Pages

Subscribe:

Thursday, 30 August 2012

ہم بصد ناز دل و جاں میں بسائے بھی گئے Hum basad naaz dil-o-jaan mein basayey bhi gayey

ہم بصد ناز دل و جاں‌ میں بسائے بھی گئے
پھر گنوائے بھی گئے اور بھلائے بھی گئے
ہم ترا ناز تھے ، پھر تیری خوشی کی خاطر
کر کے بے چارہ ترے سامنے لائے بھی گئے
کج ادائی سے سزا کج کُلہی کی پائی
میرِ محفل تھے سو محفل سے اٹھائے بھی گئے
کیا گلہ خون جو اب تھوک رہے ہیں‌ جاناں
ہم ترے رنگ کے پرتَو سے سجائے بھی گئے
ہم سے روٹھا بھی گیا یم کو منایا بھی گیا
پھر سبھی نقش تعلق کے مٹائے بھی گئے
جمع و تفریق تھے ہم مکتبِ جسم و جاں‌ کی
کہ بڑھائے بھی گئے اور گھٹائے بھی گئے
جون! دل َ شہرِ حقیقت کو اجاڑا بھی گیا
اور پھر شہر توّہم کے بسائے بھی گئے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Wednesday, 29 August 2012

غم ہے بے ماجرا کئی دن سے Gham hai be majra kai din sey

غم ہے بے ماجرا کئی دن سے
جی نہیں لگ رہا کئی دن سے
بے شمیمِ ملال و حیراں ہے
خیمہ گاہِ صبا کئی دن سے
دل محلے کی اس گلی میں بَھلا
کیوں نہیں غُل مچا کئی دن سے
وہ جو خوشبو ہے اس کے قاصد کو
میں نہیں مِل سکا کئی دن سے
اس سے بھی اور اپنے آپ سے بھی
ہم ہیں بےواسطہ کئی دن سے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Monday, 27 August 2012

رہ گیا جانے کہاں قافلہ قندیلوں کا

رہ گیا جانے کہاں قافلہ قندیلوں کا
رات انبار اٹھا لائی ہے تاویلوں کا
بن گئے پاﺅں کی زنجیر پہاڑی رستے
چند قدموں کی مسافت تھی سفر میلوں کا
اب جو ریگ متلاطم میں گھرے بیٹھے ہیں
ہم نے صحراﺅں سے پوچھا تھا پتا جھیلوں کا
ہاتھ رہ رہ کے دعاﺅں کے لئے اٹھتے تھے
آسماں پر تھا نشان تک نہ ابابیلوں کا
پی گیا کون چھلکتے ہوئے امکاں یوسف
کیوں گھروں پر بھی گماں ہونے لگا ٹیلوں کا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

کتنے پیچ و تاب میں زنجیر ہونا ہے مجھے

کتنے پیچ و تاب میں زنجیر ہونا ہے مجھے
گرد میں گم خواب کی تعبیر ہونا ہے مجھے
جس کی تابندہ تڑپ صدیوں بھی سینوں میں بھی
ایک ایسے لمحے کی تفسیر ہونا ہے مجھے
خستہ دم ہوتے ہوئے دیوار و در سے کیا کہوں
کیسے خشت و خاک سے تعمیر ہونا مجھے
شہر کے معیار سے میں جو بھی ہوں جیسا بھی ہوں
اپنی ہستی سے تری توقیر ہونا ہے مجھے
اک زمانے کے لئے حرف غلط ٹھہرا ہوں میں
اک زمانے کا خط تقدیر ہونا مجھے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

پہلے میں تیری نظر میں آیا

پہلے میں تیری نظر میں آیا
پھر کہیں اپنی خبر میں آیا
میں ترے ایک ہی پل میں ٹھہرا
تو مرے شام و سحر میں آیا
ایک میں ہی تری دھن میں نکلا
ایک تو ہی مرے گھر میں آیا
تو مرا حاصل ہستی ٹھہرا
میں ترے رخت، سفر میں آیا
وصل کا خواب اجالا بن کر
شام کی راہگذر میں آیا
ہم جو اک ساتھ چلے تو یوسف
آسماں گرد سفر میں آیا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

اسی حریف کی غارت گری کا ڈر بھی تھا

اسی حریف کی غارت گری کا ڈر بھی تھا
یہ دل کا درد مگر زار رہگذر بھی تھا
اسی پہ شہر کی ساری ہوائیں برہم تھیں
کہ اک دیا مرے گھر کی منڈیر پر بھی تھا
یہ جسم و جان تیری ہی عطا سہی لیکن
ترے جہان میں جینا مرا ہنر بھی تھا
اسی کھنڈر میں مرے خواب کی گلی بھی تھی
گلی میں پیڑ بھی تھا پیڑ پر ثمر بھی تھا
مجھے کہیں کا نہ رکھا سفید پوشی نے
میں گرد گرد رواں تھا تو معتبر بھی تھا
میں سرخرو تھا خدائی کے روبرو یوسف
کہ اس کی چاہ کا الزام میرے سر بھی تھا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Friday, 24 August 2012

کتنی صدیوں سے تنِ زار تھا صحرا کی طرح Kitni sadyoon say tan-e-zaar tha sehra ki tarah

کتنی صدیوں سے تنِ زار تھا صحرا کی طرح
آندھیاں اتنی حوادث کی چلیں رستوں میں
دور تک ۔۔۔ دور تلک اڑنے لگی دھول ہی دھول
زرد رُو ریت سے سب مٹتے گئے نقشِ قدم
کھو گئے راستے ۔۔۔ گم ہو گیا ہر ایک سراب
بجھ گئے خاک سے سب منزلِ ہستی کے نشاں
اب اگر ابرِ تمنائے وفا کی صورت
تم جو آئے ہو تو ٹھہرو مری جاں
ایک مدت سے مرے دل کا چمن ویراں تھا
گُل نہ کھلتے تھے ۔۔۔ شجر جھوم کے لہراتے نہ تھے
کتنے خوش لحن پرندے تھے تمنا کے یہاں
وہ اداسی تھی کہ اک نغمۂ دل گاتے نہ تھے
کیا یہاں سبزۂ خوش رنگ کی ہوتی امید
اس زمیں پر تو نمو کا بھی نہیں تھا امکاں
اب اگر معجزۂ بادِ صبا کی صورت
تم جو آئے ہو تو ٹھہرو مری جاں
کتنی راتوں سے شبستانِ محبت میں یہ خاموشی تھی
اتنی تاریک خموشی کہ نہ جلتی تھی کوئی شمعِ صدا
تن فسردہ تھا بہت ۔۔۔ دل مرا تنہا تھا بہت
چشمِ حیرانی مگر دیر تلک جاگتی تھی
دیر تک جاگتی تھی ۔۔۔ خواب میں گُم رہتی تھی
پردۂ خواب پہ تصویر کے پیکر میں نہاں
خوشبو و روشنی و صوت و صدا کی صورت
اب تم آئے ہو تو کچھ دیر کو ٹھہرو مری جاں
جانتی ہوں کہ کہاں ابرِ وفا، موجِ صبا، صوت و صدا
دیر تک ایک جگہ ٹھہرے ہیں
جانتی ہوں کہ ہر اک وصلِ دلآرام کے بعد
تن پہ اُس ہجرِ ستم گر کے نشانات بہت گہرے ہیں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

اک رات اجالو میرے لئے Ik raat ujaalo mery liyey

اک رات اجالو میرے لیے
میں سو جاؤں ۔۔۔ تم جاگو
اک شبنم ہاتھ رکھو سینے پر
لمس جگے تو لب مہکاؤ
سانس میں پھول کھلاؤ
ہوا چلے تو
پلکوں پر تارے برساؤ
نیند کے پر پھیلے جائیں
پھر خواب سمندر جھاگو
اک رات اجالو میرے لیے
میں سو جاؤں
تم جاگو
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Wednesday, 22 August 2012

اب کے ہم پر کیسا سال پڑا لوگو Ab key hum par kaisa saal para logo

اب کے ہم پر کیسا سال پڑا لوگو
شہر میں آوازوں کا کال پڑا لوگو
ہر چہرہ دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوا
اب کے دلوں میں ایسا بال پڑا لوگو
جب بھی دیار خندہ دلاں سے گزرے ہیں
اس سے آگے شہر ملال پڑا لوگو
آئے رت اور جائے رت کی بات نہیں
اب تو عمروں کا جنجال پڑا لوگو
تلخ نوائی کا مجرم تھا صرف فراز
پھر کیوں سارے باغ پہ جال پڑا لوگو
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Sunday, 19 August 2012

سرد تھے ہونٹ Sard thay hont

سرد تھے ہونٹ
بہت زرد تھی یہ شاخِ بدن
سخت پتھرائی ہوئی تھیں آنکھیں
دشت کی طرح تھی ساری دنیا
آسماں ،درد کا لمبا صحرا
جانے کیا بات چلی باتوں سے
جانے کس طرح ترا ذکر چھڑا
ایسا لگتا ہے تنِ مردہ میں
روح پھونکی ہے کسی نے تازہ
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Saturday, 18 August 2012

میری بستی سے پرے بھی میرے دشمن ہوں گے Meri hasti sey parey bhi merey dushman hon gay

میری بستی سے پرے بھی میرے دشمن ہوں گے
پر یہاں کب کوئی اغیار کا لشکر اترا
آشنا ہاتھ ہی اکثر میری جانب لپکے
میرے سینے میں میرا اپنا ہی خنجر اترا
پھر وہی خوف کی دیوار تذبذب کی فضا
پھر وہی عام وہ ہی اہل رِیا کی باتیں
نعرہ حبِ وطن مالِ تجارت کی طرح
جنسِ ارزاں کی طرح دین خدا کی باتیں
اس سے پہلے بھی تو ایسی ہی گھڑی آئی تھی
صبح وحشت کی طرح شام غریباں کی طرح
اس سے پہلے بھی تو عہد و پیمانِ وفا ٹوٹے تھے
شیشۂ دل کی طرح آئینۂ جاں کی طرح
پھر کہاں ہیں مری ہونٹوں پہ دعاؤں کے دئے
پھر کہاں شبنمی چہروں پہ رفاقت کی وِداع
صندلی پاؤں سے مستانہ روی روٹھ گئی
ململی ہاتھوں پہ جل بجھ گیا انگارِ حنا
دل نشیں آنکھوں میں فرقت زدہ کاجل رویا
شاخِ بازو کے لئے زلف کا بادل رویا
مثلِ پیراہنِ گل پھر سے بدن چاک ہوئے
جیسے اپنوں کی کمانوں میں ہوں اغیار کے تیر
اس سے پہلے بھی ہوا چاند محبت کا ندیم
نوکِ دشتاں سے کھنچی تھی میری مٹی کی لکیر
آج ایسا نہیں ، ایسا نہیں ہونے دینا
اے میری سوختہ جانوں، میرے پیارے لوگو
اب کے گر زلزلے آئے تو قیامت ہوگی
میرے دلگیر، میرے درد کے مارے لوگو
کیسی غاصب، کسی ظالم، کسی قاتل کے لیے
خود کو تقسیم نہ کرنا میرے پیارے لوگو
نہیں ، ایسا نہیں ہونے دینا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Friday, 17 August 2012

اندھی شبو۔ بےقرار راتو Andhi shabo beqrar rato

اندھی شبو ؛ بے قرار راتو ؛
اب تو کوئی جگمگاتا جگنو
اب کوئی تمتماتا مہتاب
اب تو کوئی مہرباں ستارہ
گلیوں میں قریب شام ہر روز
لگتا ہے جو صورتوں کا میلہ
آتا ہے جو قامتوں کا ریلا
کہتی ہیں حیرتی نگاہیں
کس کس کو ہجوم میں سے چاہیں
لیکن یہ تمام لوگ کیا ہیں
ا پنے سے دور ہیں جدا ہیں
ہم نے بھی تو جی کو خاک کر کے
دامان شکیب چاک کر کے
وحشت ہی کا آسرا لیا تھا
جینے کو جنوں بنا لیا تھا
اچھا نہ کیا۔۔۔۔مگر کیا تو
اندھی شبو ، بے قرار راتو
کب تک یونہی محفلوں کے پھرے
اچھے نہیں جی کے یہ اندھیرے
اب تو کوئی بھی دید نہیں ہے
ہونے کی بھی امید نہیں ہے
ہم بھی تو عہد پاستاں ہیں
ماضی کے ہزار داستاں ہیں
پیماں کے ہزار باغ توڑے
دامان وفا پہ داغ چھوڑے
دیکھیں جو انا کے روزنوں سے
پیچھے کہیں دور دور مدھم
پراں ہیں خلا کی وسعتوں میں
اب بھی کئی ٹمٹماتے جگنو
اب بھی کئی ڈبڈباتے مہتاب
اب بھی کئی دستاں ستارے
آزردہ بحال ، طپاں ستارے
پیچھے کو نظر ہزار بھاگے
لوگو رہ زندگی ہے آگے
جتنے یہاں راز دار غم ہیں
تارے ہیں کہ چاند ہے کہ ہم ہیں
ا ن کا تو اصول ہے یہ بانکے
اس دل میں نہ اور کوئی جھانکے
خالی ہوئے جام عاشقی کے
اکھڑے ہیں خیام عاشقی کے
قصے ہیں تمام عاشقی کے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

در سے تو اٹھ ہی چکا ہے Dar sey un key uth hi chuka hai

در سے تو ان کے ا ٹھ ہی چکا ہے کہہ دو جی سے بھلانے کو
لے گئے ہاتھوں ہاتھ ا ٹھا کر لوگ کہیں دیوانے کو
اے دل وحشی دشت میں ہم کو کیا کیا عیش میسر ہیں
کانٹے بھی چب جانے کو ہیں تلوے بھی سہلانے کو
ان سے یہ پوچھو کل کیوں ہم کو دشت کی راہ دکھائی تھی
شہر کا شہر امڈ آیا آج یہی سمجھانے کو
مکمل تحریر اور تبصرے >>

آتی ہے پون جاتی ہے پون Aati hai pawan jati hai pawan

جوگی کا بنا کر بھیس پھرے
برہن ہے کوئی ، جو دیس پھرے
سینے میں لیے سینے کی دُکھن
آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن
پھولوں نے کہا، کانٹوں نے کہا
کچھ دیر ٹھہر، دامن نہ چھڑا
پر اس کا چلن وحشی کا چلن
آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن
اس کا تو کہیں مسکن نہ مکاں
آوارہ بہ دل ، آوارہ بہ جاں
لوگوں کے ہیں گھر، لوگوں کے وطن
آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن
یہاں کون پوَن کی نگاہ میں ہے
وہ جو راہ میں ہے، بس راہ میں ہے
پربت کہ نگر، صحرا کہ چمن
آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن
رکنے کی نہیں جا، اٹھ بھی چکو
انشاء جی چلو، ہاں تم بھی چلو
اور ساتھ چلے دُکھتا ہُوا مَن
آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ان نینوں میں پیت بھری ہے In nainoon sey peet bhari hai

ان نینوں میں پیت بھری ہے ان کی انوکھی ریت
کھوٹے کا کبھی کھوٹ نہ دیکھیں دیکھیں پیت ہی پیت
کاگوں کو ابھی نوچ کھلاؤں پاؤں جو بگڑے طور
یہ نیناں کچھ اور جو دیکھیں پیت بنا کچھ اور
پیاروں کی جہاں سنگیت دیکھے جم کر رہے نگاہ
تم من کو مرے صحبت انکی کعبے کی درگاہ
دن بھر دیکھیں سیر نہ ہو ویں پیت کو ان کی پیاس
پیت جو پائیں تب کہیں آئیں لو ٹ کے میرے پاس
تیغیں پیت کے دن میں ہاریں نینوں کی وہاں جیت
کس کس کا دکھ درد اپنائیں ان کی انوکھی ریت
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Thursday, 16 August 2012

حقیقتِ حسن

خدا سے حُسن نے اِک روز یہ سوال کیا
جہاں  میں کیوں نہ مجھے تو نے لازوال کیا
ملا جواب کہ تصویر خانہ ہے دنیا
شبِ درازِ عدم کا فسانہ ہے دنیا
ہوئی ہے رنگِ تغیر سے جب نمود اس کی
وہی حسیں ہے حقیقت زوال ہے جس کی
کہیں قریب تھا۔ یہ گفتگو قمر نے سنی
فلک پہ عام ہوئی۔ احترِ سحر نے سنی
سحر نے تارے سے سن کر سنائی شبنم کو
فلک کی بات بتا دی زمیں کے محرم کو
پھر آئے پھول کے آنسو پیامِ شبنم سے
کلی کا ننھا سا دل کون ہو گیا غم سے
چمن سے روتا ہوا موسمِ بہار گیا
شباب سیر کو آیا تھا سوگوار گیا

مکمل تحریر اور تبصرے >>

ہوا کی آواز

ہوا کی آواز
خشک پتوں کی سرسراہٹ سے بھر گئی ہے
روش روش پر فتادہ پھولوں نے
لاکھوں نوحے جگا دیے ہیں
سلیٹی شامیں بلند پیڑوں پہ غل مچاتے
سیاہ کوؤں کے قافلوں سے اَٹی ہوئی ہیں
ہر ایک جانب خزاں کی آواز گونجتی ہے
ہر ایک بستی کشاکش مرگ و زندگی سے نڈھال ہو کر
مسافروں کو پکارتی ہے کہ آؤ
مجھ کو خزاں کے بے مہر تلخ احساس سے بچاؤ
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Wednesday, 15 August 2012

چل انشاء اپنے گاؤں میں Chal insha apney gaoon mein

یہاں الجھے الجھے روپ بہت
پر اصلی کم، بہروپ بہت
اس پیڑ کے نیچے کیا رکنا
... ... جہاں سایہ کم ہو، دھوپ بہت
چل انشاء اپنے گاؤں میں
بیٹھیں گے سکھ کی چھاؤں میں

کیوں تیری آنکھ سوالی ہے؟
یہاں ہر اک بات نرالی ہے
اس دیس بسیرا مت کرنا
یہاں مفلس ہونا گالی ہے
چل انشاء اپنے گاؤں میں
بیٹھیں گے سکھ کی چھاؤں میں

جہاں سچے رشتے یاریوں کے
جہاں گھونگھٹ زیور ناریوں کے
جہاں جھرنے کومل سکھ والے
جہاں ساز بجیں بِن تاروں کے
چل انشاء اپنے گاؤں میں
بیٹھیں گے سکھ کی چھاؤں میں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Monday, 13 August 2012

ہم کہنے کو آزاد ہیں۔ آزاد نہیں ہیں


ہم کہنے کو آزاد ہیں ، آزاد نہیں ہیں
مسکانیں ہیں رخسار پہ ، دلشاد نہیں ہیں

انصاف کے روغن سے ہر اک شے کو سنوارا
غازہ سے محبت کے ترے رخ کو نکھارا
رونق تجھے دی ایسی کہ اقطاع جہاں نے
چڑیا تجھے سونے کی فقط کہہ کے پکارا

آبادیاں کیا ہم سے بھی آباد نہیں ہیں
ہم کہنے کو آزاد ہیں ، آزاد نہیں ہیں

ظالم کے مقابل میں سدا ہم ہی ڈٹے تھے
ملت کو بچانے کے لئے ہم ہی کٹے تھے
دشمن سے کبھی ملک کا سودا نہ کیا تھا
ہم نے ہی تو آزاد کے الفاظ رٹے تھے

آزادی دلا کے بھی کیا برباد نہیں ہیں؟
ہم کہنے کو آزاد ہیں ، آزاد نہیں ہیں

مجرم کو کھلا چھوڑا ہے کیسا ہے تماشا
بےکس کا گلہ گھونٹا ہے کیسا ہے تماشا
قانون کے متوالوں نے سر جوڑ کے بےشک
قانون کو خود توڑا ہے کیسا ہے تماشا

تیار وہ سننے کو بھی فریاد نہیں ہیں
ہم کہنے کو آزاد ہیں ، آزاد نہیں ہیں

سچوں کی گرفتاری بہت مہنگی پڑے گی
مظلوم کی یہ آہ بھی جب حد سے بڑھے گی
لوٹا گیا گھر بار یہاں جن کا بھی نادر
ظالم کے ہی سر ان کی وبا آ کے پڑے گی

مظلوم ہیں ہم ہند میں ، جلاد نہیں ہیں
ہم کہنے کو آزاد ہیں ، آزاد نہیں ہیں !!
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Sunday, 12 August 2012

ایک آزار ہوئی جاتی ہے شہرت ہم کو Ik Aazaar hoi jati hai shuhrat hum ko

ایک آزار ہوئی جاتی ہے شہرت ہم کو
خود سے ملنے کی بھی ملتی نہیں فرصت ہم کو
روشنی کا یہ مسافر ہے رہِ جاں کا نہیں
اپنے سائے سے بھی ہونے لگی وحشت ہم کو
آنکھ اب کس سے تحیر کا تماشا مانگے
اپنے ہونے پہ بھی ہوتی نہیں حیرت ہم کو
اب کے اُمید کے شعلے سے بھی آنکھیں نہ جلیں
جانے کس موڑ پہ لے آئی محبت ہم کو
کون سی رُت ہے زمانے ، ہمیں کیا معلوم
اپنے دامن میں لئے پھرتی ہے حسرت ہم کو
زخم یہ وصل کے مرہم سے بھی شاید نہ بھرے
ہجر میں ایسی ملی اب کے مسافت ہم کو
داغِ عصیاں تو کسی طور نہ چھپتے امجد
ڈھانپ لیتی نہ اگر چادرِ رحمت ہم کو
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Friday, 10 August 2012

تیرے خیال سے لو دے اُٹھی ہے تنہائی

تیرے خیال سے لو دے اُٹھی ہے تنہائی
شبِ فراق ہے یا تیری جلوہ آرائی
تُو کس خیال میں ہے منزلوں کے شیدائی
انہیں بھی دیکھ جنہیں راستے میں نیند آئی
پکار اے جرسِ کاروانِ صبح طرب
بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں تیرے سودائی
ٹھہر گئے ہیں سرِراہ خاک اڑانے کو
مسافروں کو نہ چھیڑ اے ہوائے صحرائی
رہِ حیات میں کچھ مرحلے تو دیکھ لیے
یہ اور بات تری آرزو نہ راس آئی
یہ سانحہ بھی محبت میں بارہا گزرا
کہ اس نے حال بھی پوچھا تو آنکھ بھر آئی
دل افسردہ میں پھر دھڑکنوں کا شور اٹھا
یہ بیٹھے بیٹھے مجھے کن دنوں کی یاد آئی
کھلی جو آنکھ تو کچھ اور ہی سماں دیکھا
وہ لوگ تھے نہ وہ جلسے نہ شہر رعنائی
پھر اس کی یاد میں دل بے قرار ہے ناصر
بچھڑ کے جس سے ہوئی شہر شہر رسوائی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

خودداریوں کےخون کو ارزاں نہ کرسکے Khudaryoon key khoon ko arzan na kar sakey

خودداریوں کےخون کو ارزاں نہ کرسکے
ہم اپنے جوہروں کو نمایاں نہ کر سکے
ہو کر خرابِ مے ترے غم تو بھلا دیئے
لیکن غمِ حیات کا درماں نہ کر سکے
ٹوٹا طلسمِ عہد محبّت کچھ اس طرح
پھر آرزو کی شمع فروزاں نہ کر سکے
ہر شے قریب آکے کشش اپنی کھو گئی
وہ بھی علاجِ شوق گریزاں نہ کرسکے
کس درجہ دل شکن تھے محبت کے حادثے
ہم زندگی میں پھر کوئی ارماں نہ کرسکے
مایوسیوں نے چھین لیے دل کے ولولے
وہ بھی نشاطِ روح کا ساماں نہ کر سکے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Thursday, 9 August 2012

منزل و محمل۔ دریائے محبت کے کنارے نہیں ہوتے

یہ جھوٹ ہے وہ کچھ بھی تمھارے نہیں ہوتے
ہر ایک سے دزدیدہ اشارے نہیں ہوتے
ہم اور تیرے راز کی تشہیر کریں گے
کم ظرف غمِ عشق کے مارے نہیں ہوتے
امید بر آئے یہ ضروری تو نہیں ہے
پھر کیا ہے اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے
کیا جانیں تھپیڑوں سے پناہ مانگنے والے
دریائے محبت کے کنارے نہیں ہوتے
آ گردشِ حالات پہ دو اشک بہا لیں
تم میرے۔ وہ محبوب تمھارے نہیں ہوتے
دمساز شبِ ہستیِ موہوم کا ڈھونڈو
ڈوبیں جو سرِ شام ستارے نہیں ہوتے
کیا فائدہ غیروں کی شکائیت سے تبسم
جب اپنے ہی جذبات ہمارے نہیں ہوتے

مکمل تحریر اور تبصرے >>

منزل و محمل۔ کبھی جو روکا ہے دشوار مرحلوں نے مجھے

کبھی جو روکا ہے دشوار مرحلوں نے مجھے
صدائیں دے کے بلایا ہے منزلوں نے مجھے
کسی خرابے میں جب رہبروں نے چھوڑ دیا
نشانِ راہ دکھایا ہے رہزنوں نے مجھے
اسی لئے میں رہا کامیاب دنیا میں
بڑے فریب سے لوٹا ہے دشمنوں نے مجھے
میں مشکلات سے نکلا ہوں گو کہ مشکل سے
سہولتوں نے ملایا ہے مشکلوں نے مجھے
میرے خلوص نے یہ معجزہ دکھایا ہے
گلے سے بڑھ کے لگایا ہے دشمنوں نے مجھے
عدُو نے نہر پہ پہرے بٹھا دئے جب بھی
فلک سے پانی پلایا ہے بادلوں نے مجھے
لبوں پہ اپنے تبسم چھپائے رکھتا ہوں
سبق دیا ہے میرے دل کی دھڑکنوں نے مجھے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Tuesday, 7 August 2012

دل کیسے ڈوبا Dil kaisey dooba

لوگ کہتے ہیں پانی میں لکڑی نہیں ڈوبتی
اور وجہ یہ بتاتے ہیں
لکڑی کا اپنا حجم
چونکہ پانی کی اتنی ہی مقدار کے
بالمقابل زیادہ نہیں
اس لئے وہ سدا
سطح آبِ رواں پہ رہے گی مگر
ڈوبنے کا عمل اس پہ ہو گا نہیں
ازل سے یہ قدرت کا قانون ہے
اور قانون قدرت بدلتا نہیں
پہ میں سوچتا ہوں
اگر یہ حقیقت میں قانون ہے
تو تیرے غم کے دریا میں
دل کیسے ڈوبا؟
مکمل تحریر اور تبصرے >>

وہ ایک سوچا ہوا ناز سا تکلم میں Wo aik socha howa naaz sa taklam mein

وہ ایک سوچا ہوا ناز سا تکلم میں
نظر میں ایک جھجک سی کوئی بنائی ہوئی
لبوں پہ ایک تبسم ذرا لجایا سا
جبیں پہ بزمِ مروت سجی سجائی ہوئی
ڈھکا ڈھکا سا تکبر وہ بات سننے میں
تھی جس میں حسن کی نازش کہیں چھپائی ہوئی
بدن میں خوف کی لرزش بھی، اور دعوت بھی
گریز کرتی ہوئی اور قریب آئی ہوئی
کچھ اس کو دیکھ کے کھلتا نہ تھا کہ کیا ہے
فریب دیتی ہوئی یا فریب کھائی ہوئی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

سوچتا ہوں کہ محبت سے کنارا کر لوں Sochta hoon key mohabat sey kinara kar loon

سوچتا ہوں‌کہ محبت سے کنارا کرلوں
دل کو بیگانۂ ترغیب و تمنا کرلوں
سوچتا ہوں‌کہ محبت ہے جنونِ رسوا
چند بے کار سے بے ہودہ خیالوں کا ہجوم
ایک آزاد کو پابند بنانے کی ہوس
ایک بیگانے کو اپنانے کی سعئ موہوم
سوچتا ہوں کہ محبت سے سرور و مستی
اس کی تنویر سے روشن ہے فضائے ہستی
سوچتا ہوں کہ محبت ہے بشر کی فطرت
اس کا مٹ جانا مٹا دینا بہت مشکل ہے
سوچتا ہوں کہ محبت سے ہے تابندہ حیات
اور یہ شمع بجھا دینا بہت مشکل ہے
سوچتا ہوں کہ محبت پہ کڑی شرطیں ہیں
اس تمدن میں مسرت پہ بڑی شرطیں ہیں
سوچتا ہوں کہ محبت ہے اک افسردہ سی لاش
چادرِ عزت و ناموس میں کفنائی ہوئی
دورِ سرمایہ کی روندی ہوئی رسوا ہستی
درگہِ مذہب و اخلاق سے ٹھکرائی ہوئی
سوچتا ہوں کہ بشر اور محبت کا جنوں
ایسے بوسیدہ تمدن میں ہے اک کار زبوں
سوچتا ہوں کہ محبت نہ بچے گی زندہ
پیش ازاں وقت کہ سڑ جائے یہ گلتی ہوئی لاش
یہی بہتر ہے کہ بیگانۂ الفت ہو کر
اپنے سینے میں‌کروں جذبۂ نفرت کی تلاش
سوچتا ہوں کہ محبت سے کنارا کر لوں
دل کو بیگانۂ ترغیب و تمنا کر لوں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

میری ناکام محبت کی کہا نی مت چھیڑ Meri nakam mohabat ki kahani mat chair

میری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑ
اپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سنا
زندگی تلخ سہی ، زہر سہی، سم ہی سہی
دردو آزار سہی، جبر سہی، غم ہی سہی
لیکن اس درد و غم و جبر کی وسعت کو تو دیکھ
ظلم کی چھاؤں میں دم توڑتی خلقت کو تو دیکھ
اپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سنا
میری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑ
جلسہ گاہوں میں یہ دہشت زدہ سہمے انبوہ
رہ گزاروں پہ فلاکت زدہ لوگوں کا گروہ
بھوک اور پیاس سے پژمردہ سیہ فام زمیں
تیرہ و تار مکاں، مفلس و بیمار مکیں
نوعِ انساں میں یہ سرمایہ و محنت کا تضاد
امن و تہذیب کے پرچم تلے قوموں کا فساد
ہر طرف آتش و آہن کا یہ سیلابِ عظیم
نت نئے طرز پہ ہوتی ہوئی دنیا تقسیم
لہلہاتے ہوئے کھیتوں پہ جوانی کا سماں
اور دہقان کے چھپر میں نہ بتی نہ دھواں
یہ فلک بوس ملیں دلکش و سمیں بازار
یہ غلاظت پہ چھپٹتے ہوئے بھوکے نادار
دور ساحل پہ وہ شفاف مکانوں کی قطار
سرسراتے ہوئے پردوں میں سمٹتے گلزار
درو دیوار پہ انوار کا سیلابِ رواں
جیسے اک شاعرِ مدہوش کے خوابوں کا جہاں
یہ سبھی کیوں ہے یہ کیا ہے مجھے کچھ سوچنے دے
کون انساں کا خدا ہے مجھے کچھ سوچنے دے
اپنی مایوس امنگوں کا فسانہ نہ سنا
میری ناکام محبت کی کہانی مت چھیڑ
مکمل تحریر اور تبصرے >>

میں نے ہر چند غمِ عشق کو کھونا چاہا Mein ney har chand gham-e-ishq ko khona chaha

میں نے ہر چند غمِ عشق کو کھونا چاہا
غمِ الفت غمِ دنیا میں سمونا چاہا
وہی افسانے مری سمت رواں ہیں اب تک
وہی شعلے مرے سینے میں نہاں ہیں اب تک
وہی بے سود خلش ہے مرے سینے میں ہنوز
وہی بیکار تمنائیں جواں ہیں‌اب تک
وہی گیسو مری راتوں پہ ہیں بکھرے بکھرے
وہی آنکھیں مری جانب نگراں ہیں اب تک
کثرتِ غم بھی مرے غم کا مداوا نہ ہوئی!
میرے بے چین خیالوں کو سکون مل نہ سکا
دل نے دنیا کے ہر اک درد کو اپنا تو لیا
مضمحل روح کو اندازِ جنوں مل نہ سکا
میری تخئیل کا شیرازۂ برہم ہے وہی
میرے بجھتے ہوئے احساس کا عالم ہے وہی
وہی بے جان ارادے وہی بے رنگ سوال
وہی بے روح کشاکش وہی بے چین خیال
آہ اس کشمکشِ صبح و مسا کا انجام
میں بھی ناکام مری سعی عمل بھی ناکام
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Sunday, 5 August 2012

کوئی خوشبو بکھرتی ہے Koi khusboo bikharti hai

کوئی خوشبو بکھرتی ہے
زمیں اور آسماں کے درمیاں پھیلے مناظر میں
بہت آہستگی سے جب  کوئی خوشبو بکھرتی ہے
تو آنکھوں میں ستاروں کا عجب میلہ سا لگتا ہے
ہوا سرگوشیاں پہنے دریچوں سے گذرتی ہیں
کوئی خوشبو بکھرتی ہے
درختوں سے جدا ہوتے ہوئے بے خانماں پتے
سفر آغاز کرتے ہیں
تو سپنوں پر حقیقت کا کوئی پرتو سا پڑتا ہے
صبا۔ قوسِ قزح کی راہ میں زینے بناتی ہے
اور اک بے نام سی آہٹ دبے پاؤں اُترتی ہے
کوئی خوشبو بکھرتی ہے
نیا موسم پرانے موسموں کی دھول سے
 چہرہ اُٹھاتا ہے
تو شبنم کاسۂ گل میں کئی سکے گراتی ہے
زمیں پہلو بدلتی ہے
کوئی خوشبو بکھرتی
بہت آہستگی سے پھر تیری خوشبو بکھرتی ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Saturday, 4 August 2012

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں Yey batein jooti batein hain

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
ہیں لاکھوں روگ زمانے میں ، کیوں عشق ہے رسوا بیچارا
ہیں اور بھی وجہیں وحشت کی ، انسان کو رکھتیں دکھیارا
ہاں بے کل بےکل رہتا ہے ، ہو پیت میں جس نے جی ہارا
پر شام سے لے کر صبح تلک یوں کون پھرے گا آوارہ
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
یہ بات عجیب سناتے ہو ، وہ دنیا سے بے آس ہوئے
اک نام سنا اور غش کھایا ، اک ذکر پہ آپ اداس ہوئے
وہ علم میں افلاطون سنے، وہ شعر میں تلسی داس ہوئے
وہ تیس برس کے ہوتے ہیں ، وہ بی-اے،ایم-اے پاس ہوئے
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
گر عشق کیا ہے تب کیا ہے، کیوں شاد نہیں آباد نہیں
جو جان لیے بن ٹل نہ سکے ، یہ ایسی بھی افتاد نہیں
یہ بات تو تم بھی مانو گے، وہ قیس نہیں فرہاد نہیں
کیا ہجر کا دارو مشکل ہے؟ کیا وصل کے نسخے یاد نہیں؟
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
وہ لڑکی اچھی لڑکی ہے، تم نام نہ لو ہم جان گئے
وہ جس کے لانبے گیسو ہیں، پہچان گئے پہچان گئے
ہاں ساتھ ہمارے انشا بھی اس گھر میں تھے مہمان گئے
پر اس سے تو کچھ بات نہ کی، انجان رہے، انجان گئے
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
جو ہم سے کہو ہم کرتے ہیں، کیا انشا کو سمجھانا ہے؟
اس لڑکی سے بھی کہہ لیں گے ، گو اب کچھ اور زمانہ ہے
یا چھوڑیں یا تکمیل کریں ، یہ عشق ہے یا افسانہ ہے؟
یہ کیسا گورکھ دھندا ہے، یہ کیسا تانا بانا ہے ؟
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں، یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو کیا انشا جی سودائی ہیں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

کل چودھویں کی رات تھی Kal chodwein ki raat thi


کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا تیرا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے، کچھ نے کہا چہرا تیرا
ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم سے بھی سب پُوچھا کیے
ہم ہنس دیئے، ہم چُپ رہے، منظور تھا پردہ تیرا
اس شہر میں کِس سے مِلیں، ہم سے تو چُھوٹیں محفلیں
ہر شخص تیرا نام لے، ہر شخص دیوانہ تیرا
کُوچے کو تیرے چھوڑ کے جوگی ہی بن جائیں مگر
جنگل تیرے، پربت تیرے، بستی تیری، صحرا تیرا
تُو باوفا، تُو مہرباں، ہم اور تجھ سے بدگماں؟
ہم نے تو پوچھا تھا ذرا، یہ وصف کیوں ٹھہرا تیرا
بے شک اسی کا دوش ہے، کہتا نہیں خاموش ہے
تو آپ کر ایسی دوا، بیمار ہو اچھا تیرا
ہم اور رسمِ بندگی؟ آشفتگی؟ اُفتادگی؟
احسان ہے کیا کیا تیرا، اے حسنِ بے پروا تیرا
دو اشک جانے کِس لیے، پلکوں پہ آ کر ٹِک گئے
الطاف کی بارش تیری اکرام کا دریا تیرا
اے بے دریغ و بے اَماں، ہم نے کبھی کی ہے فغاں؟
ہم کو تِری وحشت سہی ، ہم کو سہی سودا تیرا
ہم پر یہ سختی کی نظر، ہم ہیں فقیرِ رہگُزر
رستہ کبھی روکا تیرا دامن کبھی تھاما تیرا
ہاں ہاں تیری صورت حسیں، لیکن تُو اتنا بھی نہیں
اس شخص کے اشعار سے شعر ہوا کیا کیا تیرا
بے درد، سُنتی ہو تو چل، کہتا ہے کیا اچھی غزل
عاشق تیرا، رُسوا تیرا، شاعر تیرا، اِنشا تیرا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

فرض کرو ہم اہلِ وفا ہوں Farz karo hum ahl-e-wafa hon

فرض کرو ہم اہلِ وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں
فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں
فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو
فرض کرو ابھی اور ہو اتنی،آدھی ہم نے چھپائی ہو
فرض کرو تمھیں خوش کرنے کے ڈھونڈے ہم نے بہانے ہوں
فرض کرو یہ نین تمھارے سچ مچ کے میخانے ہوں
فرض کرو یہ روگ ہو جھوٹا، جھوٹی پیت ہماری ہو
فرض کرو اس پیت کے روگ میں سانس بھی ہم پہ بھاری ہو
فرض کرو یہ جوگ بجوگ کا ہم نے ڈھونگ رچایا ہو
فرض کرو بس یہی حقیقت، باقی سب کچھ مایا ہو۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ہم گھوم چکے بستی بَن میں Hum ghoom chukey basti ban mein

ہم گُھوم چکے بَستی بَن میں
اِک آس کی پھانس لیے مَن میں
کوئی ساجن ہو، کوئی پیارا ہو
کوئی دیپک ہو، کوئی تارا ہو
جب جیون رات اندھیری ہو
اِک بار کہو تم میری ہو
جب ساون بادل چھائے ہوں
جب پھاگن پُول کِھلائے ہوں
جب چندا رُوپ لُٹا تا ہو
جب سُورج دُھوپ نہا تا ہو
یا شام نے بستی گھیری ہو
اِک بار کہو تم میری ہو
ہاں دل کا دامن پھیلا ہے
کیوں گوری کا دل مَیلا ہے
ہم کب تک پیت کے دھوکے میں
تم کب تک دُور جھروکے میں
کب دید سے دل کو سیری ہو
اک بار کہو تم میری ہو
کیا جھگڑا سُود خسارے کا
یہ کاج نہیں بنجارے کا
سب سونا رُوپ لے جائے
سب دُنیا، دُنیا لے جائے
تم ایک مجھے بہتیری ہو
اک بار کہو تم میری ہو
مکمل تحریر اور تبصرے >>

انشاء جی اُٹھو Insha jee utho

انشإ جی اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب، جوگی کا نگر میں ٹھکانہ کیا
اس دل کے دریدہ دامن میں دیکھو تو سہی،سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوئے،اس جھولی کا پھیلانا کیا
شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا، زنجیر پڑی دروازے میں
کیوں دیر گئے گھر آئے ہو، سجنی سے کرو گے بہانہ کیا
اس حسن کے سچے موتی کو ہم دیکھ سکیں اور چھو نہ سکیں
جسے دیکھ سکیں پر چھو نہ سکیں، وہ دولت کیا خزانہ کیا
پھر ہجر کی لمبی رات میں سنجوک کی ہے تو ایک گھڑی
جو دل میں ہے لب پر آنے دو شرمانہ کیا گھبرانا کیا!!
اس روز کو ان کو دیکھا ہے اب خوان کا عالم لگتا ہے
اس روز جو ان سے بات ہوئی وہ بات بھی کیا افسانہ کیا!!
اس کو بھی جلا دہکتے ہوئے من، اک شعلہ آگ بھبھولا بن
یوں آنسو میں بہہ جانا کیا، یوں مٹی میں مل جانا کیا
جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں،کیوں بن میں نہ جا بس رام کریں
دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانہ کیا!!
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Friday, 3 August 2012

آبِ جُو میں ایک طلسمی عکس ابھرا تھا ابھی


آبِ جُو میں ایک طلسمی عکس ابھرا تھا ابھی

دہکے عارض۔۔۔۔۔۔۔ آئینے میں تیز شعلوں کی ضیاء
احمریں لب۔۔۔۔۔۔۔۔ زخمِ تازہ موجِ خوں سے آشنا
تیکھے ابرو۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ لَوحِ سیمیں پر دھویں کا خط کھینچا
بکھرے گیسو۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ کالی راتوں کا ملائم ڈھیر سا
بہتی افشاں۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ جگمگاتی مشعلوں کا قافلہ
گہری آنکھیں۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ دور تک منظر سہانے خواب کا

آبِ جُو میں ایک طلسمی عکس ابھرا تھا ابھی

نُقرئی پانی کے جو آنچل میں جھلمل کر رہی تھی، کون تھی
حُور تھی تخیل کے رمزوں کی یا وہ جل پری تھی، کون تھی
اس پہیلی کی گِرہ کُھلنے سے پہلےہی نگاہوں پر میری
ریشمی قدموں کی آہٹ سے خلاء کی سبز چلمن آ گری
آبِ جُو میں نرم لہروں کا خرامِ بے جَرَس
یا کفِ ساحل پہ میرے نقش پا تھے اور بس
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Thursday, 2 August 2012

کتاب کیچڑ میں گِر پڑی تھی


کتاب کیچڑمیں گر پڑی تھی

چمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں

الجھتے آنسو بلا رہے تھے

مگر مجھے ہوش ہی کہاں تھا

نظر میں اک اور ہی جہاں تھا

نئے نئے منظروں کی خواہش میں

اپنے منظر سے کٹ گیا تھا،

نئے نئےدائروں کی گردش میں

اپنے محور سے ہٹ گیا ہوں

صلہ، جزاء، خوف، نا امیدی

امید، امکان، بے یقینی،

ہزاروں میں بٹ گیا ہوں

اب اس سے پہلے کے رات اپنی کمند ڈالے،

یہ چاہتا ہوں کے لوٹ آؤں

عجب نہیں کےوہ کتاب اب بھی وہیں پڑی ہو،

عجب نہیں آج بھی راہ میری دیکھتی ہو،

چمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الجھتے آنسو

ہوا و حرص و ہوس کی سب گرد صاف کر دیں

عجب نہیں میرے لفظ مجھکو معاف کر دیں

عجب گھڑی تھی

کتاب کیچڑمیں گر پڑی تھی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ایک نئے لفظ کی تخلیق

زندگی لفظ ہے
موت بھی لفظ ہے
زندگی کی تراشی ہوئی اولیں صورت سے سرحدِ موت تک
لفظ ہی لفظ ہیں
سانس بھی لفظ ہے
سانس لینے کی ہر اک ضرورت بھی لفظوں  کی محتاج ہے
آگ۔ پانی۔ ہوا۔ خاک سب لفظ ہیں
آنکھیں۔ چہرہ۔ جبیں۔ ہاتھ۔ لب لفظ ہیں
صبح و شام و شفق۔ روز و شب لفظ ہیں
وقت بھی لفظ ہے
وقت کا سازوآہنگ بھی
رنگ بھی سنگ بھی
امن بھی جنگ بھی
لفظ ہی لفظ ہیں
پھول بھی لفظ ہے
دھول بھی لفظ ہے
لفظ قاتل بھی ہے
لفظ مقتول بھی
لفظ ہی خوں بہا
لفظ دستِ دعا
لفظ عرض و سما
صبح شامِ بہاراں بھی        اک لفظ ہے
شامِ ہجرِ نگاراں بھی      اک لفظ ہے
رونقِ بزمِ یاراں بھی     اک لفظ ہے
محفلِ دل فگاراں بھی     اک لفظ ہے
میں بھی اک لفظ ہوں
تو  بھی اک لفظ ہے
آ کے لفظوں کی صورت فضاؤں میں مل کر بکھر جائیں ہم
اک نیا لفظ تخلیق کر جائیں ہم
آ کہ مر جائیں ہم
مکمل تحریر اور تبصرے >>

منزل و محمل- قطعہ

زخم بھرتا ہے چاک سِلتا ہے
غنچہؑ دل خوشی سے کھلتا ہے
دشمنوں کے ہجوم میں اے دوست
جب کوئی مہربان ملتا ہے
م۔م تبسم کاشمیری
مکمل تحریر اور تبصرے >>

منزل و محمل-- جذبات ہیں آبگینے

سکھایا نہیں پیار کرنا کسی نے
نہ کھیلو کے جذبات ہیں آبگینے
بنو درد کا دردمندوں کے درماں
اگر دل دیا ہے جہاں آفریں نے
خُدا مہرباں مجھ پہ۔ بندے ہیں دشمن
بہت کچھ دیا ہے مجھے بندگی نے
نظر آ گیا اس کا نقشِ کفِ پا
تو جھک کر اُٹھایا ہے لوحِ جبیں نے
اگر رازداں ہے عداوت پہ مائل
غزل لے لے۔ جانِ غزل تو نہ چھینے
زمانے میں لوگوں کو آئے نہ یا رب
جفا کے طریقے وفا کے قرینے
جلایا ہے کس نے مرا گھر نہ پوچھو
بھروسہ کیا تھا کسی پر ہمیں نے
بیاں میرا سن کر گواہوں کو اسکے
ندامت سے آنے لگے تھے پسینے
تبسم ہے بے بس وہاں  ناخدا بھی
بھنور میں جہاں ساتھ چھوڑیں سفینے
م۔م تبسم کاشمیری
مکمل تحریر اور تبصرے >>

منزل و محمل- خیمہ گاہ سبطِ نبی

خیمہ گاہ سبطِ نبی کی تھی مقامِ کربلا
اسلئے وردِ  زباں ہے سب کو نامِ کربلا
تشنہ کامانِ محبت اپنے رب سے جا ملے
دشمنوں کو دام میں لایا ہے دامِ کربلا
زندہؑ جاوید ہوتے ہیں شھیدانِ وفا
آ رہا ہے دمبدم اُن پر سلامِ کربلا
مشہد و مقتل کو کر دو پھر لہو سے سرخرو
اے عزادارو یہی ہے بس پیامِ کربلا
آج بھی موجود ہیں ہم میں حسین ابنِ علی
صبحِ تو کا دے رہی ہے مژدہ شامِ کربلا
پُھوٹ نکلا تھا سویرا جو شبِ عاشور سے
در حقیقت ہے وہی صبحِ دوامِ کربلا
کیوں کیا تھا بند پانی فاطمہ کے لال پر
علقمہ اب بھی ہے برہم۔ ہمکلامِ کربلا
ایکا لمحہ لے گیا تھا جنت الفردوس میں
حُر کی توبہ اور صداقت کا بنامِ کربلا
روز آتی ہے مدینے سے نسیمِ خوش خرام
رُو کشِ جنت ہوئی ہے صبح و شامِ کربلا
اُسوہؑ شبیر پر چل کر تبسم جان دو
مانتے ہو۔ ہے امام اپنا امامِ کربلا
 ------------
 فرد
 صدائیں آج بھی دیتی ہے کربلا کی زمین
مگر اب زمانے میں کوئی بھی حسین نہیں

م۔م تبسم کاشمیری
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Wednesday, 1 August 2012

منزل و محمل- شانِ محمد

مخلوق سے کیا ہو گی بیاں شانِ محمد
خُود خالقِ بر حق ہے ثنا خوانِ محمد
یہ راز عیاں ہوتا ہے تخلیقِ بشر سے
بَر تر ہیں ملائک سے غلامانِ محمد
چاہیں تو وہ دھتکار بھی دیں شاہوں کو در سے
وو طنطنہ رکھتے ہیں گدایانِ محمد
اظہارِ محبت کا اک انداز ہے یہ بھی
جبریلِ امیں بن گئے دربانِ محمد
ہیں حلقہ بگوش اُن کے جمادات و نباتات
اور شمس و قمر تابعِ فرمانِ محمد
اَللہ کی رحمت تو ہے اَللہ کی رحمت
فیضانِ محمد بھی ہے فیضانِ محمد
پھیلی ہوئی خوشبو میں کمی آ نہیں سکتی
شاداب ہے تا حشر گلستانِ محمد
سنتے نہیں جو ذوقِ سماعت سے ہیں محروم
ہے نغمہ سرا بلبلِ بستانِ محمد
خوش بخت ہیں وہ آج بھی جو دہر سے کٹ کر
ہَر آن ہیں شرمندہؑ اِحسانِ محمد
دنیا ہو کہ عقبےٰ ہو نہیں خوف تبسم
جب تک کہ ہیں وابستہؑ دامانِ محمد

قطعہ

ہے یاد جسے آج بھی فرمانِ محمد
حاصل ہے اُسے شفقتِ دامانِ محمد
بخشش اُسے لے لیگی قیامت کو پناہ میں
اللہ پہ ایمان ہے ایمانِ محمد
  م۔م تبسم کاشمیری
مکمل تحریر اور تبصرے >>

(منزل و محمل) قطعہ

غم و آلام میں امداد فرما
ہجومِ یاس سے آزاد فرما
چلے راہ پر تری تجھ سے ڈرے
عطا ایسی مجھے اولاد فرما
مکمل تحریر اور تبصرے >>