Pages

Subscribe:

Friday, 6 July 2012

ہوا کا لمس جو اپنے کواڑ کھولتا ہے

ہوا کا لمس جو اپنے کواڑ کھولتا ہے
تو دیر تک مرے گھر کا سکوت بولتا ہے
ہم ایسے خاک نشیں کب لبھا سکیں گے اسے
وہ اپنا عکس بھی میزان زر میں تولتا ہے
جو ہو سکے تو یہی رات اوڑھ لے تن پر
بجھا چراغ اندھیرے میں کیوں ٹٹولتا ہے ؟
اسی سے مانگ لو خیرات اس کے خوابوں کی
وہ جاگتی ہوئی آنکھوں میں نیند کھولتا ہے
سنا ہے زلزلہ آتا ہے عرش پر محسن
کہ بے گناہ لہو جب سناں پہ بولتا ہے
محسن نقوی

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔