Pages

Subscribe:

Sunday, 28 October 2012

وفا میں اب یہ ہنر اختیار کرنا ہے


وفا میں اب یہ ہنر اختیار کرنا ہے
وہ سچ کہے نہ کہے اعتبار کرنا ہے
یہ تجھ کو جاگتے رہنے کا شوق کب سے ہوا
مجھے تو خیر ترا انتظار کرنا ہے
وہ مسکرا کے وسوسوں میں‌ڈال گیا
خیال تھا کہ اسے شرمسار کرنا  ہے
ترے فراق میں دن کس طرح کٹیں اپنے
کہ شغل شب تو ستارے شمار کرنا  ہے
خدا خیر یہ کوئی ضد کہ شوق ہے محسن
خود اپنی جاں کے دشمن سے پیار کرنا  ہے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔