Pages

Subscribe:

Thursday, 2 August 2012

ایک نئے لفظ کی تخلیق

زندگی لفظ ہے
موت بھی لفظ ہے
زندگی کی تراشی ہوئی اولیں صورت سے سرحدِ موت تک
لفظ ہی لفظ ہیں
سانس بھی لفظ ہے
سانس لینے کی ہر اک ضرورت بھی لفظوں  کی محتاج ہے
آگ۔ پانی۔ ہوا۔ خاک سب لفظ ہیں
آنکھیں۔ چہرہ۔ جبیں۔ ہاتھ۔ لب لفظ ہیں
صبح و شام و شفق۔ روز و شب لفظ ہیں
وقت بھی لفظ ہے
وقت کا سازوآہنگ بھی
رنگ بھی سنگ بھی
امن بھی جنگ بھی
لفظ ہی لفظ ہیں
پھول بھی لفظ ہے
دھول بھی لفظ ہے
لفظ قاتل بھی ہے
لفظ مقتول بھی
لفظ ہی خوں بہا
لفظ دستِ دعا
لفظ عرض و سما
صبح شامِ بہاراں بھی        اک لفظ ہے
شامِ ہجرِ نگاراں بھی      اک لفظ ہے
رونقِ بزمِ یاراں بھی     اک لفظ ہے
محفلِ دل فگاراں بھی     اک لفظ ہے
میں بھی اک لفظ ہوں
تو  بھی اک لفظ ہے
آ کے لفظوں کی صورت فضاؤں میں مل کر بکھر جائیں ہم
اک نیا لفظ تخلیق کر جائیں ہم
آ کہ مر جائیں ہم

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔