Pages

Subscribe:

Monday, 27 August 2012

کتنے پیچ و تاب میں زنجیر ہونا ہے مجھے

کتنے پیچ و تاب میں زنجیر ہونا ہے مجھے
گرد میں گم خواب کی تعبیر ہونا ہے مجھے
جس کی تابندہ تڑپ صدیوں بھی سینوں میں بھی
ایک ایسے لمحے کی تفسیر ہونا ہے مجھے
خستہ دم ہوتے ہوئے دیوار و در سے کیا کہوں
کیسے خشت و خاک سے تعمیر ہونا مجھے
شہر کے معیار سے میں جو بھی ہوں جیسا بھی ہوں
اپنی ہستی سے تری توقیر ہونا ہے مجھے
اک زمانے کے لئے حرف غلط ٹھہرا ہوں میں
اک زمانے کا خط تقدیر ہونا مجھے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔