Pages

Subscribe:

Thursday, 7 June 2012

بہت فرسودہ لگتے ہیں مجھے اب پیار کے قصے



بہت فرسودہ لگتے ہیں مجھے اب پیار کے قصے
گل و گلزار کی باتیں، لب و رخسار کے قصے

یہاں سب کے مقدر میں فقط زخمِ جدائی ہے
سبھی جھوٹے فسانے ہیں وصالِ یار کے قصے

بھلا عشق و محبت سے کسی کا پیٹ بھرتا ہے
سنو تم کو سناتا ہوں میں کاروبار کے قصے

مرے احباب کہتے ہیں یہی اک عیب ہے مجھ میں
سرِ دیوار لکھتا ہوں پسِ دیوار کے قصے

کہانی قیس و لیلیٰ کی بہت ہی خوب ہے لیکن
مرے دل کو لبھاتے ہیں رسن و دار کے قصے

میں کیسے خون روتا ہوں وطن کی داستانوں پر
کبھی تم بھی تو سُن جاؤ مرے آزار کے قصے

شعیب اکثر میں لوگوں سے اسی کارن نہیں ملتا
وہی بے کار کی باتیں وہی بے کار کے قصے 

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔