Pages

Subscribe:

Wednesday, 13 June 2012

کیا بھلا مجھکو پرکھنے کا نتیجہ نکلا

کیا بھلا مجھکو پرکھنے کا نتیجہ نکلا
زخم دل آپ کی نظروں سے بھی گہرا نکلا
توڑ کر دیکھ لیا آئینہ دل تو نے
تیری صورت کے سوا اور بتا کیا نکلا
جب کبھی تجھ کو پکارا میری تنہائی نے
بو اڑی پھول سے تصویر سے سایا نکلا
تشنگی جم گئی پتھر کی طرح ہونٹوں پر
ڈوب کر بھی تیرے دریا سے میں پیاسا نکلا
نظر آیا تھا سر بام مظفر کوئی
پہنچا دیوار کے نزدیک تو سایا نکلا

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔