Pages

Subscribe:

Wednesday, 6 June 2012

حیرتوں کے سلسلے سوز نہاں تک آگئے

حیرتوں کے سلسلے سوزِ نہاں تک آگئے
ہم تو دل تک چاہتے تھے تم تو جاں تک آگئے

نامرادی اپنی قسمت ، گمرہی اپنا نصیب
کارواں کی خیر ہو ، ہم کارواں تک آگئے

انکی پلکوں پر ستارے اپنے ہونٹوں پر ہنسی
قصہء غم کہتے کہتے ہم کہاں تک آگئے

اپنی اپنی جستجو ہے اپنا اپنا شوق ہے
تم ہنسی تک بھی نہ پہنچے ہم فغاں تک آگئے

زلف میں خوشبو نہ تھی یا رنگ عارض میں نہ تھا
آپ کس کی آرزو میں گلستاں تک آگئے

رفتہ رفتہ رنگ لایا جذبِ خاموشیءِ عشق
وہ تغافل کرتے کرتے امتحاں تک آگئے

خود تمہیں چاکِ گریباں کا شعور آجائے گا
تم وہاں تک آتو جاوء ، ہم جہاں تک آگئے

آج قابل میکدے میں انقلاب آنے کو ہے
اہلِ دل اندیشہء سود و زیاں تک آگئے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔