Pages

Subscribe:

Thursday, 12 July 2012

ایک شب اپنے دریچے میں کھڑے تھے جاناں

ایک شب اپنے دریچے میں کھڑے تھے جاناں
اور باہر کے اندھیرے سے کوئی دیکھے تو
اپنے چہرے تھے جو کھڑکی میں جڑے تھے جاناں
مجھ کو تو معلوم ہے خوں اپنا بس اک دائرہ ہے
درد کا کھیل فقط لمحہ موجود کا ہے
پچھلی تاریخ سے آغاز نہیں ہو سکتا
بھول جاؤں تو کوئی انداز نہیں ہو سکتا
بھول جاؤں تو کوئی یاد نئی آئے گی
یہ کوئی حل کوئی انداز نہیں ہو سکتا
اب بھی آئی ہے بہار آ کے چلی جائے گی
مجھ کو معلوم ہے خوں اپنا بس اک دائرہ ہے
اتفاقاً کبھی میں پیدا ہوا تھا جیسے
جب مری موت بھی آئے گی یونہی آئے گی

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔