Pages

Subscribe:

Sunday, 29 July 2012

توفیقِ کارِ خیر (منزل و محمل)

توفیقِ کارِ خیر
توفیقِ کارِ خیر اگر ذوالجلال دے
بندہ حریم دل سے سبھی بت نکال دے
ذوقِ نظر مجھے۔ اُسےحُسن وجمال دے
پائے طلب کو جادہِ منزل پہ ڈال دے
مرکز پہ اپنی تاکہ نگاہیں جمی رھیں
وہ بے نیاز مَہر خُوں کو خَدوحال دے
مجھ میں کہاں یہ تاب لبِ شکوہ وا کروں
وہ درد دے دوا دے۔ جو دے حسبِ حال دے
وہ سر  خوشی نہ دے کہ نہ بھولوں کبھی اُسے
تڑپا کروں فراق میں غم دے ملال دے
اے عشق اِسقدر بھی وہ نا مہرباں نہیں
جاں نذر کرنے جائیں تو ہنسکر وہ ٹال دے
اُس کے بدن کے باغ پر فطرت بہار لائے
ہر ہر ادا کو نُور کے سانچے میں ڈھال دے
جانے خدا خلوص ہے دل میں یا چھیڑ چھاڑ
جب دور سے وہ گذرے تو بوسے اُچھال دے
میرے خدا سے اے شبِ ہجراں کبھی کہو
تنہائیوں میں اُس کو بھی میر خیال دے
میری غزل سے جاگے تبسم جہانِ نَو
میری اذاں کو سوزوگدازِ بلال دے
م۔م تبسم کاشمیری

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔