Pages

Subscribe:

Tuesday, 15 October 2013

غم کے ریلے میں دُھلے دِل کی دُعا عید کا چاندGham key raily mein dhullay dil ki dua eid ka chand

غم کے ریلے میں دُھلے دِل کی دُعا عید کا چاند
چشمِ پُر نم کو ہے رِم جھِم کی سزا عید کا چاند

پہلے آویزاں رہا گوہرِ مِژگاں پہ ہِلال
صبر کی ڈور کٹی ، چھن سے گرا عید کا چاند

غش میں دیکھا سَرِ دِہلیز کوئی زَخمی سر
رینگ کر اَوٹ میں بادل کی چھپا عید کا چاند

چند لمحے نظر آتا ہے ، چلا جاتا ہے
کچھ تو ہے جس پہ ہے ہم سب سے خفا عید کا چاند

عید ہے طفل تسلی ، مرے خوش خوش بچو!۔
بچپنے میں ہمیں بھاتا تھا بڑا عید کا چاند

سسکیاں ہجر گَزیدوں کی سِوا ہوتی گئیں
جانے کس دَرد کی ہوتا ہے دَوا عید کا چاند

چاند کو دیکھ کے اِک چاند بہت یاد آیا
اَب کے آنکھوں میں نہیں دِل میں چبھا عید کا چاند

گیلی لکڑی سا سلگتے تھے مگر زِندہ تھے
نیم جاں دِل کی جلاتا ہے چتا عید کا چاند

دیکھ کر مجھ کو ہنسا ، میں نے کچھ ایسے دیکھا
سال بھر ساتھ مرے روتا رہا عید کا چاند

نیم بسمل ہیں اِسی شہر میں ایسے بھی قیس
جن کے مر جانے کی کرتا ہے دُعا عید کا چاند
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Monday, 16 September 2013

اے چمن والو! متاعِ رنگ و بُو جلنے لگی aiy chaman walo mata e rang o boo

اے چمن والو! متاعِ رنگ و بُو جلنے لگی
ہر روش پر نکہتوں کی آبرو جلنے لگی

پھر لغاتِ زندگی کو دو کوئی حرفِ جُنوں
اے خرد مندو! ادائے گفتگو جلنے لگی

قصرِ آدابِ محبت میں چراغاں ہو گیا
ایک شمعِ نو ورائے ما و تو جلنے لگی

ہر طرف لُٹنے لگی ہیں جگمگاتی عصمتیں
عظمت انسانیت پھر چارسُو جلنے لگی

دے کوئی چھینٹا شراب ارغواں کا ساقیا
پھر گھٹا اُٹھی تمنّائے سبُو جلنے لگی

اِک ستارہ ٹوٹ کر معبودِ ظلمت بن گیا
اِک تجلّی آئینے کے رُو برُو جلنے لگی

دیکھنا ساغرخرامِ یار کی نیرنگیاں
آج پھُولوں میں بھی پروانوں کی خُو جلنے لگی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

محفلیں لُٹ گئیں جذبات نے دم توڑ دیا Mehfilein lut gain jazbat ney dam tod diya


محفلیں لُٹ گئیں جذبات نے دم توڑ دیا
ساز خاموش ہیں نغمات نے دم توڑ دیا

ہر مسرت غمِ دیروز کا عنوان بنی
وقت کی گود میں لمحات نے دم توڑ دیا

اَن گِنت محفلیں محرومِ چراغاں ہیں ابھی
کون کہتا ہے کہ ظلمات نے دم توڑ دیا

آج پھر بُجھ گئے جَل جَل کے امیدوں کے چراغ
آج پھر تاروں بھری رات نے دَم توڑ دیا

جن سے افسانۂ ہستی میں تسلسل تھا کبھی
اُن محبّت کی روایات نے دم توڑ دیا

جھلملاتے ہوئے اشکوں کی لڑی ٹوٹ گئی
جگمگاتی ہوئی برسات نے دم توڑ دیا

ہائے آدابِ محبّت کے تقاضے ساغر
لب ہلے اور شکایات نے دم توڑ دیا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Monday, 9 September 2013

کیا یہ ظلم تھوڑا ہے؟ Kia yey zulm thoda hai

حکیم شہر بتا

وقت کے شکنجوں نے

خواہشوں کے پھولوں کو

نوچ نوچ توڑا ہے

کیا یہ ظلم تھوڑا ہے؟

درد کے جزیروں نے

آرزو کے جیون کو

مقبروں میں ڈالا ہے

ظلمتوں کے ڈیرے ہیں

لوگ سب لٹیرے ہیں

موت روٹھ بیٹھی ہے

ذات ریزہ ریزہ ہے

تارتار آنچل ہے

درد درد جیون ہے

شبنمی سی پلکیں ہیں

قرب ہے نہ دوری ہے

زندگی ادھوری ہے

مجھ کو

اب یقین آیا ہے کہ

موت بھی ضروری ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Monday, 15 July 2013

موسمِ گل کے لیے بارِ گراں چھوڑ گئی Mosem e gul key lieyey bar e gran chod gai

موسمِ گل کے لیے بارِ گراں چھوڑ گئی
زرد پتّے جو گلستاں میں خزاں چھوڑ گئی

مجھ کو تنہائی کے احساس سے ڈر لگتا ہے
تو مجھے عمرِ رواں جانے کہاں چھوڑ گئی

ترا احسان ہے اے فصلِ بہاراں مجھ پر
جاتے جاتے مرے ہونٹوں پہ فغاں چھوڑ گئی

یہ شکایت ہے عبث ہم سے تری گردشِ وقت
دیکھ ہم اب بھی وہیں ہیں، تو جہاں چھوڑ گئی

شمع روشن تھی تو محفل میں بھی رونق تھی صباؔ
گل ہوئی شمع تو محفل میں دھواں چھوڑ گئی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ملبوس جب ہوا نے بدن سے چرا لئے Malboos jab hawa ney badan sey chura lieye

ملبوس جب ہوا نے بدن سے چرا لئے
دوشیزگانِ صبح نے چہرے چھپا لئے

ہم نے تو اپنے جسم پر زخموں کے آئینے
ہر حادثے کی یاد سمجھ کر سجا لئے

میزانِ عدل تیرا جھکاؤ ہے جس طرف
اس سمت سے دلوں نے بڑے زخم کھا لئے

دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لئے

لوگوں کی چادروں پہ بناتی رہی وہ پھول
پیوند اس نے اپنی قبا میں سجا لئے

ہر حرملہ کے دوش پہ ترکش کو دیکھ کر
ماؤں نے اپنی گود میں بچے چھپا لئے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

مسافروں میں ابھی تلخیاں پرانی ہیں Musafroon mein abi talkhyan puraani hain

مسافروں میں ابھی تلخیاں پرانی ہیں
سفر نیا ہے مگر کشتیاں پرانی ہیں

یہ کہہ کے اس نے شجر کو تنے سے کاٹ دیا
کہ اس درخت میں کچھ ٹہنیاں پرانی ہیں

ہم اس لیے بھی نئے ہم سفر تلاش کریں
ہمارے ہاتھ میں بیساکھیاں پرانی ہیں

عجیب سوچ ہے اس شہر کے مکینوں کی
مکاں نئے ہیں مگر کھڑکیاں پرانی ہیں

پلٹ کے گاؤں میں میں اس لیے نہیں آیا
مرے بدن پہ ابھی دھجیاں پرانی ہیں

سفر پسند طبیعت کو خوفِ صحرا کیا
صباؔ ہوا کی وہی سیٹیاں پرانی ہیں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

لفظوں میں ڈھال ڈھال کے میں حادثات کو Lafzoon mein dhal dhal key mein khadsaat ko


لفظوں میں ڈھال ڈھال کے میں حادثات کو
ترتیب دے رہا ہوں کتابِ حیات کو

میرا خلوص پاؤں کی زنجیر بن گیا
میرے بدن میں دفن کرو میری ذات کو

ہر آدمی کا نامۂ اعمال ہے سیاہ
کس کے حضور پیش کروں کاغذات کو

وہ شخص میرے حلقۂ احباب میں رہا
لیکن سمجھ سکا نہ مری نفسیات کو

گر تم مرے شریکِ سفر ہو تو ساتھ دو
آؤ گلے لگائیں غمِ کائنات کو
مکمل تحریر اور تبصرے >>

لبِ اظہار پہ جب حرفِ گواہی آئے Lab e Izhar pay jab harf e gawahhi aayey


لبِ اظہار پہ جب حرفِ گواہی آئے
آہنی ہار لئے در پہ سپاہی آئے

وہ کرن بھی تو مرے نام سے منسوب کرو
جس کے لٹنے سے مرے گھر میں سیاہی آئے

میرے ہی عہد میں سورج کی تمازت جاگے
برف کا شہر چٹخنے کی صدا ہی آئے

اتنی پرہول سیاہی کبھی دیکھی تو نہ تھی
شب کی دہلیز پر جلنے کو دیا ہی آئے

رہ روِ منزلِ مقتل ہوں، مرے ساتھ صباؔ
جو بھی آئے وہ کفن اوڑھ کے راہی آئے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

گاؤں گاؤں خاموشی، سرد سب الاؤ ہیں Gaoon gaoon khamoshi sard sab alao hain


گاؤں گاؤں خاموشی، سرد سب الاؤ ہیں
رہروِ رہِ ہستی کتنے اب پڑاؤ ہیں

رات کی عدالت میں جانے فیصلہ کیا ہو
پھول پھول چہروں پہ ناخنوں کے گھاؤ ہیں

اپنے لاڈلوں سے بھی جھوٹ بولتے رہنا
زندگی کی راہوں میں ہر قدم پہ داؤ ہیں

روشنی کے سوداگر ہر گلی میں آ پہنچے
زندگی کی کرنوں کے آسماں پہ بھاؤ ہیں

چاہتوں کے سب پنچھی اڑ گئے پرائی اور
نفرتوں کے گاؤں میں جسم جسم گھاؤ ہیں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Thursday, 11 July 2013

قرب جز داغِ جدائی نہیں دیتا کچھ بھی Qurb juz Daag e Judai nahin daita kuch bhi

قرب جز داغِ جدائی نہیں دیتا کچھ بھی
تُو نہیں ہے تو دکھائی نہیں دیتا کچھ بھی
دل کے زخموں کو نہ رو، دوست کا احسان سمجھ
ورنہ وہ دستِ حنائی نہیں دیتا کچھ بھی
کیا اسی زہر کو تریاق سمجھ کر پی لیں
ناصحوں کو تو سجھائی نہیں دیتا کچھ بھی
ایسا گم ہوں تری یادوں کے بیابانوں میں
دل نہ دھڑکے تو سنائی نہیں دیتا کچھ بھی
سوچتا ہوں تو ہر اک نقش میں دنیا آباد
دیکھتا ہوں تو دکھائی نہیں دیتا کچھ بھی
یوسفِ شعر کو کس مصر میں لائے ہو فراز
ذوقِ آشفتہ نوائی نہیں دیتا کچھ بھی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Friday, 7 June 2013

سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں Suna hai log usay Ankh bhar key daikhtey hain

سنا ہے لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
تو اس کے شہر میں‌کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کی
سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف
تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے
ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں
سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے حشر ہیں‌اس کی غزال سی آنکھیں
سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں‌کاکلیں اس کی
سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے
سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے جب سے حمائل ہیں اس کی گردن میں
مزاج اور ہی لعل و گوہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے
کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں
سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اس کی
جو سادہ دل ہیں‌اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں
سنا ہے چشمِ تصور سے دشتِ امکاں میں
پلنگ زاویے اس کی کمر کے دیکھتے ہیں
وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں
کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں
بس اک نگاہ سے لوٹا ہے قافلہ دل کا
سو رہ روان تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے شبستاں سے متُّصل ہے بہشت
مکیں‌ اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں
کسے نصیب کہ بے پیرہن اسے دیکھے
کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں
رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں
چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
کہانیاں ہی سہی ، سب مبالغے ہی سہی
اگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں
اب اس کے شہر میں‌ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں
فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں‌
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Thursday, 9 May 2013

گرفتہ دل ہیں بہت آج تیرے دیوانے Garfita dil hain bohat Aaj terey deewaney

گرفتہ دل ہیں بہت آج تیرے دیوانے
خدا کرے کوئ تیرے سوا نہ پہچانے
مٹی مٹی سی امیدیں تھکے تھکے سے خیال
بجھے بجھے سے نگاہوں میں غم کے افسانے
ہزار شکر کہ ہم نے زباں سے کچھ نہ کہا
یہ اور بات کہ پوچھا نہ اہلِ دنیا نے
بقدرِ تشنہ لبی پرسشِ وفا نہ ہوئ
چھلک کے رہ گۓ تیری نظر کے پیمانے
خیال آگیا مایوس رہ گزاروں کا
پلٹ کے آ گۓ منزل سے تیرے دیوانے
کہاں ہے تو کہ ترے انتظار میں اے دوست
تمام رات سلگتے ہیں دل کے ویرانے
امیدِ پرسشِ غم کس سے کیجیے ناصر
جو اپنے دل پہ گزرتی ہے کوئ کیا جانے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ترے ملنے کو بے کل ہو گۓ ہیں Teray milney ko bekal ho gayey hain


ترے ملنے کو بے کل ہو گۓ ہیں
مگر یہ لوگ پاگل ہو گۓ ہیں
بہاریں لے کے آۓ تھے جہاں تم
وہ گھر سنسان جنگل ہو گۓ ہیں
یہاں تک بڑھ گۓ آلامِ ہستی
کہ دل کے حوصلے شل ہو گۓ ہیں
کہاں تک لاۓ ناتواں دل
کہ صدمے اب مسلسل ہو گۓ ہیں
نگاہِ یاس کو نیند آ رہی ہے
مژہ پر اشک بوجھل ہو گۓ ہیں
انھیں صدیوں نہ بھولے گا زمانہ
یہاں جو حادثے کل  ہو گۓ ہیں
جنھیں ہک دیکھ کر جیتے تھے ناصر
وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گۓ ہیں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

مایوس نہ ہو اداس راہی Mayoos na ho udaas rahi


مایوس نہ ہو اداس راہی
پھر آۓ گا دورِ صبح گاہی
اے منتظرِ طلوعِ فردا
بدلے گا جہانِ مرغ و ماہی
پھر خاک نشیں اُٹھائیں گے سر
مٹنے کو ہے نازِ کج کلاہی
انصاف کا دن قریب تر ہے
پھر داد طلب ہے بے گناہی
پھر اہلِ وفا کا دور ہوگا
ٹوٹے گا طلسمِ جم نگاہی
آئینِ جہاں بدل رہا ہے
بدلیں گے اوامر و نواہی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

کیا دن مجھے عشق نے دکھاۓ Kia din mujhey ishq ney dikhayey


کیا دن مجھے عشق نے دکھاۓ
اِک بار جو آۓ پھر نہ آۓ
اُس پیکرِ ناز کا فسانہ
دل ہوش میں آۓ تو سُناۓ
وہ روحِ خیال و جانِ مضموں
دل اس کو کہاں سے ڈھونڈھ لاۓ
آنکھیں تھیں کہ دو چھلکتے ساغر
عارض کہ شراب تھرتھراۓ
مہکی ہوئ سانس نرم گفتار
ہر ایک روش پہ گل کھلاۓ
راہوں پہ ادا ادا سے رقصاں
آنچل میں حیا سے منہ چھپاۓ
اُڑتی ہوئ زلف یوں پریشاں
جیسے کوئ راہ بھول جاۓ
کچھ پھول برس پڑے زمیں پر
کچھ گیت ہوا میں لہلہاۓ
مکمل تحریر اور تبصرے >>

محرومِ خواب دیدۂ حیراں نہ تھا کبھی Mahroom e khwaab deeda e hairan na tha kabhi


محرومِ خواب دیدۂ حیراں نہ تھا کبھی
تیرا یہ رنگ اے شبِ ہجراں نہ تھا کبھی
تھا لطفِ وصل اور کبھی افسونِ انتظار
یوں دردِ ہجر سلسلہ جنباں نہ تھا کبھی
پرساں نہ تھا کوئ تو یہ رسوائیاں نہ تھیں
ظاہر کسی پہ حالِ پریشاں نہ تھا کبھی
ہر چند غم بھی تھا مگر احساسِ غم نہ تھا
درماں نہ تھا تو ماتمِ درماں نہ تھا کبھی
دن بھی اُداس اور مری رات بھی اداس
ایسا تو وقت اے غمِ دوراں نہ تھا کبھی
دورِ خزاں میں یوں مرا دل بے قرار ہے
میں جیسے آشناۓ بہاراں نہ تھا کبھی
کیا دن تھے جب نظر میں خزاں بھی بہار تھی
یوں اپنا گھر بہار میں ویراں نہ تھا کبھی
بے کیف و بے نشاط نہ تھی اس قدر حیات
جینا اگرچہ عشق میں آساں نہ تھا کبھی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی Hoti hai teray naam sey wahshat kabhi khbhi


ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی
برہم ہوئ ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھی
اے دل کسے نصیب یہ توفیقِ اضطراب
ملتی ہے زندگی میں یہ راحت کبھی کبھی
تیرے کرم سے اے اَلمِ حسن آفریں
دل بن گیا ہے دوست کی خلوت کبھی کبھی
جوشِ جنوں میں درد کی طغیانیوں کے ساتھ
اشکوں میں ڈھل گئ تری صورت کبھی کبھی
تیرے قریب رہ کے بھی دل مطمئن نہ تھا
گزری ہے مجھ پہ یہ بھی قیامت کبھی کبھی
کچھ اپنا ہوش تھا نہ تمھارا خیال تھا
یوں بھی گزر گئ شبِ فرقت کبھی کبھی
اے دوست ہم نے ترکِ محبّت کے باوجود
محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Friday, 26 April 2013

اس کشمکشِ ہستی میں کوئی راحت نہ ملی جو غم نہ ہوئی Iss khashmakash e hasti mein koi rahat


اس کشمکشِ ہستی میں کوئی راحت نہ ملی جو غم نہ ہوئی
تدبیر کا حاصل کیا کہیئے تقدیر کی گردش کم نہ ہوئی

اللہ رے سکونِ قلب اس کا، دل جس نے لاکھوں توڑ دئیے
جس زلف نے دنیا برہم کی وہ آپ کبھی برہم نہ ہوئی

غم راز ہے اُن کی تجلی کا جو عالم بن کر عام ہُوا
دل نام ہے اُن کی تجلی کا جو راز رہی عالم نہ ہوئی

یہ دل کی ویرانی ہی عجب ہے، وہ بھی آخر کیا کرتے
جب دل میں ان کے رہتے بستے یہ ویرانی کم نہ ہوئی

انسان کی ساری ہستی کا مقصود ہے فانی ایک نظر
یعنی وہ نظر جو دل میں اُتر کر زخم بنی، مرہم نہ ہوئی

مکمل تحریر اور تبصرے >>

موت کی رسم نہ تھی , ان کی ادا سے پہلے Mout ki rasm na thi un ki ada sey pehley


موت کی رسم نہ تھی , ان کی ادا سے پہلے
 زندگی درد بنائی تھی , دوا سے پہلے

 کاٹ ہی دیں گے قیامت کا دن اک اور سہی
 دن گزارے ہیں محبّت میں قضا سے پہلے

 دو گھڑی کے لئے میزان عدالت ٹھہرے
 کچھ مجھے حشر میں کہنا ہے خدا سے پہلے

 تم جوانی کی کشاکش میں کہاں بھول اٹھے
 وہ جو معصوم شرارت تھی ادا سے پہلے

 دار فانی میں یہ کیا ڈھونڈھ رہی ہے فانی
 زندگی بھی کہیں ملتی ہے فنا سے پہلے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Thursday, 25 April 2013

ہم مسافر یونہی مصروفِ سفر جائیں گے Hum musafir yunhi masroof e safar jayeney gey

ہم مسافر یونہی مصروفِ سفر جائیں گے
بے نشاں ہو گئے جب شہر تو گھر جائیں گے

کس قدر ہو گا یہاں مہر و وفا کا ماتم
ہم تری یاد سے جس روز اتر جائیں گے

جوہری بند کیے جاتے ہیں بازارِ سخن
ہم کسے بیچنے الماس و گہر جائیں گے

نعمتِ زیست کا یہ قرض چکے گا کیسے
لاکھ گھبرا کے یہ کہتے رہیں، مر جائیں گے

شاید اپنا بھی کوئی بیت حُدی خواں بن کر
ساتھ جائے گا مرے یار جدھر جائیں گے

فیض آتے ہیں رہِ عشق میں جو سخت مقام
آنے والوں سے کہو ہم تو گزر جائیں گے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Monday, 25 March 2013

چاک دامن کو جو دیکھا تو ملا عید کا چاند Chaak daaman ko jo daikha to mila eid ka chand

چاک دامن کو جو دیکھا تو ملا عید کا چاند
اپنی تقدیر کہاں بھول گیا عید کا چاند

ان کے ابروئے خمیدہ کی طرح تیکھا ہے
اپنی آنکھوں میں بڑی دیر چبھا، عید کا چاند

جانے کیوں آپ کے رخسار مہک اٹھتے ہیں
جب کبھی کان میں چپکے سے کہا، "عید کا چاند"

دور ویران بسیرے میں دیا ہو جیسے
غم کی دیوار سے دیکھا تو لگا عید کا چاند

لے کے حالات کے صحراؤں میں آ جاتا ہے
آج بھی خلد کی رنگین فضا، عید کا چاند

تلخیاں بڑھ گئیں جب زیست کے پیمانے میں
گھول کر درد کے ماروں نے پیا عید کا چاند

چشم تو وسعت افلاک میں کھوئی ساغر
دل نے اک اور جگہ ڈھونڈ لیا عید کا چاند
مکمل تحریر اور تبصرے >>

میں التفاتِ یار کا قائل نہیں ہوں دوست Mein altafat e yaar ka qayal nahin hoon dost

میں التفاتِ یار کا قائل نہیں ہوں دوست
سونے کے نرم تار کا قائل نہیں ہوں دوست

مُجھ کو خزاں کی ایک لُٹی رات سے ہے پیار
میں رونقِ بہار کا قائل نہیں ہُوں دوست

ہر شامِ وصل ہو نئی تمہیدِ آرزو
اتنا بھی انتظار کا قائل نہیں ہوں دوست

دوچار دن کی بات ہے یہ زندگی کی بات
دوچار دن کے پیار کا قائل نہیں ہُوں دوست

جس کی جھلک سے ماند ہو اشکوں کی آبرُو
اس موتیوں کے ہار کا قائل نہیں ہُوں دوست

لایا ہُوں بے حساب گناہوں کی ایک فرد
محبوب ہُوں شمار کا قائل نہیں ہُوں دوست

ساغر بقدرِ ظرف لُٹاتا ہُوں نقدِ ہوش
ساقی سے میں اُدھار کا قائل نہیں ہوں دوست
مکمل تحریر اور تبصرے >>

دستور یہاں بھی گونگے ہیں فرمان یہاں بھی اندھے ہیں Dastoor yahan bhi goongay hain farman yahan bhi andhay hain

دستور یہاں بھی گونگے ہیں فرمان یہاں بھی اندھے ہیں
اے دوست خدا کا نام نہ لے ایمان یہاں بھی اندھے ہیں

تقدیر کے کالے کمبل میں عظمت کے فسانے لپٹے ہیں
مضمون یہاں بھی بہرے ہیں عنوان یہاں بھی اندھے ہیں

زر دار توقّع رکھتا ہے نادار کی گاڑھی محنت پہ
مزدور یہاں بھی دیوانے ذیشان یہاں بھی اندھے ہیں

کچھ لوگ بھروسہ کرتے ہیں تسبیح کے چلتے دانوں پر
بے چین یہاں یزداں کا جنوں انسان یہاں بھی اندھے ہیں

بے نام جفا کی راہوں پر کچھ خاک سی اڑتی دیکھی ہے
حیران ہیں دلوں کے آئینے نادان یہاں بھی اندھے ہیں

بے رنگ شفق سی ڈھلتی ہے بے نور سویرے ہوتے ہیں
شاعر کا تصوّر بھوکا ہے سلطان یہاں بھی اندھے ہیں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

آ جا کہ انتظار ِ نظر ہیں کبھی سے ہم Aa ja keh intazaar e nazar hain kabhi sey hum

آ جا کہ انتظار ِ نظر ہیں کبھی سے ہم
مایوس ہو نہ جائیں کہیں زندگی سے ہم

اے عکسِ زلفِ یار ہمیں تو پناہ دے
گھبرا کے آ گئے ہیں بڑی روشنی سے ہم

برسوں رہی ہے جن سے رہ و رسمِ دوستی
انکی نظر میں آج ہوئے اجنبی سے ہم

اس رونق ِ بہار کی محفل میں بیٹھ کر
کھاتے رہے فریب بڑی سادگی سے ہم
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Thursday, 14 March 2013

ہمنشیں! پوچھ نہ مجھ سے کہ محبت کیا ہے Humnasheen pooch na mujh say keh mohabat kia hai

ہمنشیں! پوچھ نہ مجھ سے کہ محبت کیا ہے
اشک آنکھوں میں ابل آتے ہیں اس نام کے ساتھ
تجھ کو تشریحِ محبت کا پڑا ہے دورہ
پھر رہا ہے مرا سر گردشِ ایام کے ساتھ
سن کر نغموں میں ہے محلول یتیموں کی فغاں!
قہقہے گونج رہے ہیں یہاں کہرام کے ساتھ
پرورش پاتی ہے دامانِ رفاقت میں ریا
اہلِ عرفاں کی بسر ہوتی ہے اصنام کے ساتھ
کوہ و صحرا میں بہت خوار لئے پھرتی ہے
کامیابی کی تمنا دلِ ناکام کے ساتھ
یاس آئینۂ امید میں نقاشِ الم
پختہ کاری کا تعلق ہوسِ خام کے ساتھ
شب ہی کچھ نازکشِ پرتوِ خورشید نہیں
سلسلہ تونگر کے شبستاں میں چراغانِ بہشت
وعدۂ خلدِ بریں کشتۂ آلام کے ساتھ
کون معشوق ہے ، کیا عشق ہے ، سودا کیا ہے؟
میں تو اس فکر میں گم ہوں کہ یہ دنیا ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Tuesday, 12 March 2013

ہر صبح پرندوں نے یہ سوچ کے پر کھولے Har subh parindoon ney yey soch key par kholey

ہر صبح پرندوں نے یہ سوچ کے پر کھولے
اِن آہنی پنجروں کے شاید کوئی در کھولے
ذہنوں پہ تکبّر کے آسیب کا سایہ ہے
اولاد پہ بھی ہم نے اپنے نہ ہنر کھولے
زر دار کے کمرے کی دیوار کے سائے میں
بیٹھے ہیں زمیں زادے کشکولِ نظر کھولے
اس شہر خیانت کے بے مہر مکینوں نے
دیوارِ حفاظت کے دن ڈھلتے ہی در کھولے
ہم سہل پسندوں نے آنکھیں ہی نہیں کھولیں
دھرتی تو ازل سے ہے گنجینۂ زر کھولے
ساون مری آنکھوں سے خوں بن کے برستا ہے
جب کوئی زمیں زادی دربار میں سر کھول
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Wednesday, 27 February 2013

ہم مسافر یونہی مصروفِ سفر جائیں گے Hum musaafir yunhin masroof e safar


ہم مسافر یونہی مصروفِ سفر جائیں گے
بے نشاں ہو گئے جب شہر تو گھر جائیں گے

کس قدر ہو گا یہاں مہر و وفا کا ماتم
ہم تری یاد سے جس روز اتر جائیں گے

جوہری بند کیے جاتے ہیں بازارِ سخن
ہم کسے بیچنے الماس و گہر جائیں گے

نعمتِ زیست کا یہ قرض چکے گا کیسے
لاکھ گھبرا کے یہ کہتے رہیں، مر جائیں گے


شاید اپنا بھی کوئی بیت حُدی خواں بن کر
ساتھ جائے گا مرے یار جدھر جائیں گے

فیض آتے ہیں رہِ عشق میں جو سخت مقام
آنے والوں سے کہو ہم تو گزر جائیں گے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Monday, 25 February 2013

حضورِ یار میں حرف التجا کے رکھے تھے Hazoor e yaar mein harf iltja key rakhey they

حضورِ یار میں حرف التجا کے رکھے تھے
چراغ سامنے جیسے ہَوا کے رکھے تھے

بس ایک اشکِ ندامت نے صاف کر ڈالے
وہ سب حساب جو ہم نے اُٹھا کے رکھے تھے

سمومِ وقت نے لہجے کو زخم زخم کیا
وگرنہ ہم نے قرینے صَبا کے رکھے تھے

بکھر رہے تھے سو ہم نے اُٹھا لیے خود ہی
گلاب جو تری خاطر سجا کے رکھے تھے

ہوا کے پہلے ہی جھونکے سے ہار مان گئے
وہی چراغ جو ہم نے بچا کے رکھے تھے

تمہی نے پاؤں نہ رکھا وگرنہ وصل کی شب
زمیں پہ ہم نے ستارے بچھا کے رکھے تھے!

مٹا سکی نہ انہیں روز و شب کی بارش بھی
دلوں پہ نقش جو رنگِ حنا کے رکھے تھے

حصولِ منزلِ دُنیا کُچھ ایسا کام نہ تھا
مگر جو راہ میں پتھر اَنا کے رکھے تھ
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Monday, 18 February 2013

آندھی چلی تو گرد سے ہر چیز اَٹ گئی Aandhi chali to gard say har cheez at gai

آندھی چلی تو گرد سے ہر چیز اَٹ گئی
دیوار سے لگی تری تصویر پھٹ گئی

لمحوں کی تیز دوڑ میں، میں بھی شریک تھا
میں تھک کے رک گیا تو مری عمر گھٹ گئی

اس زندگی کی جنگ میں ہر اک محاذ پر
میرے مقابلے میں مری ذات ڈٹ گئی

سورج کی برچھیوں سے مرا جسم چھد گیا
زخموں کی سولیوں پہ مری رات کٹ گئی

احساس کی کرن سے لہو گرم ہو گیا
سوچوں کے دائروں میں تری یاد بٹ گئی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Wednesday, 13 February 2013

غمِ زندگی تیرا شکریہ تیرے فیض ہی سے یہ حال ہے Gham e zindgi tera shukria terey faiz

غمِ زندگی تیرا شکریہ تیرے فیض ہی سے یہ حال ہے
وہی صبح و شام کی الجھنیں، وہی رات دن کا وبال ہے

نہ چمن میں بُوئے سمن رہی نہ ہی رنگِ لالہ و گل رہا
تو خفا خفا سا ہے واقعی کہ یہ صرف میرا خیال ہے

اسے کیسے زیست کہے کوئی گہے آہِ دل گہے چشمِ نم
وہی رات دن کی مصیبتیں وہی ماہ ہے وہی سال ہے

میں غموں سے ہوں جو یوں مطمئن تُو برا نہ مانے تو میں کہوں
تیرے حسن کا نہیں فیض کچھ، میری عاشقی کا کمال ہے

ہے یہ آگ کیسی لگی ہوئی میرے دل کو آج ہُوا ہے کیا
جو ہے غم تو ہے غمِ آرزو، اگر ہے تو فکرِ وصال ہے

کوئی کاش مجھ کو بتا سکے رہ و رسمِ عشق کی الجھنیں
وہ کہے تو بات پتے کی ہے میں کہوں تو خام خیال ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Sunday, 3 February 2013

گلہ ہوا سے نہیں ہے ہوا تو اندھی تھی Gila hawa say nahin hai hawa to andhi thi

گلہ ہوا سے نہیں ہے ہوا تو اندھی تھی
مگر وہ برگ کہ ٹوٹے تو پھر ہرے نہ ہوئے
مگر وہ سر کہ جھکے اور پھر کھڑے نہ ہوئے
مگر وہ خواب کہ بکھرے تو بے نشاں ٹھہرے
مگر وہ ہاتھ کہ بچھڑے تو استخواں ٹھہرے

گلہ ہوا سے نہیں تُندیِ ہوا سے نہیں
ہنسی کے تیر چلاتی ہوئی فضا سے نہیں
عدو کے سنگ سے اغیار کی جفا سے نہیں

گلہ تو گرتے مکانوں کے بام و در سے ہے
گلہ تو اپنے بکھرتے ہوئے سفر سے ہے

ہوا کا کام تو چلنا ہے اس کو چلنا تھا
کوئی درخت گرے یا رہے اُسے کیا ہے
گلہ تو اہلِ چمن کے دل و نظر سے ہے
خزاں کی دھول میں لپٹے ہوئے شجر سے ہے
گلہ سحر سے نہیں رونقِ سحر سے ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Monday, 21 January 2013

اگرچہ ہم جا رہے ہیں محفل سے نالۂ دلفگار بن کر Agarcha hum ja rahey hain mehfil say

اگرچہ ہم جا رہے ہیں محفل سے نالۂ دلفگار بن کر
مگر یقیں ہے کہ لوٹ آئیں گے نغمۂ نوبہار بن کر

یہ کیا قیامت ہے باغبانو کہ جن کی خاطر بہار آئی
وہی شگوفے کھٹک رہے ہیں تمہاری آنکھوں میں خار بن کر

جہاں والے ہمارے گیتوں سے جائزہ لیں گے سسکیوں کا
جہان میں پھیل جائیں گے ہم بشر بشر کی پکار بن کر

بہار کی بدنصیب راتیں بلا رہی ہیں چلے بھی آؤ
کسی ستارے کا روپ لے کر کسی کے دل کا قرار بن کر

تلاش منزل کے مرحلوں میں یہ حادثہ اک عجیب دیکھا
فریب راہوں میں بیٹھ جاتا ہے صورت اعتبار بن کر

غرور مستی نے مار ڈالا وگرنہ ہم لوگ جی ہی لیتے
کسی کی آنکھوں کا نور ہو کر کسی کے دل کا قرار بن کر

دیارِ پیر مغاں میں آ کر یہ اک حقیقت کھلی ہے ساغر
خدا کی بستی میں رہنے والے تو لوٹ لیتے ہیں یار بن کر
مکمل تحریر اور تبصرے >>

پوچھا کسی نے حال کسی کا تو رو دیے Poocha kisi ney haal kisi ka to ro diyey

پوچھا کسی نے حال کسی کا تو رو دیے
پانی میں عکس چاند کا دیکھا تو رو دیے

نغمہ کسی نے ساز پہ چھیڑا تو رو دیے
غنچہ کسی نے شاخ سے توڑا تو رو دیے

اڑتا ہوا غبار سرِ راہ دیکھ کر
انجام ہم نے عشق کا سوچا تو رو دیے

بادل فضا میں آپ کی تصویر بن گئے
سایہ کوئی خیال سے گزرا تو رو دیے

رنگِ شفق سے آگ شگوفوں میں لگ گئی
ساغر ہمارے ہاتھ سے چھلکا تو رو دیے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

نظر نظر بیقرار سی ہے نفس نفس پر اسرار سا ہے Nazar nazar beqrar si hai nafas nafas purisrar sa hai

نظر نظر بیقرار سی ہے نفس نفس پر اسرار سا ہے
میں جانتا ہوں کہ تم نہ آؤ گے پھر بھی کچھ انتظار سا ہے

مرے عزیزو! میرے رفیقو! چلو کوئی داستان چھیڑو
غم زمانہ کی بات چھوڑو یہ غم تو اب سازگار سا ہے

وہی فسر دہ سا رنگ محفل وہی ترا ایک عام جلوہ
مری نگاہوں میں بار سا تھا مری نگاہوں میں بار سا ہے

کبھی تو آؤ ! کبھی تو بیٹھو! کبھی تو دیکھو! کبھی تو پوچھو
تمہاری بستی میں ہم فقیروں کا حال کیوں سوگوار سا ہے

چلو کہ جشن بہار دیکھیں چلو کہ ظرف بہار جانچیں
چمن چمن روشنی ہوئی ہے کلی کلی پہ نکھار سا ہے

یہ زلف بر دوش کون آیا یہ کس کی آہٹ سے گل کھلے ہیں
مہک رہی ہے فضائے ہستی تمام عالم بہار سا ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

میں تلخیٔ حیات سے گھبرا کی پی گیا Mein talhi e hayat say ghabra key pi gya

میں تلخیِ حیات سے گھبرا کے پی گیا
غم کی سیاہ رات سے گھبرا کے پی گیا

اتنی دقیق شے کوئی کیسے سمجھ سکے
یزداں کے واقعات سے گھبرا کے پی گیا

چھلکے ہوئے تھے جام، پریشان تھی زلف یار
کچھ ایسے حادثات سے گھبرا کے پی گیا

میں آدمی ہوں، کوئی فرشتہ نہیں حضور
میں آج اپنی ذات سے گھبرا کے پی گیا

دنیائے حادثات ہے اک درد ناک گیت
دنیائے حادثات سے گھبرا کے پی گیا

کانٹے تو خیر کانٹے ہیں ان سے گلہ ہے کیا
پھولوں کی واردات سے گھبرا کے پی گیا

ساغر وہ کہہ رہے تھے کی پی لیجئے حضور
ان کی گزارشات سے گھبرا کے پی گیا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Wednesday, 16 January 2013

فضائے نیم شبی کہہ رہی ہے سب اچھا Fizayey neem shabi keh rahi hai sab acha

فضائے نیم شبی کہہ رہی ہے سب اچھا
    ہماری بادہ کشی کہہ رہی ہے سب اچھا

    نہ اعتبارِ محبت، نہ اختیارِ وفا
    جُنوں کی تیز روی کہہ رہی ہے سب اچھا

    دیارِ ماہ میں تعمیر مَے کدے ہوں گے
    کہ دامنوں کی تہی کہہ رہی ہے سب اچھا

    قفس میں یُوں بھی تسلّی بہار نے دی ہے
    چٹک کے جیسے کلی کہہ رہی ہے سب اچھا

    وہ آشنائے حقیقت نہیں تو کیا غم ہے
    حدیثِ نامہ بَری کہہ رہی ہے سب اچھا

    تڑپ تڑپ کے شبِ ہجر کاٹنے والو
    نئی سحر کی گھڑی کہہ رہی ہے سب اچھا

    حیات و موت کی تفریق کیا کریں ساغر
    ہماری شانِ خود کہہ رہی ہے سب اچھا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Monday, 14 January 2013

زلفوں کی گھٹائیں پی جاؤ Zulfoon ki ghatayen pi jao

زلفوں کی گھٹائیں پی جاؤ
وہ جو بھی پلائیں پی جاؤ

اے تشنہ دہانِ جور خزاں
پھولوں کی ادائیں پی جاؤ

تاریکی دوراں کے مارو
صبحوں کی ضیائیں پی جاؤ

نغمات کا رس بھی نشہ ہے
بربط کی صدائیں پی جاؤ

مخمور شرابوں کے بدلے
رنگین خطائیں پی جاؤ

اشکوں کا مچلنا ٹھیک نہیں
بے چین دعائیں پی جاؤ
مکمل تحریر اور تبصرے >>

برگشتۂ یزداں سے کچھ بھول ہوئی ہے Bar gashta e yazdaan sey kuch bhool hoi hai

برگشتۂ یزداں سے کچھ بھول ہوئی ہے
بھٹکے ہوئے انساں سے کچھ بھول ہوئی ہے

تا حّد نظر شعلے ہی شعلے ہیں چمن میں
پھولوں کے نگہباں سے کچھ بھول ہوئی ہے

جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس عہد کے سلطاں سے کچھ بھول ہوئی ہے

ہنستے ہیں مری صورت مفتوں پہ شگوفے
میرے دل ناداں سے کچھ بھول ہوئی ہے

حوروں کی طلب اور مئے و ساغر سے ہے نفرت
زاہد! ترے عرفاں سے کچھ بھول ہوئی ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

کوئی نالہ یہاں رسا نہ ہوا Koi naala yahan rasa na howa

کوئی نالہ یہاں رسا نہ ہوا
اشک بھی حرفِ مدعا نہ ہوا

تلخی درد ہی مقدر تھی
جامِ عشرت ہمیں عطا نہ ہوا

ماہتابی نگاہ والوں سے
دل کے داغوں کا سامنا نہ ہوا

آپ رسمِ جفا کے قائل ہیں
میں اسیرِ غمِ وفا نہ ہوا

وہ شہنشہ نہیں بھکاری ہے
جو فقیروں کا آسرا نہ ہوا

رہزن عقل و ہوش دیوانہ
عشق میں کوئی رہنما نہ ہوا

ڈوبنے کا خیال تھا ساغر
ہائے ساحل پہ ناخدا نہ ہوا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Thursday, 10 January 2013

یقین کر کہ یہ کہنہ نظام بدلے گا Yaqeen kar k yey kuhna nizam badley ga


یقین کر کہ یہ کہنہ نظام بدلے گا
مرا شعور مزاج عوام بدلے گا

یہ کہہ رہی ہیں فضائیں بہار ہستی کی
نیا طریق قفس اور دام بدلے گا

نفس نفس میں شرارے سے کروٹیں لیں گے
دلوں میں جذبہء محشر خرام بدلے گا

مروتوں کے جنازے اٹھائے جائیں گے
سنا ہے ذوق سلام و پیام بدلے گا

دل و نظر کو عطا ہوں گی مستیاں ساغر
یہ بزم ساقی یہ بادہ یہ جام بدلے گا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ایک وعدہ ہے کسی کا جو وفا ہوتا نہیں Aik wada hai kisi ka jo wafa hota nahin

ایک وعدہ ہے کسی کا جو وفا ہوتا نہیں
ورنہ ان تاروں بھری راتوں میں کیا ہوتا نہیں

جی میں آتا ہے الٹ دیں انکے چہرے کا نقاب
حوصلہ کرتے ہیں لیکن حوصلہ ہوتا نہیں

شمع جسکی آبرو پر جان دے دے جھوم کر
وہ پتنگا جل تو جاتا ہے ، فنا ہوتا نہیں

اب تو مدت سے رہ و رسمِ نظارہ بند ہے
اب تو انکا طور پر بھی سامنا ہوتا نہیں

ہر شناور کو نہیں ملتا تلاطم سے خراج
ہر سفینے کا محافظ ناخدا ہوتا نہیں

ہر بھکاری پا نہیں سکتا مقامِ خواجگی
ہر کس و ناکس کو تیرا غم عطا ہوتا نہیں

ہائے یہ بیگانگی اپنی نہیں مجھ کو خبر
ہائے یہ عالم کہ تُو دل سے جُدا ہوتا نہیں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Tuesday, 8 January 2013

آخری بار ملو Akhri baar milo

آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوے دل
راکھ ہو جائیں ،کوئ اور تمنا نہ کریں
چاکِ وعدہ نہ سلے،زخمِ تمنا نہ کھلے
سانس ہموار رہے ،شمع کی لو تک نہ ہلے
باتیں بس اتنی کہ لمحے انہیں آ کر گن جائیں
آنکھ اٹھائے کوئ امید تو آنکھیں چھن جائیں

اُس ملاقات کا اس بار کوئ وہم نہیں
جس سے اک اور ملاقات کی صورت نکلے
اب نہ ہیجان و جُنوں کا نہ حکایات کا وقت
اب نہ تجدیدِ وفا کا نہ شکایات کا وقت
لُٹ گئ شہرِ حوادث میں متاعِ الفاظ
اب جو کہنا ہو تو کیسے کوئ نوحہ کہیے
آج تک تم سے رگِ جاں کا کئ رشتے تھے
کل سے جو ہوگا اسے کون سا رشتہ کہیے

پھر نہ دہکیں گے کبھی عارضِ و رُخسار ملو
ماتمی ہیں دَمِ رخصت در و دیوار ملو
پھر نہ ہم ہوں گے ،نہ اقرار،نہ انکار،ملو
آخری بار ملو۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Saturday, 5 January 2013

اب کے مٹی کی عبارت میں لکھی جائے گی Ab key mitti ki ebadat mein likhi

اب کے مٹی کی عبارت میں لکھی جائے گی
سبز پتّوں کی کہانی رُخِ شاداب کی بات
کل کے دریاؤں کی مٹتی ہوئ مبہم تحریر
اب فقط ریت کے دامن میں نظر آئے گی
بُوند بَھر نَم کو ترس جائے گی بے سود دعا
نَم اگر ہو گی کوئ چیز تو میری آنکھیں
میری پلکوں کے دریچے مری بنجر آنکھیں
میرا اُجڑا ہو چہرہ ، مری پتھر آنکھیں
قحط افسانہ نہیں اور یہ بے ابر فلک
آج اُس دیس کل اس دیس کا وارث ہوگا
ہم سے ترکے میں ملیں گے اُسے بیمار درخت
تیز کرنوں کی تمازت سے چٹختے ہوئے ہونٹ
دھُوپ کا حرفِ جنوں ، لُو کا وصّیت نامہ
اور مِرے شہرِ طلسمات کی بے در آنکھیں
مِری بے در مِری بنجر ، مِری پتھر آنکھیں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Thursday, 3 January 2013

مجبور شکایت ہوں تاثیر کو کیا کہیے Majboor shikyat hoon taseer ko kia keheyey

مجبور شکایت ہوں تاثیر کو کیا کہیے
تدبیر مقدر تھی تقدیر کو کیا کہیے

فردوس بداماں ہے ہر نقش خیال ان کا
یہ شان تصور ہے تصویر کو کیا کہیے

وابستہ صد حسرت، بے واسطہ دل ہوں
اپنا ہی میں زنداں ہوں زنجیر کو کیا کہیے

وہ برق کی یورش ہے ہر شاخ میں لرزش ہے
ایسے میں نشیمن کی تعمیر کو کیا کہیے

سنتے ہیں حجاب ان کا عرفان تمنا ہے
اب حرف تمنا کی تعبیر کو کیا کہیے

یا رب! تری رحمت سے مایوس نہیں فانی
لیکن تری رحمت کی تاخیر کو کیا کہیے
مکمل تحریر اور تبصرے >>