Pages

Subscribe:

Friday, 3 August 2012

آبِ جُو میں ایک طلسمی عکس ابھرا تھا ابھی


آبِ جُو میں ایک طلسمی عکس ابھرا تھا ابھی

دہکے عارض۔۔۔۔۔۔۔ آئینے میں تیز شعلوں کی ضیاء
احمریں لب۔۔۔۔۔۔۔۔ زخمِ تازہ موجِ خوں سے آشنا
تیکھے ابرو۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ لَوحِ سیمیں پر دھویں کا خط کھینچا
بکھرے گیسو۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ کالی راتوں کا ملائم ڈھیر سا
بہتی افشاں۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ جگمگاتی مشعلوں کا قافلہ
گہری آنکھیں۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ دور تک منظر سہانے خواب کا

آبِ جُو میں ایک طلسمی عکس ابھرا تھا ابھی

نُقرئی پانی کے جو آنچل میں جھلمل کر رہی تھی، کون تھی
حُور تھی تخیل کے رمزوں کی یا وہ جل پری تھی، کون تھی
اس پہیلی کی گِرہ کُھلنے سے پہلےہی نگاہوں پر میری
ریشمی قدموں کی آہٹ سے خلاء کی سبز چلمن آ گری
آبِ جُو میں نرم لہروں کا خرامِ بے جَرَس
یا کفِ ساحل پہ میرے نقش پا تھے اور بس

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔