Pages

Subscribe:

Monday, 27 August 2012

رہ گیا جانے کہاں قافلہ قندیلوں کا

رہ گیا جانے کہاں قافلہ قندیلوں کا
رات انبار اٹھا لائی ہے تاویلوں کا
بن گئے پاﺅں کی زنجیر پہاڑی رستے
چند قدموں کی مسافت تھی سفر میلوں کا
اب جو ریگ متلاطم میں گھرے بیٹھے ہیں
ہم نے صحراﺅں سے پوچھا تھا پتا جھیلوں کا
ہاتھ رہ رہ کے دعاﺅں کے لئے اٹھتے تھے
آسماں پر تھا نشان تک نہ ابابیلوں کا
پی گیا کون چھلکتے ہوئے امکاں یوسف
کیوں گھروں پر بھی گماں ہونے لگا ٹیلوں کا

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔