گئے دنوں کے نئے ولولے تلاش کروں | |||
کھنچے ہوؤں سے مراسم نئے تلاش کروں | |||
جو حرفِ حق ہے اُسے، دلنشیں بنانے کو | |||
کچھ اور سابقے اور لاحقے تلاش کروں | |||
میں ربط دیکھ کے سورج مُکھی سے سورج کا | |||
برائے چشم نئے رتجگے تلاش کروں | |||
وہ جن میں جھانک کے سنبھلیں مرے نواح کے لوگ | |||
میں اُس طرح کے کہاں آئنے تلاش کروں | |||
جو آنچ ہی سے مبّدل بہ آب ہوتے ہیں | |||
میں گرم ریت میں وہ آبلے تلاش کروں | |||
بھگو کے گال، سجا کر پلک پلک آنسو | |||
" اُداس دل کے لئے مشغلے تلاش کروں " | |||
بیاضِ درد کی تزئین کے لئے ماجد | |||
وہ حرف رِہ گئے جو، اَن کہے تلاش کروں |
Friday, 22 June 2012
گئے دنوں کے نئے ولولے تلاش کروں Gayey dinoon key nayey walwaley talash karoon
Labels:
Majid siddiqi-ماجد صدیقی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔