Pages

Subscribe:

Sunday, 3 June 2012

میں آدمی عام سا

میں آدمی عام سا۔۔۔
اک قصہ نا تمام سا۔۔۔
نہ لہجہ بے مثال سا۔۔۔
نہ بات میں کمال سا۔۔۔
ہوں دیکھنے میں عام سا۔۔۔
اداسیوں کی شام سا۔۔۔
جیسے اک راز سا۔۔۔
خود سے بے نیاز سا۔۔۔
نہ ماہ جبینوں سے ربط ہے۔۔۔
نہ شہرتوں کا خبط سا۔۔۔
رانجھا، نا قیس ہوں
انشا، نا فیض ہوں۔۔۔
میں پیکر اخلاص ہوں۔۔۔
وفا، دعا اور آس ہوں۔۔۔
میں شخص خود شناس ہوں۔۔۔
اب تم ہی کرو فیصلہ۔۔۔
میں آدمی ہوں عام سا۔۔۔
یا پھر بہت ہی “خاص” ہوں۔۔۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔