Pages

Subscribe:

Sunday, 25 November 2012

یہ خوں کی مہک ہے کہ لبِ یار کی خوشبو Yey khoon ki mehek hai keh lab-e-yaar ki khusboo


یہ خوں کی مہک ہے کہ لبِ یار کی خوشبو
کس راہ کی جانب سے صبا آتی ہے دیکھو
گلشن میں بہار آئی کہ زنداں ہُوا آباد
کِس سمت سے نغموں کی صدا آتی ہے دیکھو
دستِ تہِ سنگ آمدہ
بیزار فضا، در پئے آزارِ صبا ہے
یوں ہے کہ ہر اک ہمدمِ دیرینہ خفا ہے
ہاں بادہ کشو آیا ہے اب پہ موسم
اب سیر کے قابل روشِ آب و ہوا ہے
اُمڈی ہے ہر اک سمت سے الزام کی برسات
چھائی ہوئی ہر دانگ ملامت کی گھٹا ہے
وہ چیز بھری ہے کہ سلگتی ہے صراحی
ہر کاسہ ہے زہرِ  ہلاہل سے سوا ہے
ہاں جام اٹھاؤ کہ بیادِ لبِ شیریں
یہ زہر تو یاروں نے کئی بار پیا ہے
اس جذبۂ دل کی نہ سزا ہے نہ جزا ہے
مقصود رہِ شوق وفا ہے نہ جفا ہے
احساسِ غمِ دل جو غمِ دل کا صلا ہے
اس حسن کا احساس ہے جو تیری عطا ہے
ہر صبح گلستاں ہے ترا روئے بہاریں
ہر پھول تری یاد کا نقشِ کفِ پا ہے
ہر بھیگی ہوئی رات تری زلف کی شبنم
ڈھلتا ہوا سورج ترے ہونٹوں کی فضا ہے
ہر راہ پہنچتی ہے تری چاہ کے در تک
ہر حرف تمنّا ترے قدموں کی صدا ہے
تعزیر سیاست ہے، نہ غیروں کی خطا ہے
وہ ظلم جو ہم نے دلِ وحشی پہ کیا ہے
زندانِ  رہِ یار میں پابند ہوئے ہم
زنجیر بکف ہے، نہ کوئی بند بپا ہے
’’مجبوری و دعویٰ گرفتاریِ الفت
دستِ تہِ سنگ آمدہ پیمانِ وفا ہے‘‘
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Monday, 19 November 2012

زندان نامہ کی ایک شام Zindan naama ki aik sham

زندان نامہ کی ایک شام
شام کے پیچ و خم ستاروں سے
زینہ زینہ اُتر رہی ہے رات
یوں صبا پاس سے گزرتی ہے
جیسے کہہ دی کسی نے پیار کی بات
صحنِ زنداں کے بے وطن اشجار
سرنگوں، محو ہیں بنانے  میں
دامنِ آسماں پہ نقش و نگار
شانہ بام پر دمکتا ہے
مہرباں چاندنی کا دست جمیل
خاک میں گھُل گئی ہے آب نجوم
نُور میں گھُل گئی ہے عرش کا نیل
سبز گوشوں میں نیلگوں سائے
لہلہاتے ہیں جس طرح دل میں
موجِ دردِ فراقِ یار آئے
دل سے پیہم خیال کہتا ہے
اتنی شیریں ہے زندگی اس پل
ظلم کا زہر گھولنے والے
کامراں ہوسکیں  گے آج نہ کل
جلوہ گاہِ وصال کی شمعیں
وہ بجھا بھی چکے اگر تو کیا
چاند کو گُل کریں تو ہم جانیں
سبزہ سبزہ سوکھ رہی ہے پھیکی زرد دوپہر
دیواروں کو چاٹ رہا ہے تنہائی کا زہر
دور افق تک گھٹتی،بڑھتی،اٹھتی،گرتی رہتی ہے
کہر کی صورت بے رونق دردوں کی گدلی لہر
بستا ہے اِس کُہر کے پیچھے روشنیوں کا شہر
     اے روشنیوں کے شہر
     اے روشنیوں کے شہر
کون کہے کس سمت ہے تیری روشنیوں کی راہ
ہر جانب بے نور کھڑی ہے ہجر کی شہر پناہ
تھک کر ہر سُو بیٹھ رہی ہے شوق کی ماند سپاہ
     آج مرا دل فکر میں ہے
     اے روشنیوں کے شہر
شبخوں سے منہ پھیر نہ جائے ارمانوں کی رو
خیر ہو تیری لیلاؤں کی،ان سب سے کہہ دو
آج کی شب جب دیئے جلائیں اونچی رکھیں لو
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Monday, 12 November 2012

کبھی یاد آؤ تو اس طرح

کبھی یاد آؤ تو اس طرح
کہ لہو کی ساری تمازتیں
تمہیں دھوپ دھوپ سمیٹ لیں
تمہں رنگ رنگ نکھار دیں
تمہیں حرف حرف میں سوچ لیں
تمہیں دیکھنے کا جو شوق ہو
تو دیارِ ہجر کی تیرگی کو
مژہ کی نوک سے نوچ لیں
کبھی یاد آؤ تو اس طرح
کہ دل و نظر میں اُتر سکو
کبھی حد سے حبسِ جنوں بڑ ہے
تو حواس بن کے بکھر سکو
کبھی کھِل سکو شبِ وصل میں
کبھی خونِ جگر میں سنور سکو
سرِ رہگزر جو ملو کبھی
نہ ٹھہر سکو نہ گزر سکو
مرا درد پھر سے غزل بنے
کبھی گنگناؤ تو اس طرح
مرے زخم پھر سے گلاب ہوں
کبھی مسکراؤ تو اس طرح
مری دھڑکنیں بھی لرز اٹھیں
کبھی چوٹ کھاؤ تو اس طرح
جو نہیں تو پھر بڑے شوق سے
سبھی رابطے سبھی ضابطے
کسی دھوپ چھاؤں میں توڑ دو
نہ شکستِ دل کا ستم سہو
نہ سنو کسی کا عذابِ جاں
نہ کسی سے اپنی خلش کہو
یونہی خوش پھرو، یونہی خوش رہو
نہ اُجڑ سکیں ، نہ سنور سکیں
کبھی دل دُکھاؤ تو اس طرح
نہ سمٹ سکیں ، نہ بکھر سکیں
کبھی بھول جاؤ تو اس طرح
کسی طور جاں سے گزر سکیں
کبھی یاد آؤ تو اس طرح!!!!!!
کبھی یاد آؤ تو اس طرح!!!!!!
مکمل تحریر اور تبصرے >>

کب تلک شب کے اندھیرے میں شہر کو ترسے

کب تلک شب کے اندھیرے میں شہر کو ترسے
وہ مسافر جو بھرے شہر میں گھر کو ترسے
آنکھ ٹھہرے ہوئے پانی سے بھی کتراتی ہے
دل وہ راہرو کہ سمندر کے سفر کو ترسے
مجھ کو اس قحط کے موسم سے بچا ربِ سخن
جب کوئی اہلِ ہُنر عرضِ ہُنر کو ترسے
اب کے اس طور مسلط ہوا اندھیرا ہر سُو
ہجر کی رات میرے دیدۂ تر کو ترسے
عمر اتنی تو میرے فن کو عطا کر خالق
میرا دشمن میرے مرنے کی خبر کو ترسے
اس کو پا کر بھی اسے ڈھونڈ رہی ہیں آنکھیں
جیسے پانی میں کوئی سیپ گُہر کو ترسے
ناشناسائی کے موسم کا اثر تو دیکھو
آئینہ خال و خدِ آئینہ گر کو ترسے
ایک دنیا ہے کہ بستی ہے تری آنکھوں میں
وہ تو ہم تھے جو تری ایک نظر کو ترسے
شورِ صرصر میں جو سر سبز رہی ہے محسن
موسمِ گُل میں وہی شاخ ثمر کو ترسے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

چاندنی رات میں اس پیکرِ سیماب کے ساتھ

چاندنی رات میں اس پیکرِ سیماب کے ساتھ
میں بھی اُڑتا رہا اک لمحۂ بے خواب کے ساتھ
کس میں ہمت ہے کہ بدنام ہو سائے کی طرح
کون آوارہ پھرے جاگتے مہتاب کے ساتھ
آج کچھ زخم نیا لہجہ بدل کر آئے
آج کچھ لوگ نئے مل گئے احباب کے ساتھ
سینکڑوں ابر اندھیرے کو بڑھائیں گے لیکن
چاند منسوب نہ ہو کرمکِ شبِ تاب کے ساتھ
دل کو محروم نہ کر عکسِ جنوں سے محسن
کوئی ویرانہ بھی ہو قریۂ شاداب کے ساتھ
مکمل تحریر اور تبصرے >>

اِتنی مُدّت بعد ملے ہو

اِتنی مُدّت بعد ملے ہو
کن سوچوں میں گم رہتے ہو؟
اِتنے خائف کیوں رہتے ہو؟
ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو
تیز ہَوا نے مجھ سے پوچھا
ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو؟
کاش کوئی ہم سے بھی پوچ ہے
رات گئے تک کیوں جاگے ہو؟
میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں
تم دریا سے بھی گہرے ہو!
کون سی بات ہے تم میں ایسی
اِتنے اچھّے کیوں لگتے ہو؟
پیچھے مڑ کر کیوں دیکھا تھا
ّپتھر بن کر کیا تکتے ہو
جاؤ جیت کا جشن مناؤ!
میں جھوٹا ہوں، تم سچّے ہو
اپنے شہر کے سب لوگوں سے
میری خاطر کیوں اُلجھے ہو؟
کہنے کو رہتے ہو دل میں!
پھر بھی کتنے دُور کھڑے ہو
رات ہمیں کچھ یاد نہیں تھا
رات بہت ہی یاد آئے ہو
ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصّے
اپنی کہو اب تم کیسے ہو؟
محسن تم بدنام بہت ہو
جیسے ہو، پھر بھی اچھّے ہو
مکمل تحریر اور تبصرے >>

یہ دل یہ پاگل دل میرا کیاں بجھ گیا! آوارگی

یہ دل یہ پاگل دل میرا کیاں بجھ گیا! آوارگی
اس دشت میں اک شہر تھا، وہ کیا ہوا؟ آوارگی
کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا
میں نے کہا! تُو کون ہے ؟ اُس نے کہا! آوارگی
اک اجنبی جھونکے نے جب پوچھا میرے غم کا سبب
صحرا کی بھیگی ریت پر میں نے لکھا! آوارگی
یہ درد کی تنہائیاں یہ دشت کا ویراں سفر
ہم لوگ تو اُکتا گئے ، اپنی سُنا! آوارگی
کل رات تنہا چاند کو دیکھا تھا میں نے خواب میں
محسن مجھے راس آئے گی شاید سدا آوارگی
یہ دل یہ پاگل دل میرا کیاں بجھ گیا! آوارگی
اس دشت میں اک شہر تھا، وہ کیا ہوا؟ آوارگی
کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا
میں نے کہا! تُو کون ہے ؟ اُس نے کہا! آوارگی
اک اجنبی جھونکے نے جب پوچھا میرے غم کا سبب
صحرا کی بھیگی ریت پر میں نے لکھا! آوارگی
یہ درد کی تنہائیاں یہ دشت کا ویراں سفر
ہم لوگ تو اُکتا گئے ، اپنی سُنا! آوارگی
کل رات تنہا چاند کو دیکھا تھا میں نے خواب میں
محسن مجھے راس آئے گی شاید سدا آوارگی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

بھری بہار میں اب کے عجیب پھول کھلے

بھری بہار میں اب کے عجیب پھول کھلے
نہ اپنے زخم ہی مہکے ، نہ دل کے چاک سلے
کہاں تلک کوئی ڈھونڈے مسافروں کا سراغ
بچھڑنے والوں کا کیا ہے ، ملے ملے نہ ملے
عجیب قحط کا موسم تھا اب کے بستی میں
کیے ہیں بانجھ زمینوں سے بارشوں نے گِلے
یہ حادثہ سرِ ساحل رُلا گیا سب کو
بھنور میں ڈوبنے والوں کے ہاتھ بھی نہ ملے
سناں کی نوک، کبھی شاخِ دار پہ محسن
سخنوروں کو ملے ہیں مشقتوں کے صلے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

بہار کیا، اب خزاں بھی مجھ کو گلے لگائے تو کچھ نہ پائے


بہار کیا، اب خزاں بھی مجھ کو گلے لگائے تو کچھ نہ پائے
میں برگِ صحرا ہوں ، یوں بھی مجھ کو ہَوا اُڑائے تو کچھ نہ پائے
میں پستیوں میں پڑا ہوا ہوں، زمیں کے ملبوس میں جڑا ہوں
مثالِ نقشِ قدم پڑا ہوں، کوئی مٹائے ، تو کچھ نہ پائے
تمام رسمیں ہی توڑ دی ہیں، کہ میں نے آنکھیں ہی پھوڑ دی ہیں
زمانہ اب مجھ کو آئینہ بھی، مرا دکھائے تو کچھ نہ پائے
عجیب خواہش ہے میرے دل میں، کبھی تو میری صدا کو سن کر
نظر جھکائے تو خوف کھائے ، نظر اُٹھائے تو کچھ نہ پائے
میں اپنی بے مائیگی چھپا کر، کواڑ اپنے کھلے رکھوں گا
کہ میرے گھر میں اداس موسم کی شام آئے تو کچھ نہ پائے
تو آشنا ہے نہ اجنبی ہے ، ترا مرا پیار سرسری ہے
مگر یہ کیا رسمِ دوستی ہے ، تو روٹھ جائے تو کچھ نہ پائے ؟
اُسے گنوا کر پھر اس کو پانے کا شوق دل میں تو یوں ہے محسن
کہ جیسے پانی پہ دائرہ سا، کوئی بنائے تو کچھ نہ پائے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں


یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں،
جب آنکھ میں خواب دمکتے تھے
جب دل میں داغ چمکتے تھے
جب پلکیں شہر کے رستوں میں
اشکوں کا نور لٹاتی تھیں،
جب سانسیں اجلے چہروں کی
تن من میں پھول سجاتی تھیں
جب چاند کی رم جھم کرنوں سے
سوچوں میں بھنور پڑ جاتے تھے
جب ایک تلاطم رہتا تھا !
اپنے بے انت خیالوں میں
ہر عہد نبھانے کی قسمیں
خط، خون سے لکھنے کی رسمیں
جب عام تھیں ہم دل والوں میں
اب اپنی اجڑی آنکھوں میں
جتنی روشن سی راتیں ہیں،
اس عمر کی سب سوغاتیں ہیں
جس عمر کے خواب خیال ہوئے
وہ پچھلی عمر تھی بیت گئی
وہ عمر بتائے سال ہوئے
اب اپنی دید کے رستے میں
کچھ رنگ ہے گزرے لمحوں کا
کچھ اشکوں کی باراتیں ہیں،
کچھ بھولے بسرے چہرے ہیں
کچھ یادوں کی برساتیں ہیں
پچھلے عشق کی باتیں ہیں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ذکرِ شبِ فراق سے وحشت اسے بھی تھی

ذکرِ شبِ فراق سے وحشت اسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا
رستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی
اس رات دیر تک وہ رہا محوِ گفتگو
مصروف میں بھی کم تھا فراغت اسے بھی تھی
سنتا تھا میں بھی سب سے پرانی کہانیاں
تازہ رفاقتوں کی ضرورت اسے بھی تھی
مجھ سے بچھڑ کے شہر میں گھل مل گیا وہ شخص
حالانکہ شہر بھر سے رقابت اسے بھی تھی
وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا
ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Friday, 9 November 2012

کيا سناتا ہے مجھے ترک و عرب کي داستاں

کيا سناتا ہے مجھے ترک و عرب کي داستاں
مجھ سے کچھ پنہاں نہيں اسلاميوں کا سوز و ساز

لے گئے تثليث کے فرزند ميراثِ خليل

! خشتِ بنيادِ کليسا بن گئي خاکِ حجاز

! ہوگئي رسوا زمانے ميں کلاہِ لالہ رنگ
 
! جو سراپا ناز تھے، ہيں آج مجبورِ نياز

لے رہا ہے مے فروشانِ فرنگستاں سے پارس

وہ مےء سرکش، حرارت جس کي ہے مينا گداز

حکمتِ مغرب سے ملت کي يہ کيفيت ہوئي

ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کر ديتا ہے گاز

ہوگيا مانندِ آب ارزاں مسلماں کا لہو

مضطرب ہے تو کہ تيرا دل نہيں دانائے راز
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Sunday, 4 November 2012

ابھی کیا کہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی کیا سنیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

ابھی کیا کہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی کیا سنیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

ابھی کیا کہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی کیا سنیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
کہ سر ِ فصیل ِ سکوت ِ جاں
کف ِ روز و شب پہ شرر نما
وہ جو حرف حرف چراغ تھا
اسے کس ہوا نے بجھا دیا ؟
کبھی لب ہلیں گے تو پوچھنا!
سر ِ شہر ِ عہد ِ وصال ِ دل
وہ جو نکہتوں کا ہجوم تھا
اسے دست ِ موج ِ فراق نے
تہ ِ خاک کب سے ملا دیا ؟
کبھی گل کھلیں گے تو پوچھنا!
ابھی کیا کہیں ۔۔۔ ابھی کیا سنیں؟
یونہی خواہشوں کے فشار میں
کبھی بے سبب ۔۔۔ کبھی بے خلل
کہاں، کون کس سے بچھڑ گیا ؟
کسے ، کس نے کیسے بھلا دیا ؟
کبھی پھر ملیں گے تو پوچھنا۔۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>

میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں

میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں
جیسے ماہتاب کو انت سمندر چاہے
جیسے سورج کی کرن سیپ کے دل میں اترے
جیسے خوشبو کا ہوا رنگ سے ہٹ کر چاہے
جیسے پتھر کے کلیجے سے کرن پھوٹتی ہے
جیسے غنچے کھلے موسم سے حنا مانگتے ہیں
جیسے خوابوں میں خیالوں کی کماں ٹوٹتی ہے
جیسے بارش کی دعا آبلہ با مانگتے ہیں
میرا ہر خواب مرے سچ کی گواہی دے گا
وسعتِ دید نے تجھ سے تری خواہش کی ہے
میری سوچوں میں کبھی دیکھ سراپا اپنا
میں نے دنیا سے الگ تیری پرستش کی ہے
خواہشِ دید کا موسم کبھی ہلکا جو ہوا
نوچ ڈالی ہیں زمانوں کی نقابیں میں نے
تیری پلکوں پہ اترتی ہوئی صبحوں کے لئے
توڑ ڈالی ہیں ستاروں کی طنابیں میں نے
میں نے چاہا کہ ترے حسن کی گلنار فضا
میری غزلوں کی قطاروں سے دہکتی جائے
میں نے چاہا کہ مرے فن کے گلستاں کی بہار
تیری آنکھوں کے گلابوں سے مہکتی جائے
طے تو یہ تھا کہ سجاتا رہے لفظوں کے کنول
میرے خاموش خیالوں مین تکلم تیرا
رقص کرتا رہے ، بھرتا رہے خوشبو کا خمار
میری خواہش کے جزیروں میں تبسم تیرا
تو مگر اجنبی ماحول کی پروردہ کرن
میری بجھتی ہوئی راتوں کو سحر کر نہ سکی
تیری سانسوں میں مسیحائی تھی لیکن تو بھی
چارۂ زخمِ غمِ دیدۂ تر کر نہ سکی
تجھ کو احساس ہی کب ہے کہ کسی درد کا داغ
آنکھ سے دل میں اتر جائے تو کیا ہوتا ہے
تو کہ سیماب طبیعت ہے تجھے کیا معلوم
موسمِ ہجر ٹھہر جائے تو کیا ہوتا ہے
تو نے اس موڑ پہ توڑا ہے تعلق کہ جہاں
دیکھ سکتا نہیں کوئی بھی پلٹ کر جاناں
اب یہ عالم ہے کہ آنکھیں جو کھلیں گی اپنی
یاد آئے گا تری دید کا منظر جاناں
مجھ سے مانگے گا ترے عہدِ محبت کا حساب
تیرے ہجراں کا دہکتا ہوا محشر جاناں
یوں مرے دل کے برابر ترا غم آیا ہے
جیسے شیشے کے مقابل کوئی پتھر جاناں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

وہم


وہ نہیں ہے
تو اُ س کی چاہت میں
کس لیے
رات دن سنورتے ہو
خود سے بے ربط باتیں کرتے ہو
اپنا ہی عکس نوچنے کے لیے
خود اُلجھتے ہو، خود سے ڈرتے ہو
ہم نہ کہتے تھے
ہجر والوں سے ، آئینہ گفتگو نہیں کرتا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

اب کے یو ں بھی تری زلفوں کی شکن ٹوٹی ہے

اب کے یو ں بھی تری زلفوں کی شکن ٹوٹی ہے
رنگ پھوٹے ، کہیں خوشبو کی رسن ٹوٹی ہے
موت آئی ہے کہ تسکین کی ساعت آئی
سانس ٹوٹی ہے کہ صدیوں کی تھکن ٹوٹی ہے
سینۂ گل جہاں نکہت بھی گراں ٹھہری تھی
تیر بن کر وہاں سورج کی کرن ٹوٹی ہے
دِل شکسہ تو کئی بار ہوئے تھے لیکن
اب کے یوں ہے کہ ہر اک شاخِ بدن ٹوٹی ہے
اتنی بے ربط محبت بھی کہاں تھی اپنی
درمیاں سے کہیں زنجیرِ سخن ٹوٹی ہے
اک شعلہ کہ تہِ خیمۂ جاں لپکا تھا
ایک بجلی کہ سرِ صحنِ چمن ٹوٹی ہے
سلسلہ تجھ سے بچھڑنے پہ کہاں ختم ہوا
اک زمانے سے رہ و رسم کہن ٹوٹی ہے
مرے یاروں کے تبسم کی کرن مقتل میں
نوکِ نیزہ کی طرح زیرِ کفن ٹوٹی ہے
ریزہ ریزہ میں بکھرتا گیا ہر سو محسن
شیشہ شیشہ مری سنگینیء فن ٹوٹی ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

اے مرے کبریا


اے انوکھے سخی!
اے مرے کبریا!!
میرے ادراک کی سرحدوں سے پرے
میرے وجدان کی سلطنت سے ادھر
تیری پہچان کا اولیں مرحلہ!
میری مٹی کے سب ذائقوں سے جدا!
تیری چاہت کی خوشبو کا پہلا سفر!!
میری منزل؟
تیری رہگزر کی خبر!
میرا حاصل؟
تری آگہی کی عطا!!
میرے لفظوں کی سانسیں
ترا معجزہ!
میرے حرفوں کی نبضیں
ترے لطف کا بے کراں سلسلہ!
میرے اشکوں کی چاندی
ترا آئینہ!
میری سوچوں کی سطریں
تری جستجو کی مسافت میں گم راستوں کا پتہ!
میں مسافر ترا ۔۔۔۔ (خود سے نا آشنا)
ظلمتِ ذات کے جنگلوں میں گھرا
خود پہ اوڑھے ہوئے کربِ وہم و گماں کی سُلگتی رِدا
ناشناسائیوں کے پرانے مرض
گُمرہی کے طلسمات میں مبتلا
سورجوں سے بھری کہکشاں کے تلے
ڈھونڈتا پھر رہا ہوں ترا نقش پا ۔ ۔ ۔ !!
اے انوکھے سخی!
اے مرے کبریا!!
کب تلک گُمرہی کے طلسمات میں؟
ظلمتِ ذات میں
ناشناسائیوں سے اَٹی رات میں
دل بھٹکتا رہے
بھر کے دامانِ صد چاک میں
بے اماں حسرتوں کا لہو
بے ثمر خواہشیں
رائیگاں جستجو!!
اے انوکھے سخی!
اے مرے کبریا!!
کوئی رستہ دکھا
خود پہ کُھل جاؤں میں
مجھ پہ افشا ہو تُو'
اے مرے کبریا!!
کبریا اب مج ہے
لوحِ ارض و سما کے
سبھی نا تراشیدہ پوشیدہ
حرفوں میں لپٹے ہوئے
اسم پڑھنا سکھا
اے انوکھے سخی!
اے مرے کبریا!
میں مسافر ترا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

تن پہ اوڑھے ہوئے صدیوں کا دھواں شامِ فراق

تن پہ اوڑھے ہوئے صدیوں کا دھواں شامِ فراق
دل میں اتری ہے عجب سوختہ جاں شامِ فراق
خواب کی راکھ سمیٹے گی بکھر جائے گی
صورتِ شعلئہ خورشید رخاں شامِ فراق
باعثِ رونقِ اربابِ جنوں ویرانی
حاصلِ وحشتِ آشفتہ سراں شامِ فراق
تیرے میرے سبھی اقرار وہیں بکھرے تھے
سر جھکائے ہوئے بیٹھی ہے جہاں شامِ فراق
اپنے ماتھے پہ سجا لے ترے رخسار کا چاند
اتنی خوش بخت و فلک ناز کہاں شامِ فراق
ڈھلتے ڈھلتے بھی ستاروں کا لہو مانگتی ہے
میری بجھتی ہوئی آنکھوں میں رواں شامِ فراق
اب تو ملبوس بدل، کاکلِ بے ربط سنوار
بجھ گئی شہر کی سب روشنیاں شامِ فراق
کتنی صدیوں کی تھکن اس نے سمیٹی محسن
یہ الگ بات کہ پھر بھی ہے جواں شامِ فراق
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Saturday, 3 November 2012

آج بھی شام اداس رہی

تیرے ملنے کا اک لمحہ
بس اک لمحہ سہی – لیکن
وفا کا بے کراں موسم
ازل سے مہرباں موسم
یہ موسم آنکھ میں اترے
تو رنگوں سے دہکتی روشنی کا عکس کہلائے
یہ موسم دل میں ٹھہرے تو
سنہری سوچتی صدیوں کا گہرا نقش بن جائے
ترے ملنے کا اک لمحہ
مقدر کی لکیروں میں دھنک بھرنے کا موسم ہے
آج بھی شام اداس رہی
آج بھی تپتی دھوپ کا صحرا
ترے نرم لبوں کی شبنم
سائے سے محروم رہا
آج بھی پتھر ہجر کا لمحہ صدیوں سے بے خواب رتوں کی
آنکھوں کا مفہوم رہا
آج بھی اپنے وصل کا تارا
راکھ اڑاتی شوخ شفق کی منزل سے معدوم رہا
آج بھی شہر میں پاگل دل کو
تری دید کی آس رہی
مدت سے گم صم تنہائی، آج بھی میرے پاس رہی
آج بھی شام اداس رہی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

آؤ وعدہ کریں

آج کے دن کی روشن گواہی میں ہم
دیدۂ دل کی بے انت شاہی میں ہم
زیرِ دامانِ تقدیسِ لوح و قلم
اپنے خوابوں، خیالوں کی جاگیر کو
فکر کے مو قلم سے تراشی ہوئی
اپنی شفاف سوچوں کی تصویر کو
اپنے بے حرف ہاتھوں کی تحریر کو، اپنی تقدیر کو
یوں سنبھالیں گے ، مثلِ چراغِ حرم
جیسے آندھی میں بے گھر مسافر کوئی
بجھتی آنکھوں کے بوسیدہ فانوس میں
پہرہ داروں کی صورت چھپائے رک ہے
جانے والوں کے دھندلے سے نقشِ قدم
آج کے دن کی روشن گواہی میں ہم - پھر ارادہ کریں
جتنی یادوں کے خاکے نمایاں نہیں
جتنے ہونٹوں کے یاقوت بے آب ہیں
جتنی آنکھوں کے نیلم فروزاں نہیں
جتنے چہروں کے مرجان زرداب ہیں
جتنی سوچیں بھی مشعلِ بداماں نہیں
جتنے گل رنگ مہتاب گہنا گئے - جتنے معصوم رخسار
مرجھا گئے
جتنی شمعیں بجھیں ، جتنی شاخیں جلیں
سب کو خوشبو بھری زندگی بخش دیں، تازگی بخش دیں
بھر دیں سب کی رگوں میں لہو نم بہ نم
مثلِ ابرِ کرم رکھ لیں سب کا بھرم
دیدہ و دل کی بے انت شاہی میں ہم
زخم کھائیں گے حسنِ چمن کے لئے
اشک مہکائیں گے مثلِ رخسارِ گل
صرف آرائشِ پیرہن کے لئے ، مسکرائیں گے رنج و غم
دہر میں
اپنی ہنستی ہوئی انجمن کے لئے
طعنِ احباب، سرمایہ کج دل، بجز اغیار سہہ لیں گے
فن کے لئے
آؤ وعدہ کریں
سانس لیں گے متاعِ سخن کے لئے
جان گنوائیں گے ارضِ وطن کے لیے
دیدہ و دل کی شوریدگی کی قسم
آسمانوں سے اونچا رکھیں گے عَلم
آؤ وعدہ کریں
مکمل تحریر اور تبصرے >>