Pages

Subscribe:

Friday, 8 June 2012

دیکھ تو دل کے جاں سے اٹھتا ہے

دیکھ تو دل کہ جاں سے اُٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

گور کس دل جلے کی ہے یہ فلک

شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے

خانۂ دل سے زینہار نہ جا

کوئی ایسے مکاں سے اٹھتا ہے!

نالہ سر کھینچتا ہے جب میرا

شور اک آسماں سے اُٹھتا ہے

لڑتی ہے اُس کی چشمِ شوخ جہاں

ایک آشوب واں سے اٹھتا ہے

سدھ لے گھر کی بھی شعلۂ آواز

دُود کچھ آشیاں سے اُٹھتا ہے

بیٹھنے کون دے ہے پھر اُس کو

جو ترے آستاں سے اُٹھتا ہے

یوں اُٹھے آہ اُس گلی سے ہم

جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے

عشق اک میر بھاری پتھر ہے

کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔