Pages

Subscribe:

Tuesday, 31 July 2012

محبت یاد رکھتی ہے


وصال و ہجر میں
یا خوا ب سے محروم آنکھوں میں
کِسی عہدِ رفاقت میں
کہ تنہائی کے جنگل میں
خیالِ خال و خد کی روشنی کے گہرے بادل میں
چمکتی دُھوپ میں یا پھر
کِسی بے اَبر سائے میں
کہیں بارش میں بھیگے جسم و جاں کے نثر پاروں میں
کہیں ہونٹوں پہ شعروں کی مہکتی آبشاروں میں
چراغوں کی سجی شاموں میں
یا بے نُور راتوں میں
سحر ہو رُونما جیسے کہیں باتوں ہی باتوں میں
کوئی لپٹا ہوا ہو جس طرح
صندل کی خوشبوؤں میں
کہیں پر تتلیوں کے رنگ تصویریں بناتے ہوں
کہیں جگنوؤں کی مُٹھیوں میں روشنی خُود کو چھُپاتی ہو
کہیں کیسا ہی منظر ہو
کہیں کیسا ہی موسم ہو
ترے سارے حوالوں کو
تری ساری مثالوں کو
محبت یاد رکھتی ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Sunday, 29 July 2012

توفیقِ کارِ خیر (منزل و محمل)

توفیقِ کارِ خیر
توفیقِ کارِ خیر اگر ذوالجلال دے
بندہ حریم دل سے سبھی بت نکال دے
ذوقِ نظر مجھے۔ اُسےحُسن وجمال دے
پائے طلب کو جادہِ منزل پہ ڈال دے
مرکز پہ اپنی تاکہ نگاہیں جمی رھیں
وہ بے نیاز مَہر خُوں کو خَدوحال دے
مجھ میں کہاں یہ تاب لبِ شکوہ وا کروں
وہ درد دے دوا دے۔ جو دے حسبِ حال دے
وہ سر  خوشی نہ دے کہ نہ بھولوں کبھی اُسے
تڑپا کروں فراق میں غم دے ملال دے
اے عشق اِسقدر بھی وہ نا مہرباں نہیں
جاں نذر کرنے جائیں تو ہنسکر وہ ٹال دے
اُس کے بدن کے باغ پر فطرت بہار لائے
ہر ہر ادا کو نُور کے سانچے میں ڈھال دے
جانے خدا خلوص ہے دل میں یا چھیڑ چھاڑ
جب دور سے وہ گذرے تو بوسے اُچھال دے
میرے خدا سے اے شبِ ہجراں کبھی کہو
تنہائیوں میں اُس کو بھی میر خیال دے
میری غزل سے جاگے تبسم جہانِ نَو
میری اذاں کو سوزوگدازِ بلال دے
م۔م تبسم کاشمیری
مکمل تحریر اور تبصرے >>

تعارف (منزل و محمل)

تعارف
تبسم صاحب کے تعارف کے با ب میں مجھے قارئین کرام سے صرف یہ عرض کرنا ہے۔ کہ وہ رگ گل سے بلبل کے پر باندھتے ہیں نہ ہی زلف کے ہالے میں رخسار کی چاندنی کے جویا۔ ان کی شاعری قومی اور معاشرتی تہذیب کا مقصد لئے ہوئے ہے۔ وہ خارجی حالات کو داخلی احساس و تاثر کے رنگ و انداز میں پیش کرتےہیں۔ یہ حقیقت ان کے پہلے مجموعہ کلام ""حال و خیال"" میں بھی جا بجا نظر آتی ہے۔ اور اس کتاب ""منزل و محمل"" میں بھی۔ اس کے حصہ دوم کے مشمولات میں اب کے برس۔ چھ ستمبر۔ تیر بھی کوئی ہمارے پاس ہے تدبیر کا۔ اے قافلہ سالار۔ عراق امریکہ جنگ۔ شاکی ہے اک شخص۔  اور خسن و جمال تھی اول اول۔ ایسی غزلیں ہیں جن کے موضوعات ان کے اپنے مخصوص زاویہؑ نظر کی نشاندہی کرتی ہے۔ ذرا سی کاوش سے یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ ان کی تڑپ اور کرب ذات سے بالا ہے وہ اجتماعی مستقبل کی تعمیر کے لئے حال کے خط و خال کو ترتیب اور سلیقہ یا اخلاق و اوصاف کی ہنر مندی کا حامل دیکھنا چاہتے ہیں۔ مثلاََ
چوراہے میں جو پچھلے پہر قتل ہوا ہے
سب کہتے ہیں وہ شخص تو بندہ تھا خدا کا
وحشی تھی وہ انساں نہ تھا۔ جس نے اچانک
دھمکی بھی نہ دی چپکے سے کر ڈالا دھماکا
کتاب کے نام کی وجہ تسمیہ کے حوالے سے ذیل کے دو شعر پیش کروں گا۔ اور عرض کروں گا پڑھئے۔ اور غور کیجئے۔ اور مجھے اجازت دیجئے
قطرہ نہ پایا ساحل ساحل   تشنہ لبی نے چلتے چلتے
بھوک نے مانگا دانہ دانہ    خرمن خرمن دہقاں دہقاں 
قیس نے چھانی منزل منزل    بے لیلیٰ ہے محمل محمل
دشتِ جنوں کا گوشہ گوشہ    وحشت دل کا ساماں ساماں
ایم۔ اے۔ شاد
مکمل تحریر اور تبصرے >>

انتساب (منزل و محمل)

  انتساب
نوجوانو کے نام جنکا۔
نہ ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
اور وہ دنوں کا سفر گھنٹوں میں طے کر کے ترقی اور خوشحالی کی
منزلیں سَر کر لینا چاہتے ہیں۔ اور پلٹ کر نہیں دیکھتے۔
اور
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
کیونکہ ان کی سلامت روی اور حوصلہ مندی سے ملک و قوم کی
امیدیں وابستہ ہیں۔ یہ اپنی مسلسل جدوجہد سے یقیناََ اپنے 
تیز رفتار ہمعمر بھائیوں کو ہمخیال بنا کر ہمرکاب کر لیں گے۔ اللہ
تعالیٰ بزرگ و بر تر کی نصرت ہمشہ ان کے شاملِ حال رہے
ایں دعا ازمن داز جملہ جہاں آمیں باد
م۔م تبسم کاشمیری
مکمل تحریر اور تبصرے >>

عرضِ نیاز (منزل و محمل)

                                                                                              عرضِ نیاز
برصغیر کی تاریخ میں انیس سو اڑتالیس کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ قومی اور ملی اعتبار سے بھی۔ کہ  یہ آزادی کا اولین اور اساسی سال تھا اور مسلمان قافلہ در قافلہ نقلِ مقانی کر کے بھارت سے نوزائیدہ مملکت خداداد پاکستان آ رہے تھے۔ اور انفرادی اور ذاتی لحاظ سے بھی۔ کہ صحیح سالم اور بعافیت منزل پر پہنچ جانے کے بعد ہر شخص یا کنبہ کسی کوچہ شہر۔  قصبےیا قریے میں پناہ لے کر آباد ہو رہا تھا۔ رنگ۔ بولی۔ لباس اور خاندان یا برادری کے امتیازات بھول کر نئے ماحول اور معاشرے میں جذب ہو رہا تھا۔ از سرِ نو زندگی کی ابتدا کر رہا تھا
دگر از سر گر فتم قصہ زلف پریشاں را
ایک ہی بات وجہ سکوں تھی۔ کہ مسلماں کہیں کا ہو۔ مسلمان کا بھائی ہے۔ اور ہم دشمنوں سے بچ کر اپنے بھائیوں کے پاس آ گئے ہیں۔ مگر وادیِ پر خار کے سفر کی کوفت نے اعصاب شل کر دئیے تھے۔ اور صورت حال ایسی تھی۔ کہ کسی کو مستقبل کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے کی جرات نہ تھی۔ ماحول کو ساز گار بنانا تھا جانبین کی طرف سے کس طرح کے کردار و عمل کا مظاہرہ ہو
شکریہ پرسش احوال ترا عین کرم
وہ مگر درد جو دل میں ابھی پیدا ہی نہیں
ان دنوں جہاد کشمیر کا غلغلہ تھا۔ ہندو نے فرنگی سے ملی بگھت کر کے پاکستان سے اس کے الحاق کی راہ روک دی تھی۔ اور ریاستوں کے الحاق اصول و ضوابط کی صریح خلاف ورزی کی۔ شیح عبداللہ جیسے لوگوں کو فریب سے شیشے میں اتارا۔ اور وادی پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ کشمیر کے عوام یہ ستم کب برداشت کر سکتے تھے۔ وہ اٹھ کھڑے  ہوئے۔ اور پاکستان بھر میں کشمیر چلو کا نعرہ گونج اٹھا۔ پہاڑوں سے قبائلی افغانوں کا ایک سیل رواں اترا اور اس ہیبت و جلال سے آگے بڑھا کہ ہندوکے طمطراق اور سازوسامان کو  خس و خاشاک کی طرح بہا لے گیا۔ لیکن افسوس کہ جب مجاہدین جموں اور سرینگر کو روند ڈالنے والے تھے۔ اور بھارت کی شرمناک شکست پر مہر لگنے والی تھی۔ وہ مکاری اور عیاری سے سلامتی کونسل کو درمیان میں لے آیا اور صلحنامے پر اتفاق کروا لیا جس کی کسی بھی شق پر عملدرآمد کیلئے آج تک آمادہ نہیں ہوا نہتے کشمیری عوام پر انسانیت سوز مظالم توڑ رہا ہے۔ ٹس سے مس ہوتا ہے اور نہ عالمی رائے عامہ کی مذمت سے شرماتا ہے
کب تک نگہ غیر سے امید نوازش
تو شیر اگر ہے تو بپھر کیوں نہیں جاتا
مجاہدین کا لشکرِ جرار شہر کے مین بازار میں اڈا کی طرف سے داخل ہوا لوگ دیدہ و دل فرش راہ کئے دو رویہ کھڑے ہو گئے۔ میں مشایعت کیلئے ساتھ چلا۔ فضا قدموں کی ٹاپ سے اور ہوا نعرہؑ تکبیر کی ولولہ انگیز صداؤں سے معمور ہو گئی۔ تیراہ بہرام خاں سے مجاہدین کا رخ ٹانڈہ کی جانب ہوا تو میں  رک گیا۔ میں نے دیکھا۔ جوش جذبہ جہاد سے ان کے چہرے سرخ تھے۔ کپڑے خاک میں اَٹے ہوئے تھے۔ اکثر کے پاؤں میں جوتا نہیں تھا۔ مگر آنکھوں میں عزم و حوصلہ کی چمک تھی۔ جس سے نظر خیرہ ہو کر رہ جاتی
ہیں مرد مجاہد کے بھی انداز نرالے
رفتار قیامت کی ہے اور پاؤں میں چھالے
اللہ تمھیں فتح دے خدا تمھارا حامی و ناصر ہو۔ اکثر نے دعا دی اور سب نے آمین کہا۔ مجاہدیں وداع ہو گئے۔ میں اس وقت دم بخود لشکر کو دور آگے بڑھتا ہوا مطب حسینیہ کے چوبی چبوترے پر کھڑا دیکھ رہا تھا۔ اور پس و پیش سے بے نیاز و بے خبر تھا۔ یکا یک آواز آئی۔ اندا آ جائیے۔ میں نے پلٹ کر دیکھا۔ اندر دو باریش بزرگ تشریف رکھتے تھے۔ میں اسلام علیکم کہتے ہوئے آگے بڑھ کر بیٹھ گیا۔ اس وقت مطب میں کوئی مریض نہیں تھا۔ اور شاہ صاحب فارغ تھے۔ مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا۔ تعارف کرائیے۔ مگر مختصر نہیں۔ مکمل تعارف۔ میں نے عرض کیا۔ محمد مسعود میرا نام ہے۔ اسی شہر میں پیدا ہوا۔ مگر اٹھارہ برس بعد واپس آیا ہوں اب تک پردیسی تھا۔ آج مہاجر ہوں مگر میری ہجرت کو وطن میں ماننے کیلئے کوئی بھی تیار نہیں حالانکہ اس سلسلہ میں تمام مصائب و آلام سے دو چار ہوا ہوں۔ ہمارا بھی حال آپ جیساہے۔ شاہ صاحب نے فرمایا۔ ہم نے ترکِ وطن کیا۔ اور ہجرت بھی۔ مگر نہ مہاجر ہیں نہ مقامی۔ آپ کہاں سے تشریف لائے ہیں۔؟ میں دارالسلام عمر آباد سے آیا ہوں۔ یہ درس نظامی کی ایک اونچی اور بلند پایہ درسگاہ ہے۔ بنگلور اور مدراس کے درمیان۔ ضلع نارتھ آرکاٹ جنوبی ہندمیں۔  ہم امرتسر میں تھے۔ ہم تین بھائی ہیں۔ وہاں بھی طبابت کرتا تھا۔ آپ ہندوستان کے بالکل دوسری طرف چلے گئے۔ اس کی کوئی خاص وجہ ہے۔ دارالعلوم اور درسگاہیں تو ادھر بھی ہر بڑے شہر میں موجود تھیں۔ میں نے دارلحدیث باڑہ ہندو راؤ دھلی سے تعلیم کا آغاز کیا۔ یہ اتفاق تھا کہ عبدالباقی اعظمی میرے ہمدرس دوست نے دارالسلام کے لئے رخت سفر جمع کیا اور باندھا تو میں بھی ساتھ ہو لیا۔ اس لئے ہمدمیِ دوست بھی عزیز تھی۔ اور وہاں ادب اور معقولات کے اساتذہ کے سبب درسگاہ کا بھی بڑا شہرہ تھا۔
تعارف کے بعد شاہ صاحب نے اصرار کیا۔ کہ میں مطب میں حاضری دیا کروں۔ پھر یہ حاضری میرا معمول بن گئی۔ اور مطب شہر کا حلقہ دانشوراں۔ خواجہ اللہ دتہ گوہر۔منظر بجنوری۔ مفتوں مراد آبادی۔ اور غلام مصطفیٰ طالب جیسے شعرائے کرام اور سید نظر حسین شاہ (شاہ صاحب کے برادرِ صغیر)۔ شیخ    غلام حسین ریلوے گارڈ (ریٹائرڈ)۔ اور مولوی نظیرالحق میرٹھی جیسے اہلِ علم اصحاب اس حلقہ دانشوراں سے وابستہ ہو گئے۔ مذہب۔ اقبالیات۔ اور علم و ادب کے ہر موضوع پر سیر حاصل گفتگو اور بحث ہوتی۔ مولانا میرٹھی کی سر پرستی میں مجلسِ علم و ادب کی داغ بیل ڈالی گئی۔ جس کے زیر اہتمام ہر جمعتہ المبارک کو شہری سطح پر خصوصی اور ادبی اجلاس منعقد ہوتا۔ اجلاس کیلئے مقالات و مضامین کے موضوعات اور عنوان اور مشاعرے کیلئے مصرعہ طرح کا انتخاب اور تعیین ہوتا اس طرح مطب کو ہر نوجوان نگار یا شاعر کیلئے گہوارہ علم و حکمت اور ادبگاہ کی حیثیت حاصل رہی۔ اور وہ تربیت پا کر پروان چڑھتے رہے
ٹھہرا گیا ہے  لا کے جو منزل میں عشق کی
 رہبر تھا راہزن تھا نہ جانے وہ کون  تھا
زیر دست کتاب کے دو حصے ہیں۔ حصہ اول میں غزلیں ہیں۔ جو بر وقت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے  !!!حال و خیال!!! میں شامل نہ ہو سکیں۔ اور حصہ دوم میں وہ کلام ہے۔ جو ملک میں وقتاََ فوقتاََ رونما ہونے والے حالات کے زیر اثر یا کسی اور تقریبی داعیے کی وجہ سے کہا گیا۔ اس مجموعۂ کلام کا نام "منزل و محمل" رکھا ہے میں چاہتا ہوں۔ میرے ہموطن بالخصوص نوجوان اس احساس سے بہرہ ور ہوں کہ جہاں تھک کر محمل اتار دیا جاتا ہے۔ وہی جگہ منزل نہیں ہوتی۔ اور منزلِ مقصود تک پہنچنا اور محمل کو پہنچانا ہمارا ذاتی فرض اور قومی حمیت اور اجتماعی غیرت کی دلیل ہے۔ ہم بفضلہ مسلمان ہیں اور پاکستانی بھی۔ ہم نے اسلام کو فرقہ وارانہ تو جیہات اور تشریحات میں گم اور محدود پایا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اور یہ سوچ اور فکربھی جس سے اندازہ ہو سکے کہ سیاسی اعتبار سے جمہوریت کی جو نئی تعبیریں سامنے آ رہی ہیں۔ ان کے پس منظر میں جذبات کا کتنا خلوص کار فرما ہے۔ اور کتنی ذاتی منفعت یا خواہشِ اقتدار۔ محمل کو منزل تک لے جانے والوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیئے۔ جو ذہن دینی مسائل کی اصل شکل و صورت بدل سکتا ہے۔ اسے جمہوریت کے خط و خال بدلنے میں کیا پس و پیش یا تردد ہو سکتا ہے۔ جو انقلاب عالمی سطح پر رونما ہو چکا ہے۔ اور جس مستقبل کی منصوبہ بندی میں استعماری طاقتیں ابھی سے مصروف ہیں۔ ہمیں ان کا بہر حال مقابلہ کرنا پڑے گا اور اقوامِ عالم میں اپنا مقام پیدا کرنا اور اپنے امتیاز اور تشخص کو ابھارنا اور پھر باقی رکھنا ہمارا قومی اور ملی فریضہ ہے
کتاب کی ترتیب و تسوید کے باب میں میری خواہش سے زیادہ احباب کے اصرار کو دخل حاصل رہا ہے۔ بالخصوص ایم۔اے۔شاد کے جبرو اصرار کو ۔ انہوں نے مجھے مسلسل بے چین رکھا۔ اور مہمیز کرتے رہے۔
رحم آیا دوستوں کو میری پا شکستگی پر
تھاما جو ہاتھ میرا منزل پہ لا کے چھوڑا

م۔م۔تبسم کاشمیری


مکمل تحریر اور تبصرے >>

Friday, 27 July 2012

ہم کہ ٹھہرے اجنبی کتنی ملاقاتوں کے بعد

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی ملاقاتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی مداراتوں کے بعد

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

تھے بہت ہی بےدردلمحےختمِ دردِ عشق کے
تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد

دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی
کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد

ان سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کيئے
ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد
مکمل تحریر اور تبصرے >>

میں ہوش میں تھا (مہدی حسن)


مکمل تحریر اور تبصرے >>

ہم کے ٹھہرے اجنبی (نئیرہ نور)

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی ملاقاتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی مداراتوں کے بعد

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

تھے بہت ہی بےدردلمحےختمِ دردِ عشق کے
تھیں بہت بے مہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد

دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی
کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد

ان سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کيئے
ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Thursday, 26 July 2012

وہ چاند کہ روشن تھا سینوں میں

وہ چاند کہ روشن تھا سینوں میں نگاہوں میں
لگتا ہے اداسی کا اک بڑھتا ہوا ہالہ
پوشاکِ تمنا کو
آزادی کے خلعت کو
افسوس کہ یاروں نے
الجھے ہوئے دھاگوں کا اک ڈھیر بنا ڈالا
وہ شور ہے لمحوں کا، وہ گھور اندھیرا ہے
تصویر نہیں بنتی، آواز نہیں آتی
کچھ زور نہیں چلتا، کچھ پیش نہیں جاتی
اظہار کو ڈستی ہے ہر روز نئی اُلجھن
احساس پہ لگتا ہے ہر شام نیا تالہ
ہے کوئی دل بینا، ہے کوئی نظر والا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

اداسیوں کا سماں محفلوں میں چھوڑ گئی

اداسیوں کا سماں محفلوں میں چھوڑ گئی
بہار ایک خلش سی دلوں میں چھوڑ گئی
بچھڑ کے تجھ سے ہزاروں طرف خیال گیا
تری نظر مجھے کن منزلوں میں چھوڑ گئی
کہاں سے لائیے اب اُس نگاہ کو ناصر
جو ناتمام امنگیں دلوں میں چھوڑ گئی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Monday, 23 July 2012

اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں

اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں
کیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں
کیوں تیرے درد کو دیں تہمتِ ویرانئ دل
زلزلوں میں تو بھرے شہر اُجڑ جاتے ہیں
موسمِ زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے
ایسی رُت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں
اب کوئی کیا میرے قدموں کے نِشاں ڈھونڈھے گا
تیز آندھی میں تو خیمے بھی اُکھڑ جاتے ہیں
شغلِ اربابِ ہنر پوچھتے کیا ہو کہ یہ لوگ
ّپتھروں میں بھی کبھی آئینے جڑ جاتے ہیں
سوچ کا آئینہ دھُندلا ہو تو پھر وقت کے ساتھ
چاند چہروں کے خدوخال بگڑ جاتے ہیں
شِدتِ غم میں بھی زندہ ہوں تو حیرت کیسی
کچھ دیے تُند ہواؤں میں بھی لڑ جاتے ہیں
وہ بھی کیا لوگ ہیں محسن جو وفا کی خاطر!
خود تراشیدہ اُصولوں پہ بھی اَڑ جاتے ہیں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Thursday, 19 July 2012

وہ لمحے کتنے دروغ گو تھے

تمہاری پوروں کا لمس اب تک
مری کفِ دست پر ہے
اور میں سوچتا ہوں
وہ لمحے کتنے دروغ گو تھے
وہ کہہ گئے تھے
کہ اب کے جو ہاتھ تیرے ہاتھوں کو چھو گئے ہیں
تمام ہونٹوں کے سارے لفظوں سے معتبر ہیں
وہ کہہ گئے تھے
تمہاری پوریں
جو میرے ہاتھوں کو چھو رہی تھیں
وہی تو قسمت تراش ہیں
اور اپنی قسمت کو
سارے لوگوں کی قسمتوں سے بلند جانو
ہماری مانو
تو اب کسی اور ہاتھ کو ہاتھ مت لگانا
میں اُس سمے سے
تمام ہاتھوں
وہ ہاتھ بھی
جن میں پھول شاخوں سے بڑھ کے لطف نمو اٹھائیں
وہ ہاتھ بھی جو سدا کے محروم تھے
اور ان کی ہتھیلیاں زخم زخم تھیں
اور وہ ہاتھ بھی جو چراغ جیسے تھے
اور رستے میں سنگ فرسنگ کی طرح جا بجا گڑھے تھے۔
وہ ہاتھ بھی جن کے ناخنوں کے نشان
معصوم گردنوں پر مثال طوق ستم پڑے تھے
تمام نا مہربان اور مہربان ہاتھوں سے
دست کش یوں رہا ہوں جیسے
یہ مٹھیاں میں نے کھول دیں تو
وہ ساری سچائیوں کے موتی
مسرتوں کے تمام جگنو
جو بے یقینی کے جنگلوں میں
یقین کا راستہ بناتے ہیں
روشنی کی لکیر کا قافلہ بناتے ہیں
میرے ہاتھوں سے روٹھ جائیں گے
پھر نہ تازہ ہوا چلے گی
نہ کوئی شمع صدا جلے گی
میں ضبط اور انتظار کے اس حصار میں مدتوں رہا ہوں
مگر جب اک شام
اور وہ پت جھڑ کی آخری شام تھی
ہوا اپنا آخری گیت گا رہی تھی
مرے بدن میں مرا لہو خشک ہو رہا تھا
تو مٹھیاں میں نے کھول دیں
اور میں نے دیکھا
کہ میرے ہاتھوں میں
کوئی جگنو
نہ کوئی موتی
ہتھیلیوں پر فقط مری نامراد آنکھیں دھری ہوئی تھیں
اور ان میں
قسمت کی سب لکیریں مٹی ہوئی تھیں
احمد فراز
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Monday, 16 July 2012

اسکا کھونا بھی کریں کیسے گوارہ محسن


اس نے جب جب بھی مجھے دل سے پکارا محسن
میں نے تب تب یہ بتایا کے تمہارا محسن

لوگ صدیوں کے خطائوں پہ بھی خوش بستے ہیں
ہم کو لمحوں کی وفاؤں نے اجاڑا محسن

ہو گیا جب یہ یقین اب وہ نہیں آئے گا
آنسو اور غم نے دیا دل کو سہارا محسن

وہ تھا جب پاس تو جینے کو بھی دل کرتا تھا
اب تو پل بھر بھی نہیں ہوتا گزارا محسن

اسکو پانا تو مقدر کی لکیروں میں نہیں
اسکو کھونا بھی کریں کیسے گوارہ محسن
محسن نقوی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Saturday, 14 July 2012

اے جذبہ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے

اے جذبہ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
منزل کیلئے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے

اے دل کی خلش چل یوں ہی سہی چلتا تو ہوں ان کی محفل میں
اس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ پہ محفل آ جائے

آتا ہے جو طوفاں آنے دے کشتی کا خدا خود خافظ ہے
مشکل تو نہیں ان موجوں میں بہتا ہوا ساحل آ جائے

اس عشق میں جان کو کھونا ہے ماتم کرنا ہے رونا ہے
میں جانتا ہوں جو ہونا ہے پر کیا کروں جب دل آ جائے

اے راہبر کامل چلنے کو تیار تو ہوں پر یاد رہے
اس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے

ہاں یاد مجھے تم کر لینا آواز مجھے تم دے لینا
اس راہ محبت میں کوئی درپیش جو مشکل آ جائے

اب کیا ڈھونڈوں گا چشم کرم ہونے دے ستم بالائے ستم
میں چاہوں اے جذبہ غم کہ مشکل پس مشکل آ جائے
بھزاد لکھنوی


مکمل تحریر اور تبصرے >>

اے عشق جنوں پیشہ

عمروں کی مسافت سے
تھک ہار گئے آخر
سب عہد اذیّت کے
بیکار گئے آخر
اغیار کی بانہوں میں
دلدار گئے آخر
رو کر تری قسمت کو
غمخوار گئے آخر
یوں زندگی گزرے گی
تا چند وفا کیشا
وہ وادیِ الفت تھی
یا کوہ الَم جو تھا
سب مدِّ مقابل تھے
خسرو تھا کہ جم جو تھا
ہر راہ میں ٹپکا ہے
خونابہ بہم جو تھا
رستوں میں لُٹایا ہے
وہ بیش کہ کم جو تھا
نے رنجِ شکستِ دل
نے جان کا اندیشہ

کچھ اہلِ ریا بھی تو
ہمراہ ہمارے تھے
رہرو تھے کہ رہزن تھے
جو روپ بھی دھارے تھے
کچھ سہل طلب بھی تھے
وہ بھی ہمیں پیارے تھے
اپنے تھے کہ بیگانے
ہم خوش تھے کہ سارے تھے
سو زخم تھے نَس نَس میں
گھائل تھے رگ و ریشہ

جو جسم کا ایندھن تھا
گلنار کیا ہم نے
وہ زہر کہ امرت تھا
جی بھر کے پیا ہم نے
سو زخم ابھر آئے
جب دل کو سیا ہم نے
کیا کیا نہ مَحبّت کی
کیا کیا نہ جیا ہم نے
لو کوچ کیا گھر سے
لو جوگ لیا ہم نے
جو کچھ تھا دیا ہم نے
اور دل سے کہا ہم نے
رکنا نہیں درویشا

یوں ہے کہ سفر اپنا
تھا خواب نہ افسانہ
آنکھوں میں ابھی تک ہے
فردا کا پری خانہ
صد شکر سلامت ہے
پندارِ فقیرانہ
اس شہرِ خموشی میں
پھر نعرۂ مستانہ
اے ہمّتِ مردانہ
صد خارہ و یک تیشہ
اے عشق جنوں پیشہ
اے عشق جنوں پیشہ
احمد فراز
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Thursday, 12 July 2012

عشق نے دل میں جگہ کی تو قضا بھی آئی



عشق نے دِل میں جگہ کی تو قضا بھی آئی
!! درد دنیا میں جب آیا تو دوا بھی آئی

دل کی ہستی سے کیا عشق نے آگاہ مجھے
! دل جب آیا تو دھڑکنے کی صدا بھی آئی

صدقے اُتاریں گے ، اسیرانِ قفس چھوٹے ہیں
!! بجلیاں لے کے نشیمن پہ گھٹا بھی آئی

آپ سوچا ہی کئے ، اُس سے ملوں یا نہ ملوں
!! موت مشتاق کو مٹّی میں مِلا بھی آئی

لو ! مسیحا نے بھی ، اللّھ نے بھی یاد کِیا
! آج بیمار کو ہچکی بھی ، قضا بھی آئی

دیکھ یہ جادہَ ہستی ہے ، سنبھل کر ' فانی'
پیچھے پیچھے وہ دبے پاؤں قضا بھی آئی
فانی بدایوانی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ایک شب اپنے دریچے میں کھڑے تھے جاناں

ایک شب اپنے دریچے میں کھڑے تھے جاناں
اور باہر کے اندھیرے سے کوئی دیکھے تو
اپنے چہرے تھے جو کھڑکی میں جڑے تھے جاناں
مجھ کو تو معلوم ہے خوں اپنا بس اک دائرہ ہے
درد کا کھیل فقط لمحہ موجود کا ہے
پچھلی تاریخ سے آغاز نہیں ہو سکتا
بھول جاؤں تو کوئی انداز نہیں ہو سکتا
بھول جاؤں تو کوئی یاد نئی آئے گی
یہ کوئی حل کوئی انداز نہیں ہو سکتا
اب بھی آئی ہے بہار آ کے چلی جائے گی
مجھ کو معلوم ہے خوں اپنا بس اک دائرہ ہے
اتفاقاً کبھی میں پیدا ہوا تھا جیسے
جب مری موت بھی آئے گی یونہی آئے گی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Wednesday, 11 July 2012

جو گئے دنوں کا ملال ہے

میرے دشمنوں سے کہو کوئی
کسی گہری چال کے اہتمام کا سلسلہ ہی فضول ہے
کہ شکست یوں بھی قبول ہے
کبھی حوصلے جو مثال تھے
وہ نہیں رہے
مِرے حرف حرف کے جسم پر
جو معانی کے پر و بال تھے وہ نہیں رہے
مِری شاعری کے جہان کو
کبھی تتلیوں ،کبھی جگنوؤں سے سجائے پھرتے
خیال تھے
وہ نہیں رہے
مِرے دشمنوں سے کہو کوئی
وہ جو شام شہر وصال میں
کوئی روشنی سی لیے ہوئے کسی لب پہ جتنے سوال تھے
وہ نہیں رہے
جو وفا کے باب میں وحشتوں کے کمال تھے،وہ نہیں رہے
مِرے دُشمنوں سے کہو کوئی
وہ کبھی جو عہدِ نشاط میں
مُجھے خود پہ اِتنا غرور تھا کہیں کھو گیا
وہ جو فاتحانہ خُمار میں
مِرے سارے خواب نہال تھے
وہ نہیں رہے
کبھی دشت لشکر شام میں
مِرے سُرخ رد مہ و سال تھے، وہ نہیں رہے
کہ بس اب تو دل کی زباں پر
فقط ایک قصّۂ حال ہے—– جو
نڈھال ہے
جو گئے دنوں کا ملال ہے
مِرے دُشمنوں سے کہو کوئی

نوشی گیلانی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

تہمتیں تو لگتی ہیں

تہمتیں تو لگتی ہیں
روشنی کی خواہش میں
گھر سے باہر آنے کی کُچھ سزا تو ملتی ہے
لوگ لوگ ہوتے
ان کو کیا خبر جاناں !
آپ کے اِرادوں کی خوبصورت آنکھوں میں
بسنے والے خوابوں کے رنگ کیسے ہوتے ہیں
دل کی گود آنگن میں پلنے والی باتوں کے
زخم کیسے ہوتے ہیں
کتنے گہرے ہوتے ہیں
کب یہ سوچ سکتے ہیں
ایسی بے گناہ آنکھیں
گھر کے کونے کھدروں میں چھُپ کے کتنا روتی ہیں
پھر بھی یہ کہانی سے
اپنی کج بیانی سے
اس قدر روانی سے داستان سنانے
اور یقین کی آنکھیں
سچ کے غمزدہ دل سے لگ کے رونے لگتی ہیں
تہمتیں تو لگتی ہیں
روشنی کی خواہش میں
تہمتوں کے لگنے سے
دل سے دوست کو جاناں
اب نڈھال کیا کرنا
تہمتوں سے کیا ڈرنا

نوشی گیلانی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Tuesday, 10 July 2012

اجنبی بن کے گزر جاتے تو اچھا ہوتا

اجنبی بن کے گزر جاتے تو اچھا ہوتا
ہم محبت سے مکر جاتے تو اچھا ہوتا
جن کو تعبیر میسر نہیں اس دنیا میں
وہ حسیں خواب جو مر جاتے تو اچھا ہوتا
ہم کو سب پھول نظر آتے ہیں بے مصرف سے
گر تری رہ میں بکھر جاتے تو اچھا ہوتا
ان ستاروں کے چمکنے سے بھی کیا حاصل ہے
ہاں، تری مانگ کو بھر جاتے تو اچھا ہوتا
ابرِ باراں کے سبھی قطرے گہر ہیں لیکن
تیری آنکھوں میں اُتر جاتے تو اچھا ہوتا
ہم کو مارا ہے فقط تیز روی نے اپنی
سانس لینے کو ٹھہر جاتے تو اچھا ہوتا
ہم کبھی شام سے آگے نہ گئے تیرے لیے
شام سے تا بہ سحر جاتے تو اچھا ہوتا
ہم نے جو پھول چنے، کام نہ آئے اپنے
تیری دہلیز پہ دھر جاتے تو اچھا ہوتا
کس لیے سعدؔ مقدر کے بھروسے پہ رہے
ہم اگر خود ہی سنور جاتے تو اچھا ہوتا
سعد اللہ شاہ
مکمل تحریر اور تبصرے >>

بچھڑ کے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے

بچھڑ کے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے
ادھورا چاند بھی کتنا اداس لگتا ہے
یہ رکھ رکھاؤ محبت سکھا گئی اس کو
وہ روٹھ کر بھی مجھے مسکرا کے ملتا ہے
میں تجھ کو پا کے بھی کھویا ہوا سا رہتا ہوں
کبھی کبھی تو مجھے تو نے ٹھیک سمجھا ہے
کچھ اس قدر بھی تو آساں نہیں ہے عشق ترا
یہ زہر دل میں اتر کر ہی راس آتا ہے
اسے گنوا کے میں زندہ ہوں اس طرح محسن
کہ جیسے تیز ہوا میں چراغ جلتا ہے
محسن نقوی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

اتنی مدت بعد ملے ہو

اتنی مدت بعد ملے ہو
کن سوچوں میں گم پھرتے ہو
اتنے خائف کیوں رہتے ہو؟
ہر آہٹ سے ڈر جا تے ہو
تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا
ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو؟
کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے
رات گئے تک کیوں جاگے ہو؟
میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں
تم دریا سے بھی گہرے ہو
کون سی بات ہے تم میں ایسی
اتنے اچھے کیوں لگتے ہو؟
پچھے مڑ کر کیوں دیکھتا تھا
پتھر بن کر کیا تکتے ہو
جاؤ جیت کا جشن مناؤ
میں جھوٹا ہوں، تم سچے ہو
اپنے شہر کے سب لوگوں سے
میری خاطر کیوں الجھے ہو؟
کہنے کو رہتے ہو دل میں
پھر بھی کتنے دور کھڑے ہو
ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے
اپنی کہو اب تم کیسے ہو؟
محسن تم بدنام بہت ہو
جیسے ہو، پھر بھی اچھے ہو
محسن نقوی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Sunday, 8 July 2012

یہ محلوں میں بیٹھے رضاکار کتے

یہ محلوں میں بیٹھے رضاکار کتے
یہ امریکیوں کے وفادار کتے

یہ دن رات ڈالر کی ہڈی چبائیں
ملے جو بھی جھوٹن مزے لے کے کھائیں
یہ قدموں میں اغیار کے دم ہلائیں

یہ طاغوتیوں کے نگہدار کتے
یہ امریکیوں کے وفادار کتے

یہ ملت پہ بھونکیں یہ ملت کو نوچیں
عدو کا شکار اپنے گھر سے دبوچیں
یہ پنجوں سے دھرتی کا دامن کھروچیں

بدی کے محافظ یہ بدکار کتے
یہ امریکیوں کے وفادارا کتے

یہ لالچ کے مارے ہوس کے پجاری
یہ دنیا کے بھوکے ہیں دیں کے شکاری
ذلیلان فطرت کو ذلت ہے پیاری

حمیت کی دولت سے بیزار کتے
یہ امریکیوں کے وفادار کتے

مسلماں کو شدت پسندی کی گالی
ترقی پسندوں کی روشن خیالی
ہمارے وطن کی روایت نرالی

یہاں پر چلاتے ہیں سرکار کتے
یہ امریکیوں کے وفادار کتے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

اس شہر میں اب شور سگاں کیوں نہیں اٹھتا Iss sheher mein ab shor-e-sagan kioon nahin uthta

اس شہر میں اب شورِ سگاں کیوں نہیں اٹھتا
آباد مکاں ہیں تو دھواں کیوں نہیں اٹھتا
اٹھتے ہیں چمکنے کے لئے ننھّے سے جگنو
سورج! کوئی آشوبِ جہاں کیوں نہیں اٹھتا
زندہ ہے ابھی شہر میں فن تیشہ گری کا
بازو ہیں تو پھر سنگِ گراں کیوں نہیں اٹھتا
کیا رزق فقیروں کا فرشتوں میں بٹے گا
منصف کوئی اس خاک سے یاں کیوں نہیں اٹھتا
تینتیس بہاروں کا ثمر چکھ کے بھی مجھ سے
دو چار قدم رختِ جہاں کیوں نہیں اٹھتا
شہرت کی کمیں گاہوں میں قد ناپنے والو!
تم سے کبھی غیرت کا نشاں کیوں نہیں اٹھتا
رستے میں ابھی ریت کی دیوار کھڑی ہے
راوی ترا سیلابِ جواں کیوں نہیں اٹھتا
سبط علی صبا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نطر شام کے بعد

تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد
کتنے چپ چاپ سے لگتے ہے ہیں شجر شام کے بعد
اتنے چپ چاپ کے رستے بھی رہیں گے لا علم
چھوڑ جائیں گے کسی روز نگر شام کے بعد
میں نے ایسے ہی گناہ تیری جدائی میں کیے
جیسے طوفاں میں چھوڑ دے گھر شام کے بعد
شام سے پہلے وہ مست اپنی اڑانوں میں رہا
جس کے ہاتھوں میں تھے ٹوٹے ہوئے پر شام کے بعد
رات بیتی تو گنے آبلے اور پھر سوچا
کون تھا باعث آغاز سفر شام کے بعد
تو ہے سورج تجھے معلوم کہاں رات کا دکھ
تو کسی روز میرے گھر میں اتر شام کے بعد
لوٹ آئے نہ کسی روز وہ آوارہ مزاج
کھول رکھتے ہیں اسی آس پہ در شام کے بعد
فرحت عباس شاہ
مکمل تحریر اور تبصرے >>

الجھن تمام عمر یہ تار نفس میں تھی

اُلجھن تمام عُمر یہ تارِ نفس میں تھی
دِل کی مُراد عاشقی میں یا ہوس میں تھی
دَر تھا کُھلا، پہ بیٹھے رہے پَر سمیٹ کر
کرتے بھی کیا کہ جائے اماں ہی قفس میں تھی
سَکتے میں سب چراغ تھے’ تارے تھے دم بخُود
مَیں اُس کے اختیار میں’ وہ میرے بس میں تھی
اَب کے بھی ہے ‘ جمی ہُوئی، آنکھوں کے سامنے
خوابوں کی ایک دُھند جو پچھلے برس میں تھی
کل شب تو اُس کی بزم میں ایسے لگا مجھے
جیسے کہ کائنات مِری دسترس میں تھی
محفل میں آسمان کی بولے کہ چُپ رہے
امجد سدا زمین اسی پیش و پس میں تھی
امجد اسلام امجد
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Saturday, 7 July 2012

اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
دہقان تو مرکھپ گیا اب کس کو جگاؤں
ملتا ہے کہاں خوشہٰ گندم کہ جلاؤں
شاہین کا ہے گنبدشاہی پہ بسیرا
کنجشک فرومایہ کو اب کس سے لڑاؤں
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

ہر داڑھی میں تنکا ہے،ہر ایک آنکھ میں شہتیر

مومن کی نگاہوں سے بدلتی نہیں تقدیر
توحید کی تلوارسے خالی ہیں نیامیں
اب ذوق یقیں سے نہیں کٹتی کوئی زنجیر
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
شاہیں کا جہاں آج گرگس کا جہاں ہے
ملتی ہوئی ملاّ سے مجاہد کی اذاں ہے
مانا کہ ستاروں سے بھی آگے ہیں جہاں اور
شاہیں میں مگر طاقت پرواز کہاں ہے
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

مرمر کی سلوں سے کوئی بے زار نہیں ہے

رہنے کو حرم میں کوئی تیار نہیں ہے
کہنے کو ہر اک شخص مسلمان ہے،لیکن
دیکھو تو کہیں نام کو کردار نہیں ہے
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

بیباکی و حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن

مکاری و روباہی پہ اتراتا ہے مومن
جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈرہو
وہ رزق بڑے شوق سے اب کھاتا ہے مومن
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

پیدا کبھی ہوتی تھی سحر جس کی اذاں سے

اس بندہ مومن کو میں اب لاؤں کہاں سے
وہ سجدہ زمیں جس سے لرز جاتی تھی یارو!
اک بار تھا ہم چھٹ گئے اس بارگراں سے
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

جھگڑے ہیں یہاں صوبوں کے ذاتوں کے نسب کے

اگتے ہیں تہ سایہٰ گل خار غضب کے
یہ دیس ہے سب کا مگر اس کا نہیں کوئی
اس کے تن خستہ پہ تو اب دانت ہیں سب کے
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

محمودوں کی صف آج ایازوں سے پرے ہے

جمہور سے سلطانی جمہور ڈرے ہے
تھامے ہوئے دامن ہے یہاں پر جو خودی کا
مرمرکے جئے ہے کبھی جی جی کے مرے ہے
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

دیکھو تو ذرا محلوں کے پردوں کو اٹھا کر

شمشیر و سناں رکھی ہیں طاقوں پہ سجا کر
آتے ہیں نظر مسند شاہی پہ رنگیلے
تقدیر امم سو گئی طاوٰس پہ آ کر
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

مکاری و عیاری و غداری و ہیجان

اب بنتا ہے ان چار عناصر سے مسلمان
قاری اسے کہنا تو بڑی بات ہے یارو!
اس نے تو کبھی کھول کے دیکھا نہیں قرآن
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

کردار کا گفتار کا اعمال کا مومن

قائل نہیں ایسے کسی جنجال کامومن
سرحد کا ہے مومن کوئی بنگال کا مومن
ڈھونڈے سے بھی ملتا نہیں قرآن کا مومن
اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

تری شان بوترابی میرا ذوق خاکبازی




تری شان بوترابی،میرا ذوق خاکبازی
ترے آستاں پہ لاۓ مجھے تیری دل نوازی
میں نکل گیا خرد سے میں جنون باخبر ہوں
میری زد میں لامکاں ہے میراکام شاہبازی
تو ہے ساقی زمانہ میں ہوں رند جاودانہ
ہو عطا مۓشبانہ کے جھکے تیرانمازی
تیرے نقش پا کا سجدہ میری بندگی کا حاصل
اسی بندگی سے رومی اسی بندگی سےرازی
تیری یاد کا ولی ہوں کے میں واصف علی ہوں
نہ خفی ہوں نے جلی ہوں،میں ہوں حرف بے نیازی
واصف علی واصف
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Friday, 6 July 2012

ہم سے مت پوچھو راستے گھر کے

ہم سے مت پوچھو راستے گھر کے
ہم مسافر ہیں زندگی بھر کے
کون سورج کی آنکھ سے دن بھر
زخم گنتا ہے شب کی چادر کے
صلح کر لی یہ سوچ کر میں نے
میرے دشمن نہ تھے برابر کے
خود سے خیمے جلا دیئے میں نے
حوصلے دیکھنا تھے لشکر کے
یہ ستارے یہ ٹوٹتے موتی
عکس ہیں میرے دیدہ تر کے
گر جنوں مصلحت نہ اپنائے
سارے رشتے ہیں پتھر کے
محسن نقوی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ہوا کا لمس جو اپنے کواڑ کھولتا ہے

ہوا کا لمس جو اپنے کواڑ کھولتا ہے
تو دیر تک مرے گھر کا سکوت بولتا ہے
ہم ایسے خاک نشیں کب لبھا سکیں گے اسے
وہ اپنا عکس بھی میزان زر میں تولتا ہے
جو ہو سکے تو یہی رات اوڑھ لے تن پر
بجھا چراغ اندھیرے میں کیوں ٹٹولتا ہے ؟
اسی سے مانگ لو خیرات اس کے خوابوں کی
وہ جاگتی ہوئی آنکھوں میں نیند کھولتا ہے
سنا ہے زلزلہ آتا ہے عرش پر محسن
کہ بے گناہ لہو جب سناں پہ بولتا ہے
محسن نقوی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

اسی طرح سے ہر اک زخم خوشنما دیکھے Usi tarah sey har ik zakham khusnuma daikhey

اُسی طرح سے ہر اِک زخم خوشنما دیکھے
وہ آئے تو مجھے اب بھی ہرا بھرا دیکھے
گزر گئے ہیں بہت دن رفاقتِ شب میں
اب عُمر ہو گئی چہرہ وہ چاند سا دیکھے
مرے سکوت سے جس کو گِلے رہے کیا کیا
بچھڑتے وقت ان آنکھوں کا بولنا دیکھے
بس ایک ریت کا ذّرہ بچا تھا آنکھوں میں
ابھی تلک جو مسافر کا راستہ دیکھے
تیرے سوا بھی کئی رنگ خوش نظر تھے
جو تجھ کو دیکھ چکا ہو وہ اور کیا دیکھے
اُسی سے پوچھے کوئی دشت کی رفاقت جو
جب آنکھ کھولے، پہاڑوں کا سلسلہ دیکھے
تجھے عزیز تھا اور میں نے اُسے جیت لیا
مری طرف بھی تو اِک پل ترا خدا دیکھے
پروین شاکر
مکمل تحریر اور تبصرے >>

شکل اسکی تھی دلبروں جیسی

شکل اس کی تھی دلبروں جيسی
خو تھي ليکن ستمگروں جيسی
اس کے لب تھے سکوت کے دريا
اس کی آنکھيں سخنوروں جيسی
ميری پرواز جاں ميں حائل ہے
سانس ٹوٹے ہوئے پروں جيسی
دل کي بستی ميں رونقيں ہيں مگر
چند اجڑے ہوئے گھروں جيسی
کون ديکھے گا اب صليبوں پر
صورتيں وہ پيمبروں جيسی
ميری دنيا کے بادشاہوں کی
عادتيں ہيں گداگروں جيسی
رخ پہ صحرا ہيں پياس کے محسن
دل ميں لہريں سمندروں جيسی
محسن نقوی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رُوبرو کرتے
ہم اور بلبلِ بے تاب گفتگو کرتے
پیام بَر نہ میّسر ہوا، تو خوب ہوا
زبانِ غیر سے کیا شرحِ آرزو کرتے
میری طرح سے مَہ و مِہر بھی ہیں آوارہ
کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے
جو دیکھتے تیری زنجیر زلف کا عالَم
اسیر ہونے کی آزاد آرزو کرتے
نہ پوچھ عالمِ برگشتہ طالعی آتش
برستی آگ جو باراں کی آرزو کرتے
 حیدر علی آتش
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Wednesday, 4 July 2012

آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوے دل

آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوے دل
راکھ ہو جائیں ،کوئ اور تمنا نہ کریں
چاکِ وعدہ نہ سلے،زخمِ تمنا نہ کھلے
سانس ہموار رہے ،شمع کی لو تک نہ ہلے
باتیں بس اتنی کہ لمحے انہیں آ کر گن جائیں
آنکھ اٹھائے کوئ امید تو آنکھیں چھن جائیں
اُس ملاقات کا اس بار کوئ وہم نہیں
جس سے اک اور ملاقات کی صورت نکلے
اب نہ ہیجان و جُنوں کا نہ حکایات کا وقت
اب نہ تجدیدِ وفا کا نہ شکایات کا وقت
لُٹ گئ شہرِ حوادث میں متاعِ الفاظ
اب جو کہنا ہو تو کیسے کوئ نوحہ کہیے
آج تک تم سے رگِ جاں کا کئ رشتے تھے
کل سے جو ہوگا اسے کون سا رشتہ کہیے
پھر نہ دہکیں گے کبھی عارضِ و رُخسار ملو
ماتمی ہیں دَمِ رخصت در و دیوار ملو
پھر نہ ہم ہوں گے ،نہ اقرار،نہ انکار،ملو
آخری بار ملو۔
مصطفی زیدی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

آندھی چلی تو نقشِ کفِ پا نہیں ملا

آندھی چلی تو نقشِ کفِ پا نہیں ملا
دل جس سے مل گیا تھا دوبارہ نہیں ملا
ہم انجمن میں سب کی طرف دیکھتے رہے
اپنی طرح سے کوئی اکیلا نہیں ملا
آواز کو تو کون سمجھتا کہ دور دور
خاموشیوں کا درد شناسا نہیں ملا
قدموں کو شوقِ آبلہ پائی تو مل گیا
لیکن بہ ظرفِ وسعت صحرا نہیں ملا
مہر و وفا کے دشت نوردو جواب دو
تم کو بھی وہ غزال ملا یا نہیں ملا
کچے گھڑے نے جیت لی ندی چڑھی ہوئی
مضبوط کشتیوں کو کنارہ نہیں ملا
مصطفی زیدی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

بے نُور ہوں کہ شمعِ سرِ راہ گزر میں ہوں

بے نُور ہوں کہ شمعِ سرِ راہ گزر میں ہوں
بے رنگ ہوں کہ گردشِ خونِ جگر میں ہوں
اندھا ہوں یوں کہ کور نگاہوں میں رہ سکوں
بہرہ ہوں یوں کہ قصّۂ نا معتبر میں ہوں
ذرّے جوان ہو کے اُفق تک پہنچ گئے
میں اتنے ماہ و سال سے بطنِ گہر میں ہوں
مستقبلِ بعید کی آنکھوں کی روشنی
اوروں میں ہوں نہ ہوں مگر اپنی نظر میں ہوں
لاکھوں شہادتوں نے مجھے واسطے دیئے
میں شب گزیدہ پھر بھی تلاشِ سحر میں ہوں
سفّاک بچپنوں کا کھلونا بنا ہوا ہے
دنیا کی زد میں پنجۂ شمس و قمر میں ہوں
میں جنگلوں کی رات سے تو بچ آگیا
اب کیا کروں کہ وادیِ نوعِ بشر میں ہوں
جی چاہتا ہے مثلِ ضیا  تجھ سے مِل سکوں
مجبور ہوں کہ محبسِ دیوار و در میں ہوں
میں ہم نشینِ خلوتِ شہنازِ لالہ رُخ
میں گرمئ پسینۂ اہلِ ہنر میں ہوں
خوابوں کے راہروو، مجھے پہچاننے کے بعد
آواز دو کہ اصل میں ہوں یا خبر میں ہوں
اتنی تو دور منزلِ وارفتگا ں نہ تھی
کن راستوں پہ ہوں کہ ابھی تک سفر میں ہوں
کیسا حصار ہے جو مجھے چھوڑتا نہیں
میں کس طلسمِ ہوش رُبا کے اثر میں ہوں
زنداں میں ہوں کہ اپنے وطن کی فصیل میں
عزّت سے ہوں کہ جسم فروشوں کے گھر میں ہوں
مصطفی زیدی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

روکتا ہے غمِ اظہار سے پِندار مُجھے

روکتا ہے غمِ اظہار سے پِندار مُجھے
مرے اشکوں سے چھُپا لے مرے رُخسار مُجھے
دیکھ اے دشتِ جُنوں بھید نہ کھُلنے پائے
ڈھونڈنے آئے ہیں گھر کے در و دیوار مُجھے
سِی دیے ہونٹ اُسی شخص کی مجبوری نے
جِس کی قُربت نے کیا مِحرمِ اسرار مُجھے
میری آنکھوں کی طرف دیکھ رہے ہیں اَنجُم
جیسے پہچان گئی ہو شبِ بیدار مُجھے
جِنسِ ویرانیِ صحرا میری دوکان میں ہے
کیا خریدے گا ترے شہر کا بازار مُجھے
جَرسِ گُل نے کئی بار بلایا لیکن
لے گئی راہ سے زنجیر کی جَھنکار مُجھے
نَاوکِ ظُلم اُٹھا دَشنۂ اَندوہ سَنبھَال
لُطف کے خَنجرِ بے نام سے مت مار مُجھے
ساری دُنیا میں گَھنی رات کا سنّاٹا تھا
صحنِ زِنداں میں ملے صُبح کے آثار مُجھے
مصطفی زیدی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے،
غم دل مرے رفیقو! غم رائیگاں نہیں ہے
کوئی ہم نفس نہیں ہے، کوئ رازداں نہیں ہے
فقط ایک دل تھا اب تک سو و ہ مہرباں نہیں ہے
کسی آنکھ کو صدا دو کسی زلف کو پکار و
بڑی دھوپ پڑ رہی ہے کوئی سائباں نہیں ہے
انہی پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ
مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
مصطفی زیدی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

تلخی زبان تک تھی وہ دل کا برا نہ تھا

تلخی زبان تک تھی وہ دل کا برا نہ تھا
مجھ سے جدا ہوا تھا مگر بے وفا نہ تھا
طرفہ عذاب لائے گی اب اس کی بددعا
دروازہ جس پہ شہر کا کوئی کھلا نہ تھا
شامل تو ہوگئے تھے سبھی اک جلوس میں
لیکن کوئی کسی کو بھی پہچانتا نہ تھا
آگاہ تھا میں یوں تو حقیقت کے راز سے
اظہار حق کا دل کو مگر حوصلہ نہ تھا
جو آشنا تھا مجھ سے بہت دور رہ گیا
جو ساتھ چل رہا تھا مرا آشنا نہ تھا
سب چل رہے تھے یوں تو بڑے اعتماد سے
لیکن کسی سے پاؤں تلے راستہ نہ تھا
ذروں میں آفتاب نمایا تھے جن دنوں
واصف وہ کیسا دور تھا وہ کیا زمانہ تھا
واصف علی واصف
مکمل تحریر اور تبصرے >>

آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو

آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو
سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
جب شاخ کوئی ہاتھ لگاتے ہی چمن میں
شرمائے لچک جائے تو لگتا ھے کہ تم ہو
صندل سے مہکتی ہوئی پرکیف ہوا کا
جھونکا کوئی ٹکرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
اوڑھے ہوئے تاروں کی چمکتی ہوئی چادر
ندی کوئی بل کھائے تو لگتا ھے کہ تم ہو
جب رات گئے کوئی کرن میرے برابر
چپ چاپ سے سو جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
جان نثار اختر
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ہم نے کاٹی ہیں تری یاد میں راتیں اکثر

ہم نے کاٹی ہیں تری یاد میں راتیں اکثر
دل سے گزری ہیں تاروں کی باراتیں اکثر
عشق راہزن نہ سہی عشق کے ہاتھوں اکثر
ہم نے لٹتی ہوئی دیکھی ہیں باراتیں اکثر
ہم سے اک بار بھی جیتا ہے نہ جیتے گا کوئی
وہ تو ہم جان کے کھا لیتے ہیں ماتیں اکثر
ان سے پوچھو کبھی چہرے بھی پڑھے ہیں تم نے
جو کتابوں کی کیا کرتے ہیں باتیں اکثر
حال کہنا ہو کسی سے تو مخاطب ہے کوئی
کتنی دلچسپ ہوا کرتی ہیں باتیں اکثر
اور تو کون ہے جو مجھ کو تسلی دیتا
ہاتھ رکھ دیتی ھیں دل پر تری باتیں اکثر
جان نثار اختر
مکمل تحریر اور تبصرے >>

تو اس قدر مجھے اپنے قریب لگتا ہے

تو اس قدر مجھے اپنے قریب لگتا ہے
تجھے الگ سے جو سوچوں عجیب لگتا ہے
جسے نہ حسن سے مطلب نہ عشق سے سروکار
وہ شخص مجھ کو بہت بدنصیب لگتا ہے
حدودِ ذات سے باہر نکل کے دیکھ زرا
نہ کوئی غیر نہ کوئی رقیب لگتا ہے
یہ دوستی یہ مراسم یہ چاہتیں یہ خلوص
کبھی کبھی یہ سب کچھ عجیب لگتا ہے
اُفق پہ دور چمکتا ہوا کوئی تارا
مجھے چراغِ دیارِ حبیب لگتا ہے
نہ جانے کب کوئی طوفان آئے گا یارو
بلند موج سے ساحل قریب لگتا ہے
جان نثار اختر
مکمل تحریر اور تبصرے >>

سراپا عشق ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے

سراپا عشق ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے
جدھر جاتے ہیں یہ بادل ادھر جاؤں تو بہتر ہے
ٹھہر جاؤں یہ دل کہتا ہے تیرے شہر میں کچھ دن
مگر حالات کہتے ہیں کہ گھر جاؤں تو بہتر ہے
دلوں میں فرق آئیں گے تعلق ٹوٹ جائیں گے
جو دیکھا جو سنا اس سے مکر جاؤں تو بہتر ہے
یہاں ہے کون میرا جو مجھے سمجھے گا فراز
میں کوشش کر کے اب خود ہی سنور جاؤں تو بہتر ہے
احمد فراز
مکمل تحریر اور تبصرے >>