Pages

Subscribe:

Friday, 24 January 2014

زندہ ہے دل تو اس میں محبت بھی چاہیے zinda hai dil to is mein mohhabat b chaheyey

زندہ ہے دل تو اس میں محبت بھی چاہیے
آنکھیں جو ہیں تو راہِ وفا دیکھ کر چلو

آذر کدے کی آنچ سے شہ پا کے یک بیک
صر صر بنی ہوئی ہے صبا دیکھ کر چلو

امسال دیدنی ہے چمن میں جنوں کا رنگ
گُل چاک کر رہے ہیں قبا دیکھ کر چلو

گُلچیں کے سدّباب سے انکار ہے کسے
لیکن اصولِ نشو و نما دیکھ کر چلو

کچھ سرپھروں کو ذکرِ وفا بھی ہے ناگوار
یہ انحطاطِ مہر و وفا دیکھ کر چلو

ہاں انفرادیت بھی بُری چیز تو نہیں
چلنا اگر ہے سب سے جدا دیکھ کر چلو

آنکھیں کھلی ہوئی ہوں تو ہر شے ہے بے نقاب
اے بندگانِ حرص و ہوا دیکھ کر چلو

ذوقِ عبودیت ہو کہ گستاخیِ نگاہ
تخمینۂ جزا و سزا دیکھ کر چلو

ناموسِ زندگی بھی بڑی شے ہے دوستو
دیکھو بلند و پست فضا دیکھ کر چلو

یہ تو بجا کہ ذوقِ سفر ہے ثبوتِ زیست
اس دشت میں سموم و صبا دیکھ کر چلو

عرفان و آگہی بھی عبادت سہی مگر
طرز و طریقِ اہلِ وفا دیکھ کر چلو

اسبابِ ظاہری پہ بھی درکار ہے نظر
باوصف اعتمادِ خدا دیکھ کر چلو

ممکن ہے روحِ سرو و سمن سے ہو ساز باز
کیا دے گئی گلوں کو صبا دیکھ کر چلو

ہر کشمکش نہیں ہے امینِ سکونِ دل
ہر موت میں نہیں ہے بقا دیکھ کر چلو

ہر لحظہ ہے پیمبرِ اندیشہ و عمل
کیا چاہتا ہے رنگِ فضا دیکھ کر چلو

یہ بھی روش نہ ہو رہِ مقصود کے خلاف
آئی ہے یہ کدھر سے صدا "دیکھ کر چلو"

ہمدرد بن کے دشمنِ دانش ہوئے ہیں لوگ
یہ بھی ہے دوستی کی ادا دیکھ کر چلو
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Tuesday, 15 October 2013

غم کے ریلے میں دُھلے دِل کی دُعا عید کا چاندGham key raily mein dhullay dil ki dua eid ka chand

غم کے ریلے میں دُھلے دِل کی دُعا عید کا چاند
چشمِ پُر نم کو ہے رِم جھِم کی سزا عید کا چاند

پہلے آویزاں رہا گوہرِ مِژگاں پہ ہِلال
صبر کی ڈور کٹی ، چھن سے گرا عید کا چاند

غش میں دیکھا سَرِ دِہلیز کوئی زَخمی سر
رینگ کر اَوٹ میں بادل کی چھپا عید کا چاند

چند لمحے نظر آتا ہے ، چلا جاتا ہے
کچھ تو ہے جس پہ ہے ہم سب سے خفا عید کا چاند

عید ہے طفل تسلی ، مرے خوش خوش بچو!۔
بچپنے میں ہمیں بھاتا تھا بڑا عید کا چاند

سسکیاں ہجر گَزیدوں کی سِوا ہوتی گئیں
جانے کس دَرد کی ہوتا ہے دَوا عید کا چاند

چاند کو دیکھ کے اِک چاند بہت یاد آیا
اَب کے آنکھوں میں نہیں دِل میں چبھا عید کا چاند

گیلی لکڑی سا سلگتے تھے مگر زِندہ تھے
نیم جاں دِل کی جلاتا ہے چتا عید کا چاند

دیکھ کر مجھ کو ہنسا ، میں نے کچھ ایسے دیکھا
سال بھر ساتھ مرے روتا رہا عید کا چاند

نیم بسمل ہیں اِسی شہر میں ایسے بھی قیس
جن کے مر جانے کی کرتا ہے دُعا عید کا چاند
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Monday, 16 September 2013

اے چمن والو! متاعِ رنگ و بُو جلنے لگی aiy chaman walo mata e rang o boo

اے چمن والو! متاعِ رنگ و بُو جلنے لگی
ہر روش پر نکہتوں کی آبرو جلنے لگی

پھر لغاتِ زندگی کو دو کوئی حرفِ جُنوں
اے خرد مندو! ادائے گفتگو جلنے لگی

قصرِ آدابِ محبت میں چراغاں ہو گیا
ایک شمعِ نو ورائے ما و تو جلنے لگی

ہر طرف لُٹنے لگی ہیں جگمگاتی عصمتیں
عظمت انسانیت پھر چارسُو جلنے لگی

دے کوئی چھینٹا شراب ارغواں کا ساقیا
پھر گھٹا اُٹھی تمنّائے سبُو جلنے لگی

اِک ستارہ ٹوٹ کر معبودِ ظلمت بن گیا
اِک تجلّی آئینے کے رُو برُو جلنے لگی

دیکھنا ساغرخرامِ یار کی نیرنگیاں
آج پھُولوں میں بھی پروانوں کی خُو جلنے لگی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

محفلیں لُٹ گئیں جذبات نے دم توڑ دیا Mehfilein lut gain jazbat ney dam tod diya


محفلیں لُٹ گئیں جذبات نے دم توڑ دیا
ساز خاموش ہیں نغمات نے دم توڑ دیا

ہر مسرت غمِ دیروز کا عنوان بنی
وقت کی گود میں لمحات نے دم توڑ دیا

اَن گِنت محفلیں محرومِ چراغاں ہیں ابھی
کون کہتا ہے کہ ظلمات نے دم توڑ دیا

آج پھر بُجھ گئے جَل جَل کے امیدوں کے چراغ
آج پھر تاروں بھری رات نے دَم توڑ دیا

جن سے افسانۂ ہستی میں تسلسل تھا کبھی
اُن محبّت کی روایات نے دم توڑ دیا

جھلملاتے ہوئے اشکوں کی لڑی ٹوٹ گئی
جگمگاتی ہوئی برسات نے دم توڑ دیا

ہائے آدابِ محبّت کے تقاضے ساغر
لب ہلے اور شکایات نے دم توڑ دیا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Monday, 9 September 2013

کیا یہ ظلم تھوڑا ہے؟ Kia yey zulm thoda hai

حکیم شہر بتا

وقت کے شکنجوں نے

خواہشوں کے پھولوں کو

نوچ نوچ توڑا ہے

کیا یہ ظلم تھوڑا ہے؟

درد کے جزیروں نے

آرزو کے جیون کو

مقبروں میں ڈالا ہے

ظلمتوں کے ڈیرے ہیں

لوگ سب لٹیرے ہیں

موت روٹھ بیٹھی ہے

ذات ریزہ ریزہ ہے

تارتار آنچل ہے

درد درد جیون ہے

شبنمی سی پلکیں ہیں

قرب ہے نہ دوری ہے

زندگی ادھوری ہے

مجھ کو

اب یقین آیا ہے کہ

موت بھی ضروری ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Monday, 15 July 2013

موسمِ گل کے لیے بارِ گراں چھوڑ گئی Mosem e gul key lieyey bar e gran chod gai

موسمِ گل کے لیے بارِ گراں چھوڑ گئی
زرد پتّے جو گلستاں میں خزاں چھوڑ گئی

مجھ کو تنہائی کے احساس سے ڈر لگتا ہے
تو مجھے عمرِ رواں جانے کہاں چھوڑ گئی

ترا احسان ہے اے فصلِ بہاراں مجھ پر
جاتے جاتے مرے ہونٹوں پہ فغاں چھوڑ گئی

یہ شکایت ہے عبث ہم سے تری گردشِ وقت
دیکھ ہم اب بھی وہیں ہیں، تو جہاں چھوڑ گئی

شمع روشن تھی تو محفل میں بھی رونق تھی صباؔ
گل ہوئی شمع تو محفل میں دھواں چھوڑ گئی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ملبوس جب ہوا نے بدن سے چرا لئے Malboos jab hawa ney badan sey chura lieye

ملبوس جب ہوا نے بدن سے چرا لئے
دوشیزگانِ صبح نے چہرے چھپا لئے

ہم نے تو اپنے جسم پر زخموں کے آئینے
ہر حادثے کی یاد سمجھ کر سجا لئے

میزانِ عدل تیرا جھکاؤ ہے جس طرف
اس سمت سے دلوں نے بڑے زخم کھا لئے

دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لئے

لوگوں کی چادروں پہ بناتی رہی وہ پھول
پیوند اس نے اپنی قبا میں سجا لئے

ہر حرملہ کے دوش پہ ترکش کو دیکھ کر
ماؤں نے اپنی گود میں بچے چھپا لئے
مکمل تحریر اور تبصرے >>