Pages

Subscribe:

Sunday, 28 October 2012

اک دیا دل میں جلانا بھی بجھا بھی دینا

اک دیا دل میں جلانا بھی بجھا بھی دینا
یاد کرنا بھی اسے روز بھلا بھی دینا
خط بھی لکھنا اسے مایوس بھی رہنا  اس سے
جرم کرنا بھی مگر خود کو سزا بھی دینا
مجھ کو رسموں کا تکلف بھی گوارہ لیکن
جی میں‌آئے تو یہ دیوار گرا بھی دینا
کیا کہوں یہ مری چاہت ہے کہ نفرت اس کی
نام لکھنا بھی مرا لکھ کے مٹا بھی دینا
صورت نقش قدم دشت میں رہنا  محسن
اپنے ہونے سے نہ ہونے کا پتہ بھی دینا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

عذاب دید میں‌آنکھیں لہو لہو کر کے

عذاب دید میں‌آنکھیں لہو لہو کر کے
میں شرمسار ہوا تیری جستجو کر کے
سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ  ہے
چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے
یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کر کے
اجاڑ رت کو گلابی بنائے رکھتی  ہے
ہماری آنکھ تری دید سے وضو کر کے
کوئی تو حبس ہوا سے یہ پوچھتا محسن
ملا ہے کیا اسے کلیوں کو بے نمو کر کے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

مجھ کو گلاب جیسا کفن کون دے گیا

تعزیرِ اہتمامِ چمن کون دے گیا
مجھ کو گلاب جیسا کفن کون دے گیا
دیکھے جو خدّوخال تو سوچا ہے بارِ ہا
صحرا کی چاندنی کو بدن کون دے گیا
میری جبیں کی ساری لکیریں تیری عطا
لیکن تِری قبا کو شکن کون دے گیا
تیرے ہنر میں خلقتِ خوشبو سہی مگر
کانٹوں کو عمر بھر کی چبھن کون دے گیا
جنگل سے پوچھتی ہے ہواؤں کی برہمی
جگنو کو تیرگی میں کرن کون دے گیا
کس نے بسائے آنکھ میں اشکوں کے قافلے
بے گھر مسافروں کو وطن کون دے گیا
تجھ سے تو ہر پَل کی مسافت کا ساتھ تھا
میرے بدن کو اتنی تھکن کون دے گیا
توڑا ہے کس نے نوکِ سناں پر سکوتِ صبر
لب بستگی کو تابِ سخن کون دے گیا
محسن وہ کائناتِ غزل ہے اُسے بھی دیکھ
مجھ سے نہ پوچھ مجھ کو یہ فن کون دے گیا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

وفا میں اب یہ ہنر اختیار کرنا ہے


وفا میں اب یہ ہنر اختیار کرنا ہے
وہ سچ کہے نہ کہے اعتبار کرنا ہے
یہ تجھ کو جاگتے رہنے کا شوق کب سے ہوا
مجھے تو خیر ترا انتظار کرنا ہے
وہ مسکرا کے وسوسوں میں‌ڈال گیا
خیال تھا کہ اسے شرمسار کرنا  ہے
ترے فراق میں دن کس طرح کٹیں اپنے
کہ شغل شب تو ستارے شمار کرنا  ہے
خدا خیر یہ کوئی ضد کہ شوق ہے محسن
خود اپنی جاں کے دشمن سے پیار کرنا  ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر

اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر
حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر
کیا جانیئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہے ؟
خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کر
اس شخص کے تم سے بھی مراسم ہیں تو ہونگے
وہ جھوٹ نہ بولے گا میرے سامنے آ کر
اب دستکیں دے گا تو کہاں اے غمِ احباب
میں نے تو کہا تھا کہ مرے دل میں رہا کر
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
وہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہے
ڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گرا کر
مکمل تحریر اور تبصرے >>

آنکھیں کھلی رہیں گی تو منظر بھی آئیں گے

آنکھیں کھلی رہیں گی تو منظر بھی آئیں گے
زندہ ہے دل تو اور ستمگر بھی آئیں گے
پہچان لو تمام فقیروں کے خدوخال
کچھ لوگ شب کو بھیس بدل کر بھی آئیں گے
گہری خموش جھیل کے پانی کو یوں نہ چھیڑ
چھینٹے اّڑے تو تیری قبا پر بھی آئیں گے
خود کو چھپا نہ شیشہ گروں کی دکان میں
شیشے چمک رہے ہیں تو پتھر بھی آئیں گے
اّس نے کہا--گناہ کی بستی سے مت نکل
اِک دن یہاں حسین پیمبر بھی آئیں گے
اے شہریار دشت سے فرصت نہیں--مگر
نکلے سفر پہ ہم تو تیرے گھر بھی آئیں گے
محسن ابھی صبا کی سخاوت پہ خوش نہ ہو
جھونکے یہی بصورتَ صرصر بھی آئیں گے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ہر ایک زخم کا چہرہ گلا جیسا ہے

ہر ایک زخم کا چہرہ گلا جیسا ہے
مگر یہ جاگتا منظر بھی خواب جیسا ہے
یہ تلخ تلخ سا لہجہ، یہ تیز تیز سی بات
مزاج یار کا عالم شراب جیسا ہے
مرا سخن بھی چمن در چمن شفق کی پھوار
ترا بدن بھی مہکتے گلاب جیسا ہے
بڑا طویل، نہایت حسیں، بہت مبہم
مرا سوال تمہارے جواب جیسا ہے
تو زندگی کے حقائق کی تہہ میں یوں نہ اتر
کہ اس ندی کا بہاؤ چناب جیسا ہے
تری نظر ہی نہیں حرف آشنا ورنہ
ہر ایک چہرہ یہاں پر کتاب جیسا ہے
چمک اٹھے تو سمندر، بجھے تو ریت کی لہر
مرے خیال کا دریا سراب جیسا ہے
ترے قریب بھی رہ کر نہ پا سکوں تجھ کو
ترے خیال کا جلوہ حباب جیسا ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

چاہت کا رنگ تھا نہ وفا کی لکیر تھی


چاہت کا رنگ تھا نہ وفا کی لکیر تھی
قاتل کے ہاتھ میں تو حنا کی لکیر تھی
خوش ہوں کہ وقت قتل مرا رنگ سرخ تھا
میرے لبوں پہ حرف دعا کی لکیر تھی
میں کارواں کی راہ سمجھتا رہا جسے
صحرا کی ریت پر وہ ہوا کی لکیر تھی
سورج کو جس نے شب کے اندھیروں میں گم کیا
موج شفق نہ تھی وہ قضا کی لکیر تھی
گزرا ہے سب کو دشت سے شاید وہ پردہ دار
ہر نقش پا کے ساتھ ردا کی لکیر تھی
کل اس کا خط ملا کہ صحیفہ وفا کا تھا
محسن ہر ایک سطر حیا کی لکیر تھی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

آہٹ سی ہوئی تھی نہ کوئی برگ ہلا تھا

آہٹ سی ہوئی تھی نہ کوئی برگ ہلا تھا
میں خود ہی سر منزل شب چیخ پڑا  تھا
لمحوں کی فصیلیں بھی مرے گرد کھڑی تھیں
میں پھر بھی تجھے شہر میں آوارہ لگا تھا
تو نے جو پکارا ہے تو بول اٹھا ہوں، ورنہ
میں فکر کی دہلیز پہ چپ چاپ کھڑا تھا
پھیلی تھیں بھرے شہر میں تنہائی کی باتیں
شاید کوئی دیوار کے پیچھے بھی کھڑا تھا
اب اس کے سوا یاد نہیں جشن ملاقات
اک ماتمی جگنو مری پلکوں پہ سجا تھا
یا بارش سنگ اب کے مسلسل نہ ہوئی تھی
یا پھر میں ترے شہر کی راہ بھول گیا تھا
ویران نہ ہو اس درجہ کوئی موسم گل بھی
کہتے ہیں کسی شاخ پہ اک پھول کھلا تھا
اک تو کہ گریزاں ہی رہا مجھ سے بہر طور
اک میں کہ ترے نقش قدم چوم رہا تھا
دیکھا نہ کسی نے بھی مری سمت پلٹ کر
محسن میں بکھرتے ہوئے شیشوں کی صدا تھا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

اتنی مدت بعد ملے ہو

اتنی مدت بعد ملے ہو
کن سوچوں میں گم پھرتے ہو
اتنے خائف کیوں رہتے ہو؟
ہر آہٹ سے ڈر جا تے ہو
تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا
ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو؟
کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے
رات گئے تک کیوں جاگے ہو؟
میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں
تم دریا سے بھی گہرے ہو
کون سی بات ہے تم میں ایسی
اتنے اچھے کیوں لگتے ہو؟
پچھے مڑ کر کیوں دیکھتا تھا
پتھر بن کر کیا تکتے ہو
جاؤ جیت کا جشن مناؤ
میں جھوٹا ہوں، تم سچے ہو
اپنے شہر کے سب لوگوں سے
میری خاطر کیوں الجھے ہو؟
کہنے کو رہتے ہو دل میں
پھر بھی کتنے دور کھڑے ہو
رات بہت ہی یاد آئے ہو
ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے
اپنی کہو اب تم کیسے ہو؟
محسن تم بدنام بہت ہو
جیسے ہو، پھر بھی اچھے ہو
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Saturday, 27 October 2012

قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ


قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی  دیوار کے بیچ
اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ
اپنی پوشاک کے چھن جانے پہ افسوس نہ کر
سر سلامت نہیں رہتے یہاں دستار کے بیچ
سرخیاں امن کی تلقین میں مصروف رہیں
حرف بارود اگلتے رہے اخبار کے بیچ
کاش اس خواب کی تعبیر کی مہلت نہ ملے
شعلے اگتے نظر آئے مجھے گلزار کے بیچ
ڈھلتے سورج کی تمازت نے بکھر کر دیکھا
سر کشیدہ مرا سایا صف اشجار کے بیچ
رزق، ملبوس ، مکان، سانس، مرض، قرض، دوا
منقسم ہو گیا انساں انہی افکار کے بیچ
دیکھے جاتے نہ تھے آنسو مرے جس سے محسن
آج ہنستے ہوئے دیکھا اسے اغیار کے بیچ
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Thursday, 25 October 2012

زندگی اور موت کا یوں رابطہ رہ جائے گا (عنیقہ ناز کی یاد میں)


زندگی اور موت کا یوں رابطہ رہ جائے گا
مقتلوں کو جانے والا راستہ رہ جائے گا

خشک ہوجائیں گی آنکھیں اور چھٹ جائےگا ابر

زخم دل ویسے کا ویسا او ر ہرا رہ جائے گا

بجھ چکی ہوں گی تمہارے گھر کی ساری مشعلیں

اور تو لوگوں میں شمعیں بانٹتا رہ جائے گا

مجھ سے لے جائے گا اک اک چیز وہ جاتے ھوئے

لیکن اس کا نام آنکھوں میں لکھا رہ جائے گا

یادگار عشق ایسی چھوڑ جاؤں گا سروش

حسن حیرانی سے مجھ کو دیکھتا رہ جائے گا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Friday, 19 October 2012

کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہو گی

کب ٹھہرے گا درد اے دل، کب رات بسر ہو گی
سنتے تھے وہ آئیں گے، سنتے تھے سحر ہو گی
کب جان لہو ہو گی، کب اشک گہر ہو گا
کس دن تری شنوائی اے دیدہ تر ہو گی
کب مہکے گی فصلِ گل، کب بہکے گا میخانہ
کب صبحِ سخن ہو گی، کب شامِ نظر ہو گی
واعظ ہے نہ زاہد ہے، ناصح ہے نہ قاتل ہے
اب شہر میں یاروں کی کس طرح بسر ہو گی
کب تک ابھی رہ دیکھیں اے قامتِ جانانہ
کب حشر معیّن ہے تجھ کو تو خبر ہو گی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئے

ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئے
تری رہ میں کرتے تھے سر طلب، سرِ رہگزر چلے گئے
تری کج ادائی سے ہار کے شبِ انتظار چلی گئی
مرے ضبطِ حال سے رُوٹھ کر مرنے غم گسار چلے گئے
نہ سوالِ وصل، نہ عرضِ غم، نہ حکایتیں نہ شکایتیں
ترے عہد میں دلِ زار کے سبھی اختیار چلے گئے
یہ ہمیں  تھے جن کے لباس پر سرِ رہ سیاہی لکھی گئی
یہی داغ تھے جو سجا کے ہم سرِ بزمِ یار چلے گئے
نہ رہا جنونِ رُخِ وفا، یہ رسن یہ دار کرو گے کیا
جنہیں  جرمِ عشق  پہ ناز تھا وہ گناہ گار چلے گئے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

یہاں ہر چیز بکتی ہے خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟

جوانی، حسن، غمزے، عہد، پیماں، قہقہے، نغمے
رسیلے ہونٹ، شرمیلی نگاہیں، مرمریں بانہیں
یہاں ہر چیز بکتی ہے
خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟
بھرے بازو، گٹھیلے جسم، چوڑے آہنی سینے
بلکتے پیٹ، روتی غیرتیں، سہمی ہوئی آہیں
یہاں ہر چیز بکتی ہے
خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟
زبانیں، دل، ارادے، فیصلے، جانبازیاں، نعرے
یہ آئے دن کے ہنگامے، یہ رنگا رنگ تقریریں
یہاں ہر چیز بکتی ہے
خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟
صحافت، شاعری، تنقید، علم و فن، کتب خانے
قلم کے معجزے، فکرو نظر کی شوخ تصویریں
یہاں ہر چیز بکتی ہے
خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟
اذانیں، سنکھ، حجرے، پاٹھ شالے، داڑھیاں، قشقے
یہ لمبی لمبی تسبیحیں، یہ موٹی موٹی مالائیں
یہاں ہر چیز بکتی ہے
خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟
علی الاعلان ہوتے ہیں یہاں سودے ضمیروں کے
یہ وہ بازار ہے جس میں فرشتے آ کے بک جائیں
یہاں ہر چیز بکتی ہے
خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟
مکمل تحریر اور تبصرے >>

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو

میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن
میں ہوں گر پھول تو جُوڑے میں سجا لے مجھ کو

میں کھُلے در کے کسی گھر کا ہوں ساماں پیارے
تو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو

ترکِ الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم
تو کبھی یاد تو کر بھولنے والے، مجھ کو

مجھ سے تُو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو

میں سمندر بھی ہوں موتی بھی ہوں غوطہ زن بھی
کوئی بھی نام مرا لے کے بلا لے مجھ کو

تو نے دیکھا نہیں آئینے سے آگے کچھ بھی
خود پرستی میں کہیں تو نہ گنوا لے مجھ کو

کل کی بات اور ہے میں اب سا رہوں یا نہ رہوں
جتنا جی چاہے ترا، آج ستا لے مجھ کو

باندھ کر سنگِ وفا کر دیا تو نے غرقاب
کون ایسا ہے جو اب ڈھونڈ نکالے مجھ کو

خود کو میں بانٹ نہ ڈالوں کہیں دامن دامن
کر دیا تو نے اگر میرے حوالے مجھ کو

بادہ پھر بادہ ہے میں زہر بھی پی جاؤں قتیل
شرط یہ ہے کوئی بانہوں میں سنبھالے مجھ کو
مکمل تحریر اور تبصرے >>

حالات کے قدموں ٍ پہ قلندر نہیں گرتا

حالات کے قدموں ٍ پہ قلندر نہیں گرتا
ٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا

گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

سمجھو وہاں پھلدار شجر کوئی نہیں ہے
وہ صحن کہ جِس میں کوئی پتھر نہیں گرتا

اِتنا تو ہوا فائدہ بارش کی کمی سے
اِس شہر میں اب کوئی پھسل کر نہیں گرتا

انعام کے لالچ میں لکھے مدح کسی کی
اتنا تو کبھی کوئی سخنور نہیں گرتا

حیراں ہے کوئی روز سے ٹھہرا ہوا پانی
تالاب میں اب کیوں کوئی کنکر نہیں گرتا

اس بندۂ خوددار پہ نبیوں کا ہے سایا
جو بھوک میں بھی لقمۂ تر پر نہیں گرتا

کرنا ہے جو سر معرکۂ زیست تو سُن لے
بے بازوئے حیدر، درِ خیبر نہیں گرتا

قائم ہے قتیل اب یہ میرے سر کے ستوں پر
بھونچال بھی آئے تو مرا گھر نہیں گرتا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں


گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں
ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں

شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لئے
ہم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں

خود نمائی تو نہیں شیوۂ اربابِ وفا
جن کو جلنا ہو وہ آرام سے جل جاتے ہیں

بچ نکلتے ہیں اگر آتشِ سیال سے ہم
شعلۂ عارضِ گلفام سے جل جاتے ہیں

جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ
جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے

یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے

میں اپنے پاؤں تلے روندتا ہوں سائے کو
بدن مرا سہی، دوپہر نہ بھائے مجھے

میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں
برہنہ شہر میں ‌کوئی نظر نہ آئے مجھے

وہی تو سب سے زیادہ ہے نکتہ چیں میرا
جو مسکرا کے ہمیشہ گلے لگائے مجھے

وہ میرا دوست ہے سارے جہاں‌کو ہے معلوم
دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے

میں اپنی ذات میں نیلام ہو رہا ہوں قتیل
غمِ حیات سے کہہ دو خرید لائے مجھے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

یہ کس نے کہا تم کوچ کرو، باتیں نہ بناؤ انشا جی

یہ کس نے کہا تم کوچ کرو، باتیں نہ بناؤ انشا جی
یہ شہر تمہارا اپنا ہے، اسے چھوڑ نہ جاؤ انشا جی

جتنے بھی یہاں کے باسی ہیں، سب کے سب تم سے پیار کریں
کیا اِن سے بھی منہ پھیرو گے، یہ ظلم نہ ڈھاؤ انشا جی

کیا سوچ کے تم نے سینچی تھی، یہ کیسر کیاری چاہت کی
تم جن کو ہنسانے آئے تھے، اُن کو نہ رلاؤ انشا جی

تم لاکھ سیاحت کے ہو دھنی، اِک بات ہماری بھی مانو
کوئی جا کے جہاں سے آتا نہیں، اُس دیس نہ جاؤ انشا جی

بکھراتے ہو سونا حرفوں کا، تم چاندی جیسے کاغذ پر
پھر اِن میں اپنے زخموں کا، مت زہر ملاؤ انشا جی

اِک رات تو کیا وہ حشر تلک، رکھے گی کھُلا دروازے کو
کب لوٹ کے تم گھر آؤ گے، سجنی کو بتاؤ انشا جی

نہیں صرف قتیل  کی بات یہاں، کہیں ساحرؔ ہے کہیں عالیؔ ہے
تم اپنے پرانے یاروں سے، دامن نہ چھڑاؤ انشا جی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

پریشاں رات ساری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ

پریشاں رات ساری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
سکوتِ مرگ طاری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ

ہنسو اور ہنستے ہنستے ڈوبتے جاؤ خلاؤں میں
ہمیں پر رات بھاری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ

ہمیں تو آج کی شب پو پھٹے تک جاگنا ہوگا
یہی قسمت ہماری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ

تمہیں کیا! آج بھی کوئی اگر ملنے نہیں آیا
یہ بازی ہم نے ہاری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ

کہے جاتے ہو رو رو کر ہمارا حال دنیا سے
یہ کیسی راز داری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ

ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے
ابھی کچھ بے قراری ہے، ستارو تم تو سو جاؤ
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Thursday, 18 October 2012

وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے

وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے
میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے

رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر
یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے

یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں
خدا کسی سے کسی کو مگر جدا نہ کرے

سنا ہے اس کو محبت دعائیں دیتی ہے
جو دل پہ چوٹ تو کھائے مگر گلہ نہ کرے

زمانہ دیکھ چکا ہے پرکھ چکا ہے اسے
قتیل جان سے جائے پر التجا نہ کرتے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

آدمی آدمی سے ملتا ہے


آدمی، آدمی سے ملتا ہے
دل مگر کم کسی سے ملتا ہے
بھول جاتا ہوں میں ستم اس کے
وہ کچھ اس سادگی سے ملتا ہے
مل کے بھی جو کبھی نہیں ملتا
ٹوٹ کر دل اسی سے ملتا ہے
آج کیا بات ہے که پھولوں کا؟
رنگ تیری ہنسی سے ملتا ہے
سلسله فتنۂ قیامت کا
تیری خوش قامتی سے ملتا ہے
کاروبار جہاں سنورتے ہیں
ہوش جب بیخودی سے ملتا ہے
روح کو بهی مزا محبت کا
دل کی ہمسائگی سے ملتا ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Wednesday, 17 October 2012

دُور آفاق پہ لہرائی کوئی نُور کی لہر


دُور آفاق پہ لہرائی کوئی نُور کی لہر
خواب ہی خواب میں بیدار ہُوا درد کا شہر
خواب ہی خواب میں بیتاب نظر ہونے لگی
عدم آبادِ جُدائی میں سحر ہونے لگی
کاسہ دل میں بھری اپنی صبُوحی میں نے
گھول کر تلخی دیروز میں اِمروز کا زہر
دُور آفاق پہ لہرائی کوئی نُور کی لہر
آنکھ سے دُور کسی صبح کی تمہید لیے
کوئی نغمہ، کوئی خوشبو، کوئی کافر صورت
بے خبر گزری، پریشانیِ اُمیّد لئے
گھول کر تلخی دیروز میں اِمروز کا زہر
حسرتِ روزِ ملاقات رقم کی میں نے
دیس پردیس کے یارانِ قدح خوار کے نام
حُسنِ آفاق، جمالِ لب و رخسار کے نام
مکمل تحریر اور تبصرے >>

وہم منحوس پرندے کی طرح آئے گا

اب کوئی طبل بجے گا، نہ کوئی شاہسوار
صبح دم موت کی وادی کو روانہ ہو گا!
اب کوئی جنگ نہ ہو گی نہ کبھی رات ہو گی
خون کی آگ کو اشکوں سے بُجھانا ہو گا
کوئی دل دھڑکے گا شب بھر نہ کسی آنگن میں
وہم منحوس پرندے کی طرح آئے گا
سہم، خونخوار درندے کی طرح آئے گا
اب کوئی جنگ نہ ہو گی مے و ساغر لاؤ
خوں لُٹانا نہ کبھی اشک بہانا ہو گا
ساقیا! رقص کوئی رقصِ صبا کی صورت
مطربا! کوئی غزل رنگِ حِنا کی صورت
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Tuesday, 16 October 2012

کھلا ہے جھوٹ کا بازار ، آؤ سچ بولیں

کھلا ہے جھوٹ کا بازار ، آؤ سچ بولیں
نہ ہو بلا سے خریدار ، آؤ سچ بولیں

سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پر
یہی ہے موقع اظہار ، آؤ سچ بولیں

ہمیں گواہ بنایا ہے وقت نے اپنا
بنامِ عظمت کردار ، آؤ سچ بولیں

سنا ہے وقت کا حاکم بڑا ہی منصف ہے
پکار کر سرِ دربار ، آؤ سچ بولیں

تمام شہر میں ایک بھی نہیں منصور
کہیں گے کیا رسن و دار ، آؤ سچ بولیں

جو وصف ہم میں نہیں کیوں کریں کسی میں تلاش
اگر ضمیر ہے بیدار ، آؤ سچ بولیں

چھپائے سے کہیں چھپتے ہیں داغ چہروں کے
نظر ہے آئینہ بردار ، آؤ سچ بولیں

قتیل جن پہ سدا پتھروں کو پیار آیا
کدھر گئے وہ گنہ گار، آؤ سچ بولیں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Saturday, 13 October 2012

اور کچھ دیر میں لُٹ جائے گا ہر بام پہ چاند

اور کچھ دیر میں لُٹ جائے گا ہر بام پہ چاند
عکس کھو جائیں گے آئینے ترس جائیں گے
عرش کے دیدۂ نمناک سے باری باری
سب ستارے سرِ خاشاک برس جائیں گے
آس کے مارے تھکے ہارے شبستانوں میں
اپنی تنہائی سمیٹے گا، بچھائے گا کوئی
بے وفائی کی گھڑی، ترک مدارات کا وقت
اس گھڑی اپنے سوا یا نہ آئے گا کوئی!
ترکِ دنیا کا سماں، ختمِ ملاقات کا وقت
اِس گھڑی اے دلِ آوارہ کہاں جاؤ گے
اِس گھڑی کوئی کسی کا بھی نہیں، رہنے دو
کوئی اس وقت ملے گا ہی نہیں رہنے دو
اور ملے گا بھی تو اس طور کہ پچھتاؤ گے
اس گھڑی اے دلِ آوارہ کہاں جاؤ گے
اور کچھ دیر ٹھہر جاؤ کہ پھر نشترِ صبح
زخم کی طرح ہر اک آنکھ کو بیدار کرے
اور ہر کشتہ واماندگی آخر شب
بھول کر ساعتِ درماندگی آخرِ شب
جان پہچان ملاقات پہ اصرار کرے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

اے عالمِ نجوم و جواہر کے کِردگار

اے عالمِ نجوم و جواہر کے کِردگار
اے کارسازِ دہر و خداوندِ بحر و بر

اِدراک و آگہی کے لیے منزلِ مراد
بہرِ مسافرانِ جنوں ، حاصلِ سفر !

یہ برگ و بار و شاخ و شجر ، تیری آیتیں
تیری نشانیاں ہیں یہ گلزار و دشت و در

یہ چاندنی ہے تیرے تبسم کا آئینہ
پرتَو ترے جلال کا بے سایہ دوپہر !

موجیں سمندروں کی ، تری رہگزر کے موڑ
صحرا کے پیچ و خم ، ترا شیرازہ ہُنر !

اُجڑے دلوں میں تیری خموشی کے زاویے
تابندہ تیرے حرف ، سرِ لوحِ چشم تر

موجِ صبا ، خرام ترے لطفِ عام کا
تیرے کرم کا نام ، دُعا در دُعا ، اثر

اے عالمِ نجوم و جواہر کے کِردگار !
پنہاں ہے کائنات کے ذوقِ نمو میں تُو

تیرے وجود کی ہے گواہی چمن چمن !
ظاہر کہاں کہاں نہ ہُوا ، رنگ و بُو میں تُو

مری صدا میں ہیں تری چاہت کے دائرے
آباد ہے سدا مرے سوزِ گلو میں تُو

اکثر یہ سوچتا ہوں کہ موجِ نفس کے ساتھ
شہ رگ میں گونجتا ہے لہُو ، یا لہُو میں تُو ؟

اے عالمِ نجوم و جواہر کے کِردگار !
مجھ کو بھی گِرہِ  شام و سحر کھولنا سکھا !

پلکوں پہ میں بھی چاند ستارے سجا سکوں
میزانِ خس میں مجھ کو گہر تولنا سکھا

اب زہر ذائقے ہیں زبانِ حروف کے
اِن ذائقوں میں "خاک شفا" گھولنا سکھا

دل مبتلا ہے کب سے عذابِ سکوت میں
تو ربِّ نطق و لب ہے ، مجھے "بولنا" سکھا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Friday, 12 October 2012

وارفتگی سے مجھ کو کبھی دیکھتے تھے وہ

وارفتگی سے مجھ کو کبھی دیکھتے تھے وہ
نظروں میں راز دل کے سدا ڈھونڈتے تھے وہ

جب بڑھ گئی تھی تشنہ لبی دل کے گھاٹ  پر
پتھر نظر کے شام و سحر پھینکتے تھے وہ

پُر درد شب ہماری کبھی اس طرح کٹی
میں بھی نہ سو سکا تو اُدھر جاگتے تھے وہ

لگتی تھی راہِ زیست میں ٹھوکر کوئی اگر
تو بڑھ کے دونوں ہاتھ مرے تھامتے تھے وہ

بے تاب ہو کے کہتا تھا جب ان کو ’’ میری جاں‘‘
ہنس ہنس کے جھوٹ موٹ مجھے ڈانٹتے تھے وہ

اک عرضِ آرزو پہ مری جھینپ کے صفیؔ
ہاتھوں سے اپنا چہرہ سدا ڈھانپتے تھے وہ
مکمل تحریر اور تبصرے >>

سوکھے پیڑ سے ٹیک لگائے پہروں بیٹھا رہتا ہوں

سوکھے پیڑ سے ٹیک لگائے پہروں بیٹھا رہتا ہوں
بانہوں میں چہرے کو چھپائے پہروں بیٹھا رہتا ہوں

جانے کب وہ آ جائے اس آس پہ اکثر راتوں کو
آنکھیں دروازے پہ جمائے پہروں بیٹھا رہتا ہوں

کاش وہی کچھ دکھ سکھ بانٹے بس اس آس میں اکثر میں
ہاتھوں میں تصویر اٹھائے پہروں بیٹھا رہتا ہوں

ماہِ نومبر میں تنہا میں اس کی سالگرہ کی شب
ویرانے میں دیپ جلائے پہروں بیٹھا رہتا ہوں

اُس کی تحریروں کے روشن لفظوں کی تاثیر ہے یہ
دنیا کے سب درد بھلائے پہروں بیٹھا رہتا ہوں

جسم و جاں میں پچھلی رُت جب محشر برپا کرتی ہے
دل کو یادوں میں سلگائے پہروں بیٹھا رہتا ہوں

یہ تو طے ہے جانے والے کم ہی لوٹ کے آتے ہیں
پھر بھی میں اک آس لگائے پہروں بیٹھا رہتا ہوں

آج صفیؔ ہمدرد نہ کوئی درد کی ایسی شدت میں
آج اسے پھر دل میں بسائے پہروں بیٹھا رہتا ہوں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ہر شب سوال کرتے ہیں یہ کہکشاں سے ہم

ہر شب سوال کرتے ہیں یہ کہکشاں سے ہم
بھٹکے ہوئے ہیں دشت میں کس کارواں سے ہم
ٹھہرا جہاں ہے قافلۂِ حُسن و آگہی
اپنا پتہ بھی پائیں کے شاید وہاں سے ہم
یہ مسئلہ فناوبقا کا نہ حل ہوا
تنگ آ گئے ہیں کشمکشِ دو جہاں سے ہم
صحنِ چمن نہ ساقیِ مہوش نہ میکدہ
رنگینیاں بہار کی لائیں کہاں سے ہم
بستر پہ ہم نہیں تھے زمیں پر شب فراق
تاروں کے ساتھ ڈوب گئے آسماں سے ہم
یاروں نے خامشی پہ اُڑایا ہے وہ مذاق
رُسوا ہوئے ہیں اور بھی ضبطِ فغاں سے ہم
باقی ہے کیوں تبسم خستہ کا آشیاں
اب کے ضرور پوچھیں گے برقِ تپاں سے ہم
مکمل تحریر اور تبصرے >>

جس کو مذاق لذتِ ضبطِ فغاں نہیں

جس کو مذاق لذتِ ضبطِ فغاں نہیں
افسوس کیا وہ واقفِ دردِ نہاں نہیں
عشاق جس جگہ ہیں جہاں میں بسے ہوئے
جنگل نہیں۔ وہ شہر نہیں۔ گلستاں نہیں
ہر لب ہے شکوہ سنج زمانہ۔ مرے خدا
غمخانٔہِ جہاں میں کوئی شادماں نہیں
اُلجھے ہوئے ہیں شعر بھی جذبات کی طرح
اہلِ زباں کے لب پہ بھی ان کا بیاں نہیں
کیونکر لکھے گا کوئی مرے دلکی داستاں
جلتا ہے ایسی آگ میں جسکا دُھواں نہیں
ظاہر میں ہے لبوں پہ تبسم بسا ہوا
لیکن خوشی کا مطلقاً وہم و گماں نہیں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Monday, 8 October 2012

وقت کی عمر کیا بڑی ہو گی

ٍ وقت کی عمر کیا بڑی ہو گی
اک ترے وصل کی گھڑی ہو گی

دستکیں دے رہی ہے پلکوں پر
کوئی برسات کی جھڑی ہو گی

کیا خبر تھی کہ نوکِ خنجر بھی
پھول کی اک پنکھڑی ہو گی

زلف بل کھا رہی ہے ماتھے پر
چاندنی سے صبا لڑی ہو گی

اے عدم کے مسافرو ہشیار
راہ میں زندگی کھڑی ہو گی

کیوں گرہ گیسوؤں میں ڈالی ہے
جاں کسی پھول کی اڑی ہو گی

التجا کا ملال کیا کیجئے
ان کے در پر کہیں پڑی ہو گی

موت کہتے ہیں جس کو اے ساغر
زندگی کی کوئی کڑی ہو گی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

اے تغیر زمانہ یہ عجیب دل لگی ہے


اے تغیر زمانہ یہ عجیب دل لگی ہے
نہ وقارِ دوستی ہے نہ مجالِ دشمنی ہے

یہی ظلمتیں چھنیں جو ترے سرخ آنچلوں میں
انہی ظلمتوں سے شاید مرے گھر میں روشنی ہے

مرے ساتھ تم بھی چلنا مرے ساتھ تم بھی آنا
ذرا غم کے راستوں میں بڑی تیز تیرگی ہے

یہ مشاہدہ نہیں ہے مرے درد کی صدا ہے
میرے داغِ دل لیے ہیں تری بزم جب سجی ہے

غمِ زندگی کہاں ہے ابھی وحشتوں سے فرصت
ترے ناز اٹھا ہی لیں گے ابھی زندگی پڑی ہے

ترے خشک گیسوؤں میں مری آرزو ہے پنہاں
ترے شوخ بازوؤں میں مری داستاں رچی ہے

جسے اپنا یار کہنا اسے چھوڑنا بھنور میں!
یہ حدیثِ دلبراں ہے یہ کمالِ دلبری ہے

وہ گزر گیا ہے ساغر کوئی قافلہ چمن سے
کہیں آگ جل رہی ہے کہیں آگ بجھ گئی ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

آنکھ روشن ہے جیب خالی ہے


    آنکھ روشن ہے جیب خالی ہے
    ظلمتوں میں‌کرن سوالی ہے

    حادثے لوریوں کا حاصل ہیں
    وقت کی آنکھ لگنے والی ہے

    آئینے سے حضور ہی کی طرح
    چشم کا واسطہ خیالی ہے

    حسن پتھر کی ایک مورت ہے
    عشق پھولوں کی ایک ڈالی ہے

    موت اک انگبیں کا ساغر ہے
    زندگی زہر کی پیالی ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

زخمِ دل پر بہار دیکھا ہے


زخمِ دل پر بہار دیکھا ہے
کیا عجب لالہ زار دیکھا ہے

جن کے دامن میں‌کچھ نہیں ہوتا
ان کے سینوں میں پیار دیکھا ہے

خاک اڑتی ہے تیری گلیوں میں‌
زندگی کا وقار دیکھا ہے

تشنگی ہے صدف کے ہونٹوں پر
گل کا سینہ فگار دیکھا ہے

ساقیا! اہتمامِ بادہ کر
وقت کو سوگوار دیکھا ہے

جذبہء غم کی خیر ہو ساغر
حسرتوں پر نکھار دیکھا ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

مرے سوزِ دل کے جلوے یہ مکاں مکاں اجالے


مرے سوزِ دل کے جلوے یہ مکاں مکاں اجالے
مری آہِ پر اثر نے کئی آفتاب ڈھالے

مجھے گردشِ فلک سے نہیں احتجاج کوئی
کہ متاعِ جان و دل ہے تری زلف کے حوالے

یہ سماں بھی ہم نے دیکھا سرِ خاک رُل رہے ہیں
گل و انگبیں کے مالک مہ و کہکشاں کے پالے

ابھی رنگ آنسوؤں میں ہے تری عقیدتوں کا
ابھی دل میں بس رہے ہیں تری یاد کے شوالے

مری آنکھ نے سنی ہے کئی زمزموں کی آہٹ
نہیں‌بربطوں سے کمتر مئے ناب کے پیالے

یہ تجلیوں کی محفل ہے اسی کے زیرِ سایہ
یہ جہانِ کیف اس کا جسےوہ نظر سنبھالے

یہ حیات کی کہانی ہے فنا کا ایک ساغر
تو لبوں سے مسکرا کر اسی جام کو لگا لے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

دستور یہاں بھی گونگے ہیں فرمان یہاں بھی اندھے ہیں


دستور یہاں بھی گونگے ہیں فرمان یہاں بھی اندھے ہیں
اے دوست خدا کا نام نہ لے ایمان یہاں بھی اندھے ہیں

تقدیر کے کالے کمبل میں عظمت کے فسانے لپتے ہیں
مضمون یہاں بھی بہرے ہیں عنوان یہاں بھی اندھے ہیں

زر دار توقّع رکھتا ہے نادار کی گاڑھی محنت پہ
مزدور یہاں بھی دیوانے ذیشان یہاں بھی اندھے ہیں

کچھ لوگ بھروسہ کرتے ہیں تسبیح کے چلتے دانوں پر
بے چین یہاں یزداں کا جنوں انسان یہاں بھی اندھے ہیں

بے نام جفا کی راہوں پر کچھ خاک سی اڑتی دیکھی ہے
حیران ہیں دلوں کے آئینے نادان یہاں بھی اندھے ہیں

بے رنگ شفق سی ڈھلتی ہے بے نور سویرے ہوتے ہیں
شاعر کا تصوّر بھوکا ہے سلطان یہاں بھی اندھے ہی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Saturday, 6 October 2012

اپنے ہی ہاتھ سے دل کا دامن مدت گذری چھوٹ گیا

شوق سے ناکامی کی بدولت کوچۂ  دل ہی چھوٹ گیا
ساری اُمیدیں ٹوٹ گئیں، دل بیٹھ گیا، جی چھوٹ گیا

فصلِ گل آئی یا اجل آئی، کیوں در زنداں کھلتا ہے
کیا کوئی وحشی اور آ پہنچا یا کوئی قیدی چھوٹ گیا

کیجئے کیا دامن کی خبر اور دستِ جنوں کو کیا کہیئے
اپنے ہی ہاتھ سے دل کا دامن مدت گذری چھوٹ گیا

منزل عشق پہ تنہا پہنچے، کوئی تمنا ساتھ نہ تھی
تھک تھک کر اس راہ میں آخر اک اک ساتھی چھوٹ گیا

فانی ہم تو جیتے جی وہ میت ہیں بے گور و کفن
غربت جس کو راس نہ آئی اور وطن بھی چھوٹ گیا

مکمل تحریر اور تبصرے >>

ضبط اپنا شعار تھا، نہ رہا

ضبط اپنا شعار تھا، نہ رہا
دل پہ کچھ اختیار تھا، نہ رہا

دلِ مرحوم کو خدا بخشے
ایک ہی غم گسار تھا، نہ رہا

موت کا انتظار باقی ہے
آپ کا انتظار تھا، نہ رہا

اب گریباں کہیں سے چاک نہیں
شغلِ فصلِ بہار تھا، نہ رہا

آ، کہ وقتِ سکونِ مرگ آیا
نالہ نا خوش گوار تھا، نہ رہا

ان کی بے مہریوں کو کیا معلوم
کوئی اُمّیدوار تھا، نہ رہا

آہ کا اعتبار بھی کب تک
آہ کا اعتبار تھا، نہ رہا

کچھ زمانے کو سازگار سہی
جو ہمیں سازگار تھا، نہ رہا

مہرباں، یہ مزارِ فانی ہے
آپ کا جاں نثار تھا، نہ رہا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

دل کی بستی خراب ہو کے رہی


 وہ نظر کامیاب ہو کے رہی
 دل کی بستی خراب ہو کے رہی

 عشق کا نام کیوں کریں بدنام
 زندگی تھی عذاب ہو کے رہی

 نگہِ شوخ  کا مآل نہ پوچھ
 سربسر اضطراب ہو کے رہی

تم نے دیکھا ہے مرگِ مظلومی
جانِ صد انقلاب ہو کے رہی
 
 چشمِ ساقی، کہ تھی کبھی مخمور
 خود ہی آخر شراب ہو کے رہی

 تابِ نطارہ لا سکا نہ کوئی
 بے حجابی، حجاب ہو کے رہی

حشر کے دن کسی کی ہر بیداد
کرمِ بے حساب ہو کے رہی

سامنے دل کا آئینہ رکھ کر
ہر ادا لاجواب ہو کے رہی
 
 ہم سے فانی نہ چھپ سکا غمِ دوست
 آرزو، بے نقاب ہو کے رہی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Wednesday, 3 October 2012

چراغِ طُور جلاؤ بڑا اندھیرا ہے

چراغ طور جلاؤ! بڑا اندھیرا ہے
ذرا نقاب اٹھاؤ! بڑا اندھیرا ہے
ابھی تو صبح کے ماتھے کا رنگ کالا ہے
ابھی فریب نہ کھاؤ! بڑا اندھیرا ہے
وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں
انہیں کہیں سے بلاؤ! بڑا اندھیرا ہے
مجھے تمھاری نگاہوں پہ اعتماد نہیں
مرے قریب نہ آؤ! بڑا اندھیرا ہے
فراز ِعرش سے ٹوٹا ہوا کوئی تارہ
کہیں سے ڈھونڈ کے لاؤ! بڑا اندھیرا ہے
بصیرتوں پہ اجالوں کا خوف طاری ہے
مجھےیقین دلاؤ ! بڑا اندھیرا ہے
بنام ِزہرہ جبینانِ خطّہء فردوس
کسی کرن کو جگاؤ! بڑا اندھیرا ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Tuesday, 2 October 2012

تم مسلمان ہو؟ یہ اندازِ مسلمانی ہے؟

ہر کوئی مست مئے ذوقِ تن آسانی ہے
تم مسلمان ہو؟ یہ اندازِ مسلمانی ہے؟
حیدری فقر ہے ، نے دولت عثمانی ہے
تم کو اسلاف سے کیا نسبتِ روحانی ہے
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک ِ قرآں ہو کر
مکمل تحریر اور تبصرے >>