دل کی شگفتگی کے ساتھ راحت مےکدہ گئی
فرصت مہ کشی تو ہے ، حسرت مہ کشی گئی

زخم پے زخم کھاکے جی ، اپنے لہو کے گھونٹ پی
آہ نا کر ، لبوں کو سی ، عشق ہے دل لگی نہیں

دیکھ کے خشک و زرد پھول ، دل ہے کچھ اس طرح ملول
جیسے تیری خزاں کے بعد ، دور بہار ہی نہیں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

یوں نا مل مجھ سے خفا ہو جیسے Yun nan mil mujh sey khafa ho jaisey

یوں نا مل مجھ سے خفا ہو جیسے
ساتھ چل موج صباء ہو جیسے

لوگ یوں دیکھ کر ہنس دیتے ہیں
تو مجھے بھول گیا ہو جیسے

عشق کو شرک کی حد تک نا بڑھا
یوں نا مل ہم سے خدا ہو جیسے

موت بھی آئی تو اس ناز کے ساتھ
مجھ پے احسان کیا ہو جیسے

ایسے انجان بنے بیٹھے ہو
تم کو کچھ بھی نا پتہ ہو جیسے

ہچکیاں رات کو آتی ہی رہیں
تو نے پھر یاد کیا ہو جیسے

زندگی بیت رہی ہے " دانش "
ایک بے جرم سزا ہو جیسے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

اب کے یوں دل کو سزا دی ہم نے


اب کے یوں دل کو سزا دی ہم نے
اس کی ہر بات بھلا دی ہم نے
ایک ، ایک پھول بہت یاد آیا
شاخ گل جب وہ جلا دی ہم نے
آج تک جس پے وہ شرماتے ہیں
بات وہ کب کی بھلا دی ہم نے
شہر جہاں راکھ سے آباد ہوا
آگ جب دل کی بجھا دی ہم نے
آج پھر یاد بہت آیا وہ
آج پھر اس کو دعا دی ہم نے
کوئی تو بات ہے اس میں فیض
ہر خوشی جس پے لٹا دی ہم نے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

زندگی کو نہ بنا لیں وہ سزا میرے بعد

زندگی کو نہ بنا لیں وہ سزا میرے بعد
حوصلہ دینا اُنہیں میرے خدا میرے بعد

ہاتھ اُٹھتے ھوئے اُن کے نہ کوئی دیکھے گا
کس کے آنے کی کریں گے وہ دُعا میرے بعد

کون گھونگھٹ کو اُٹھا ئے گا ستم گر کہ کر
اور پھر کس سے کریں گے وہ حیاء میرے بعد

پھر زمانے میںمحبت کی نہ پُر سش ھو گی
روئے گی سسکیاں لے کے وفا میرے بعد

وہ جو کہتا تھا کہ ناصر کہ لیے جیتا ھوں
اُس کا کیا جانیے کیا حال ھوا میرے بعد
مکمل تحریر اور تبصرے >>

آ کے سجادہ نشیں قیس ہوا میرے بعد



آ کے سجّادہ نشیں قیس ہوا میرے بعد
نہ رہی دشت میں خالی کوئی جا میرے بعد

چاک کرنا ہے اسی غم سے گریبانِ کفن
کون کھولے گا ترے بندِ قبا میرے بعد

وہ ہوا خواہِ چمن ہوں کہ چمن میں ہر صبح
پہلے میں جاتا تھا اور بادِ صبا میرے بعد

منہ پہ رکھ دامنِ گل روئیں گے مُرغانِ چمن
ہر روِش خاک اڑائے گی صبا میرے بعد

تیز رکھنا سرِ ہر خار کو اے دشتِ جنوں
شاید آ جائے کوئی آبلہ پا میرے بعد

تہِ شمشیر یہی سوچ ہے مقتل میں مجھے
دیکھیے اب کسے لاتی ہے قضا میرے بعد

بعد مرنے کے مری قبر پہ آیا وہ میر
یاد آئی مرے عیسٰی کو دوا میرے بعد

مکمل تحریر اور تبصرے >>