Pages

Subscribe:

Monday, 13 August 2012

ہم کہنے کو آزاد ہیں۔ آزاد نہیں ہیں


ہم کہنے کو آزاد ہیں ، آزاد نہیں ہیں
مسکانیں ہیں رخسار پہ ، دلشاد نہیں ہیں

انصاف کے روغن سے ہر اک شے کو سنوارا
غازہ سے محبت کے ترے رخ کو نکھارا
رونق تجھے دی ایسی کہ اقطاع جہاں نے
چڑیا تجھے سونے کی فقط کہہ کے پکارا

آبادیاں کیا ہم سے بھی آباد نہیں ہیں
ہم کہنے کو آزاد ہیں ، آزاد نہیں ہیں

ظالم کے مقابل میں سدا ہم ہی ڈٹے تھے
ملت کو بچانے کے لئے ہم ہی کٹے تھے
دشمن سے کبھی ملک کا سودا نہ کیا تھا
ہم نے ہی تو آزاد کے الفاظ رٹے تھے

آزادی دلا کے بھی کیا برباد نہیں ہیں؟
ہم کہنے کو آزاد ہیں ، آزاد نہیں ہیں

مجرم کو کھلا چھوڑا ہے کیسا ہے تماشا
بےکس کا گلہ گھونٹا ہے کیسا ہے تماشا
قانون کے متوالوں نے سر جوڑ کے بےشک
قانون کو خود توڑا ہے کیسا ہے تماشا

تیار وہ سننے کو بھی فریاد نہیں ہیں
ہم کہنے کو آزاد ہیں ، آزاد نہیں ہیں

سچوں کی گرفتاری بہت مہنگی پڑے گی
مظلوم کی یہ آہ بھی جب حد سے بڑھے گی
لوٹا گیا گھر بار یہاں جن کا بھی نادر
ظالم کے ہی سر ان کی وبا آ کے پڑے گی

مظلوم ہیں ہم ہند میں ، جلاد نہیں ہیں
ہم کہنے کو آزاد ہیں ، آزاد نہیں ہیں !!

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔