Pages

Subscribe:

Monday, 8 October 2012

آنکھ روشن ہے جیب خالی ہے


    آنکھ روشن ہے جیب خالی ہے
    ظلمتوں میں‌کرن سوالی ہے

    حادثے لوریوں کا حاصل ہیں
    وقت کی آنکھ لگنے والی ہے

    آئینے سے حضور ہی کی طرح
    چشم کا واسطہ خیالی ہے

    حسن پتھر کی ایک مورت ہے
    عشق پھولوں کی ایک ڈالی ہے

    موت اک انگبیں کا ساغر ہے
    زندگی زہر کی پیالی ہے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔