Pages

Subscribe:

Friday, 12 October 2012

جس کو مذاق لذتِ ضبطِ فغاں نہیں

جس کو مذاق لذتِ ضبطِ فغاں نہیں
افسوس کیا وہ واقفِ دردِ نہاں نہیں
عشاق جس جگہ ہیں جہاں میں بسے ہوئے
جنگل نہیں۔ وہ شہر نہیں۔ گلستاں نہیں
ہر لب ہے شکوہ سنج زمانہ۔ مرے خدا
غمخانٔہِ جہاں میں کوئی شادماں نہیں
اُلجھے ہوئے ہیں شعر بھی جذبات کی طرح
اہلِ زباں کے لب پہ بھی ان کا بیاں نہیں
کیونکر لکھے گا کوئی مرے دلکی داستاں
جلتا ہے ایسی آگ میں جسکا دُھواں نہیں
ظاہر میں ہے لبوں پہ تبسم بسا ہوا
لیکن خوشی کا مطلقاً وہم و گماں نہیں

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔