Pages

Subscribe:

Sunday, 30 September 2012

یہ برگ و بار و شاخ و شجر تیری آیتیں

اے عالمِ نجوم و جواہر کے کِردگار !
اے کارسازِ دہر و خداوندِ بحر و بر
اِدراک و آگہی کے لیے منزلِ مراد
بہرِ مسافرانِ جنوں ، حاصلِ سفر !
یہ برگ و بار و شاخ و شجر ، تیری آیتیں
تیری نشانیاں ہیں یہ گلزار و دشت و در
یہ چاندنی ہے تیرے تبسم کا آئینہ
پرتَو ترے جلال کا بے سایہ دوپہر !
موجیں سمندروں کی ، تری رہگزر کے موڑ
صحرا کے پیچ و خم ، ترا شیرازہ ہُنر !
اُجڑے دلوں میں تیری خموشی کے زاویے
تابندہ تیرے حرف ، سرِ لوحِ چشم تر
موجِ صبا ، خرام ترے لطفِ عام کا
تیرے کرم کا نام ، دُعا در دُعا ، اثر
اے عالمِ نجوم و جواہر کے کِردگار !
پنہاں ہے کائنات کے ذوقِ نمو میں تُو
تیرے وجود کی ہے گواہی چمن چمن !
ظاہر کہاں کہاں نہ ہُوا ، رنگ و بُو میں تُو
مری صدا میں ہیں تری چاہت کے دائرے
آباد ہے سدا مرے سوزِ گلو میں تُو
اکثر یہ سوچتا ہوں کہ موجِ نفس کے ساتھ
شہ رگ میں گونجتا ہے لہُو ، یا لہُو میں تُو ؟
اے عالمِ نجوم و جواہر کے کِردگار !
مجھ کو بھی گِرۂ شام و سحر کھولنا سکھا !
پلکوں پہ میں بھی چاند ستارے سجا سکوں
میزانِ خس میں مجھ کو گہر تولنا سکھا
اب زہر ذائقے ہیں زبانِ حروف کے
اِن ذائقوں میں “خاک شفا” گھولنا سکھا
دل مبتلا ہے کب سے عذابِ سکوت میں
تو ربِّ نطق و لب ہے ، مجھے “بولنا” سکھا
عاشور کا ڈھل جانا ، صُغرا کا وہ مر جانا
اکبر تِرے سینے میں ، برچھی کا اُتر جانا
اے خونِ علی اصغر میدانِ قیامت میں
شبیر کے چہرے پر کچھ اور نکھر جانا
سجاد یہ کہتے تھے ، معصوم سکینہ سے
عباس کے لاشے سے چپ چاپ گزر جانا
ننھے سے مجاہد کو ماں نے یہ نصیحت کی
تِیروں کے مقابل بھی ، بے خوف و خطر جانا
محسن کو رُلائے گا ، تا حشر لہُو اکثر
زہرا تیری کلیوں کا صحرا میں بکھر جانا
یہ دشت یہ دریا یہ مہکتے ہوئے گلزار
اِس عالمِ امکاں میں ابھی کچھ بھی نہیں تھا
اِک “جلوہ” تھا ، سو گُم تھا حجاباتِ عدم میں
اِک “عکس” تھا ، سو منتظرِ چشمِ یقیں تھا
یہ موسمِ خوشبو یہ گُہَر تابیِ شبنم
یہ رونقِ ہنگامۂ کونین کہاں تھی؟
گُلنار گھٹاؤں سے یہ چَھنتی ہوئی چھاؤں
یہ دھوپ ، دھنک ، دولتِ دارین کہاں تھی ؟
یہ نکہتِ احساس کی مقروض ہوائیں
دلداری الہام سے مہکے ہوئے لمحات
دوشیزہ انفاس کی تسبیح کے تیوَر
کس کنجِ تصوُّر میں تھے مصروفِ مناجات
“شیرازہ آئینِ قِدَم” کے سبھی اِعراب
بے رَبطیِ اجزائے سوالات میں گُم تھے
یہ رنگ یہ نَیرنگ یہ اورنگ یہ سب رنگ
اِک پردۂ افکار و خیالات میں گُم تھے
یہ پھُول یہ کلیاں یہ چَٹکے ہوئے غُنچے
بے آب و ہوا تشنۂ آیات و مناجات
یہ برگ یہ برکھا یہ لچکتی ہوئی شاخیں
بیگانۂ آدابِ سحر ، بے لِم جذبات
کُہسار کے جَھرنوں سے پھسلتی ہوئی کرنیں
اِک خوابِ مسلسل کے تحیّر میں نہاں تھیں
چپ چاپ فضاؤں میں مچلتی ہوئی لہریں
ماحول کے بے نطق تصوّر پہ گراں تھیں
غم خانۂ ظلمت ، نہ کوئی بزمِ چراغاں
خورشید نہ مہتاب ، نہ انجم نہ کواکِب
شورش گۂ “کُن” تھی نہ یہ آوازِ دمادم
تفریقِ مَن و تُو ، نہ مساوات و مراتب
ہنگامۂ شادی ، نہ کوئی مجلسِ ماتم
یلغارِ حریفاں ، نہ جلوسِ غمِ یاراں
آنکھوں میں کوئی زخم ، نہ سینے میں کوئی چاک
انبوۂ رقیباں ، نہ رُخِ لالہ عذاراں
اَفلاس کا احساس ، نہ پندارِ زَر و سیم
بخشش کے تقاضے ، نہ یہ دریوزہ گَری تھی
پتھر کا زمانہ تھا ، نہ شیشے کے مکاں تھے
یہ عقل کا دستور ، نہ شَوریدہ سَری تھی
مقتول کی فریاد ، نہ آوازۂ قاتل
مقتل تھے ، نہ شہ رگ میں لہو تھا ، نہ ہَوَس تھی
دربار ، نہ لشکر ، نہ کوئی عَدل کی زنجیر
دِل تھا ، نہ کہیں تیرگیِ کنجِ قفس تھی
رہبر تھے ، نہ منزل تھی ، نہ رستے ، نہ مسافر
قندیل ، نہ جُگنو ، نہ ستارے ، نہ گُہر تھے
یہ اَبیض و اَسود ، نہ اَبّ و جَد ، نہ زَر و سیم
اِنساں تھے ، نہ حیواں ، نہ حَجر تھے ، نہ شَجر تھے
ہر سمت مسلط تھے تحیّر کے طلِسمات
جیسے کسی مدفن میں ہو صدیوں کا کوئی راز
جس طرح کِسی اُجڑے ہوئے شہر کے سائے
یا موت کی ۂچکی میں پگھلتی ہوئی آواز
جیسے کسی گھر میں صَفِ ماتم کی خموشی
یا دشت و بیاباں میں نزولِ شبِ آفات
جیسے کسی کہسار پہ تنہا کوئی خیمہ
یا شامِ غریباں کے تصرف میں سمٰوات
ہَولے سے سِرکنے لگے ہستی کے حجابات
دھیرے سے ڈھلکنے لگا تخلیق کا آنچل
چھَن چھَن کے بکھرنے لگا “شیرازۂ کُن۔کُن”
رِم جھِم سے برسنے لگے احساس کے بادل
پلکیں سی جھپکنے لگی دوشیزۂ کونین
ہلچل سی ہوئی پیکرِ عالم کی رگوں میں
آفاق کے سینے میں دھڑکنے لگیں کرنیں
“شیرازہ کُن” ڈھل بھی گیا تھا “فَیَکُوں” میں
ہر سمت بکھرنے لگیں وجدان کی کرنیں
کرنوں سے کھِلے رنگ تو رنگوں سے گلستاں
بیدار ہوئی خواب سے خوشبوئے رگِ گُل
خوشبو سے مہکنے لگا دامانِ بیاباں
دامانِ بیاباں میں نہاں سینہ برفاب
برفاب کے سینے میں تلاطم بھی شَرر بھی
اعجازِ لبِ کُن سے ہوئے خَلق بیک وقت
صحرا بھی ، سمندر بھی ، کہستاں بھی ، شجر بھی
پھر حِدّتِ تخلیق کی شدت سے پگھل کر
جاگے کئی طوفان ، تۂ سینہ برفاب
ہر موج تھی پَروَردۂ آغوشِ تلاطم
ہر قطرہ کا دل ، صورتِ بے خوابی سِیماب
شانوں پہ اُٹھائے ہوئے بارِ کفِ سیلاب
بے سمت بھٹکنے لگیں منہ زور ہوائیں
مُنہ زور ہواوں کے تھپیڑوں کی دھمک سے
دِل بن کے دھڑکنے لگیں بے رنگ فضائیں
بے رنگ فضاؤں کے تحیر کی کَسک میں
پنہاں تھے شب و روز سے آلود زمانے
بے اَنت زمانوں کے اُفق تھے نہ حدیں تھیں
آخر دیا تریتب انہیں دَستِ قضا نے
پھر چشمِ تحیر نے یہ سوچا کہ فضا میں
شادابیِ گلزارِ طرب کس کے لیے ہے ؟
یہ کون ہُوا باعثِ تخلیقِ دو عالم ؟
یہ ارض و سما کیوں ہیں ، یہ سب کس کے لیے ہے ؟
تزئینِ مَہ و انجمِ افلاک کا باعث
ہے کون ؟ جو خلوت کے حجابوں میں چُھپا ہے ؟
تخلیقِ رگ و ریشۂ کونین کا مقصد
ہے کیا ؟ جو سرِ لوحِ شب روز لکھا ہے ؟
ہے کس کے لیے عَشوہ بلقیسِ تصوّر
یہ غمزۂ رخسارِ جہاں کس کے لیے ہے ؟
آرائشِ خال و خدِ ہستی کا سبب کون ؟
یہ انجمنِ کون و مکاں کس کے لیے ہے ؟
پھر ریشمِ انوار کا ملبوس پہن کر
ظاہر ہوا اِک پیکرِ صد رنگ بصد ناز
نِکھرے کئی بکھرے ہوئے رنگوں کے مناظر
فطرت کی تَجلّی ہوئی آمادۂ اعجاز
وہ پیکرِ تقدیس ، وہ سرمایہ تخلیق
وہ قبلۂ جاں ، مقصدِ تخلیقِ دو عالم
وجدان کا معیار ، مَہ و مہر کا محوَر
وہ قافلہ سالارِ مزاجِ بنی آدم
وہ منزلِ اربابِ نظر ، فکر کی تجسیم
وہ کعبۂ تقدیرِ دو عالم ، رخِ احساس
وہ بزمِ شب و روز کا سلطانِ مُعظّم
وہ رونقِ رخسارۂ فیروزہ و الماس
وہ شعلگیِ شمعِ حرم ، تابشِ خورشید
وہ آئینہ حُسنِ رُخِ ارض و سماوات
وہ جس سے رواں موجِ تبسم کی سبیلیں
وہ جس کے تکلم کی دھنک چشمہ آیات
وہ جس کا ثنا خواں دلِ فطرت کا تکلم
ہستی کے مناظر ، خمِ ابرو کے اشارے
آفاق ہیں دامن کی صباحت پہ تصدُّق
قدموں کے نشاں ڈھونڈتے پھرتے ہیں ستارے
اُس رحمتِ عالم کا قصیدہ کہوں کیسے ؟
جو مہرِ عنایات بھی ہو ، ابرِ کرم بھی
کیا اُس کے لیے نذر کروں ، جس کی ثنا میں
سجدے میں الفاظ بھی ، سطریں بھی ، قلم بھی
چہرہ ہے کہ انوارِ دو عالم کا صحیفہ
آنکھیں ہیں کہ بحرین تقدس کے نگین ہیں
ماتھا ہے کہ وحدت کی تجلی کا ورق ہے
عارِض ہیں کہ “والفجر” کی آیات کے اَمیں ہیں
گیسُو ہیں کہ “وَاللَّیل” کے بکھرے ہوئے سائے
ابرو ہیں کہ قوسینِ شبِ قدر کھُلے ہیں
گردن ہے کہ بَر فرقِ زمیں اَوجِ ثُریا
لَب صورتِ یاقوت شعاعوں میں دُھلے ہیں
قَد ہے کہ نبوت کے خدوخال کا معیار
بازو ہیں کہ توحید کی عظمت کے عَلم ہیں
سینہ ہے کہ رمزِ دل ہستی کا خزینہ
پلکیں ہیں کہ الفاظِ رُخِ لوح و قلم ہیں
باتیں ہیں کہ طُوبٰی کی چٹکتی ہوئی کلیاں
لہجہ ہے کہ یزداں کی زباں بول رہی ہے
خطبے ہیں کہ ساون کے اُمنڈتے ہوئے دریا
قِرأت ہے کہ اسرارِ جہاں کھول رہی ہے
یہ دانت ، یہ شیرازہ شبنم کے تراشے
یاقوت کی وادی میں دمکتے ہوئے ہیرے
شرمندہ تابِ لب و دندانِ پَیمبر (صلّی اللہ علیہ و آلِہ وسلّم)
حرفے بہ ثنا خوانی و خامہ بہ صریرے
یہ موجِ تبسم ہے کہ رنگوں کی دھنک ہے
یہ عکسِ متانت ہے کہ ٹھہرا ہوا موسم
یہ شُکر کے سجدے ہیں کہ آیات کی تنزیل
یہ آنکھ میں آنسو ہیں کہ الہام کی رِم جھم
یہ ہاتھ یہ کونین کی تقدیر کے اوراق
یہ خط ، یہ خد و خالِ رُخِ مصحف و اِنجیل
یہ پاؤں یہ مہتاب کی کِرنوں کے مَعابِد
یہ نقشِ قدم ، بوسہ گہِ رَف رَف و جِبریل
یہ رفعتِ دستار ہے یا اوجِ تخیل
یہ بند قبا ہے کہ شگفتِ گُلِ ناہید
یہ سایہ داماں ہے کہ پھیلا ہوا بادل
یہ صبحِ گریباں ہے کہ خمیازۂ خورشید
یہ دوشِ پہ چادر ہے کہ بخشش کی گھٹا ہے
یہ مہرِ نبوت ہے کہ نقشِ دلِ مہتاب
رُخسار کی ضَو ہے کہ نمو صبحِ ازل کی
آنکھوں کی ملاحت ہے کہ روئے شبِ کم خواب
ہر نقشِ بدن اتنا مناسب ہے کہ جیسے
تزئین شب و روز کہ تمثیلِ مہ و سال
ملبوسِ کُہن یوں شِکن آلود ہے جیسے
ترتیب سے پہلے رخِ ہستی کے خد و خال
رفتار میں افلاک کی گردش کا تصور
کردار میں شامل بنی ہاشم کی اَنا ہے
گفتار میں قرآں کی صداقت کا تیقُّن
معیار میں گردُوں کی بلندی کفِ پا ہے
وہ فکر کہ خود عقلِ بشر سَر بگریباں
وہ فقر کے ٹھوکر میں ہے دنیا کی بلندی
وہ شُکر کے خالق بھی ترے شُکر کا ممنون
وہ حُسن کہ یوسف(ع) بھی کرے آئینہ بندی
وہ علم کہ قرآں تِری عترت کا قصیدہ
وہ حِلم کہ دشمن کو بھی اُمیدِ کرم ہے
وہ صبر کہ شَبِّیر تِری شاخِ ثمردار
وہ ضبط کہ جس ضبط میں عرفانِ اُمم ہے
“اورنگِ سلیمان” تری نعلین کا خاکہ
“اِعجازِ مسیحا” تری بکھری ہوئی خوشبو
“حُسنِ یدِ بیضا” تری دہلیز کی خیرات
کونین کی سَج دھج تِری آرائشِ گیسُو
سَرچشمۂ کوثر ترے سینے کا پسینہ
سایہ تری دیوار کا معیارِ اِرَم ہے
ذرے تِری گلیوں کے مہ و انجمِ افلاک
“سُورج” ترے رہوار کا اک نقشِ قدم ہے
دنیا کے سلاطیں ترے جارُوب کشوں میں
عالم کے سکندر تِری چوکھٹ کے بھکاری
گردُوں کی بلندی ، تری پاپوش کی پستی
جبریل کے شہپر ترے بچوں کی سواری
دھرتی کے ذوِی العدل ، تِرے حاشیہ بردار
فردوس کی حوریں ، تِری بیٹی کی کنیزیں
کوثر ہو ، گلستانِ ارم ہو کہ وہ طُوبٰی
لگتی ہیں ترے شہر کی بکھری ہوئی چیزیں
ظاہر ہو تو ہر برگِ گُلِ تَر تِری خوشبو
غائب ہو تو دنیا کو سراپا نہیں ملتا
وہ اِسم کہ جس اِسم کو لب چوم لیں ہر بار
وہ جسم کہ سُورج کو بھی سایہ نہیں ملتا
احساس کے شعلوں میں پگھلتا ہوا سورج
انفاس کی شبنم میں ٹھٹھرتی ہوئی خوشبو
اِلہام کی بارش میں یہ بھیگے ہوئے الفاظ
اندازِ نگارش میں یہ حُسن رمِ آہُو
حیدر تری ہیبت ہے تو حَسنین ترا حُسن
اصحاب وفادار تو نائب تِرے معصوم
سلمٰی تری عصمت ہے ، خدیجہ تری توقیر
زہرا تری قسمت ہے تو زینب ترا مقسوم
کس رنگ سے ترتیب تجھے دیجیے مولا ؟
تنویر ، کہ تصویر ، تصور ، کہ مصور ؟
کس نام سے امداد طلب کیجیے تجھ سے
یٰسین ، کہ طہٰ ، کہ مُزمِّل ، کہ مدثر ؟
پیدا تری خاطر ہوئے اطرافِ دو عالم
کونین کی وُسعت کا فَسوں تیرے لیے ہے
ہر بحر کی موجوں میں تلاطم تِری خاطر
ہر جھیل کے سینے میں سَکوں تیرے لیے ہے
ہر پھول کی خوشبو تِرے دامن سے ہے منسوب
ہر خار میں چاہت کی کھٹک تیرے لیے ہے
ہر دشت و بیاباں کی خموشی میں تِرا راز
ہر شاخ میں زلفوں سی لٹک تیرے لیے ہے
دِن تیری صباحت ہے ، تو شب تیری علامت
گُل تیرا تبسم ہے ، ستارے ترے آنسو
آغازِ بہاراں تری انگڑائی کی تصویر
دِلداریِ باراں ترے بھیگے ہوئے گیسُو
کہسار کے جھرنے ترے ماتھے کی شعاعیں
یہ قوسِ قزح ، عارضِ رنگیں کی شکن ہے
یہ “کاہکشاں” دُھول ہے نقشِ کفِ پا کی
ثقلین ترا صدقۂ انوارِ بدن ہے
ہر شہر کی رونق ترے رستے کی جمی دھول
ہر بَن کی اُداسی تری آہٹ کی تھکن ہے
جنگل کی فضا تیری متانت کی علامت
بستی کی پھبن تیرے تَبسُّم کی کرن ہے
میداں ترے بُو ذر کی حکومت کے مضافات
کہسار ترے قنبر و سلماں کے بسیرے
صحرا ترے حبشی کی محبت کے مُصلّے
گلزار ترے میثم و مِقداد کے ڈیرے
کیا ذہن میں آئے کہ تو اُترا تھا کہاں سے ؟
کیا کوئی بتائے تِری سرحد ہے کہاں تک ؟
پہنچی ہے جہاں پر تِری نعلین کی مٹی
خاکسترِ جبریل بھی پہنچے نہ وہاں تک
سوچیں تو خدائی تِری مرہونِ تصوّر
دیکھیں تو خدائی سے ہر انداز جُدا ہے
یہ کام بشر کا ہے نہ جبریل کے بس میں
تو خود ہی بتا اے میرے مولا کہ تو کیا ہے ؟
کہنے کو تو ملبوسِ بشر اوڑھ کے آیا
لیکن ترے احکام فلک پر بھی چلے ہیں
انگلی کا اشارہ تھا کہ تقدیر کی ضَربت
مہتاب کے ٹکڑے تری جھولی میں گِرے ہیں
کہنے کو تو بستر بھی میسر نہ تھا تجھ کو
لیکن تری دہلیز پہ اترے ہیں ستارے
اَنبوہِ ملائک نے ہمیشہ تری خاطر
پلکوں سے ترے شہر کے رستے بھی سنوارے
کہنے کو تو امی تھا لقب دہر میں تیرا
لیکن تو معارف کا گلستاں نظر آیا
ایک تو ہی نہیں صاحبِ آیاتِ سماوات
ہر فرد ترا وارثِ قرآں نظر آیا
کہنے کو تو فاقوں پہ بھی گزریں تری راتیں
اسلام مگر اب بھی نمک خوار ہے تیرا
تُو نے ہی سکھائی ہے تمیزِ من و یزداں
انسان کی گردن پہ سدا بار ہے تیرا
کہنے کو تِرے سر پہ ہے دستارِ یتیمی
لیکن تو زمانے کے یتیموں کا سہارا
کہنے کو ترا فقر ترے فخر کا باعث
لیکن تو سخاوت کے سمندر کا کنارا
کہنے کو تو ہجرت بھی گوارا تجھے لیکن
عالم کا دھڑکتا ہوا دل تیرا مکاں ہے
کہنے کو تو مسکن تھا ترا دشت میں لیکن
ہر ذرہ تری بخششِ پیہم کا نشاں ہے
کہنے کو تو ایک “غارِ حرا” میں تیری مَسند
لیکن یہ فلک بھی تری نظروں میں “کفِ خاک”
کہنے کو تو “خاموش” مگر جُنبشِ لب سے
دامانِ عرب گرد ، گریبانِ عجم چاک
اے فکرِ مکمل ، رُخِ فطرت ، لبِ عالم
اے ہادی کُل ، خَتم رُسل ، رحمت پیہم
اے واقفِ معراجِ بشر ، وارثِ کونین
اے مقصدِ تخلیقِ زماں ، حُسنِ مُجسّم
نسلِ بنی آدم کے حسِین قافلہ سالار
انبوہِ ملائک کے لیے ظلِ الٰہی
پیغمبرِ فردوسِ بریں ، ساقی کوثر
اے منزلِ ادراک ، دِل و دیدہ پناہی
اے باعثِ آئینِ شب و روزِ خلائق
اے حلقۂ ارواحِ مقدس کے پیمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
اے تاجوَرِ بزمِ شریعت ، مرے آقا !
اے عارفِ معراجِ بشر ، صاحبِ منبر !
اے سید و سَرخیل و سرافراز و سخن ساز
اے صادق و سجاد و سخی ، صاحبِ اسرار
اے فکرِ جہاں زیب و جہاں گیر و جہاں تاب
اے فقرِ جہاں سوز و جہاں ساز و جہاں دار
اے صابر و صناع و صمیم وصفِ اوصاف
اے سرورِ کونین و سمیع یمِ اصوات
میزان اَنا ، مکتبِ پندارِ تیقُّن
اعزازِ خود مصدرِ صد رُشد و ہدایت
اے شاکر و مشکور و شکیلِ شبِ عالم
اے ناصر و منصور و نصیرِ دلِ انسان
اے شاہد و مشہود و شہیدِ رُخِ توحید
اے ناظر و منظور و نظیرِ لبِ یزداں
اے یوسف و یعقوب کی اُمّید کا محور
اے بابِ مناجاتِ دلِ یونس و ادریس
اے نوح کی کشتی کے لیے ساحلِ تسکیں
اے قبلہ حاجاتِ سلیماں شہِ بلقیس
اے والی یثرب میری فریاد بھی سن لے !
اے وارثِ کونین میں لَب کھول رہا ہوں
زخمی ہے زباں ، خامۂ دل خون میں تر ہے
شاعر ہوں مگر دیکھ ! مَیں سچ بول رہا ہوں
تُو نے تو مجھے اپنے معارف سے نوازا
لیکن میں ابھی خود سے شناسا بھی نہیں ہوں
تُو نے تو عطا کی تھی مجھے دولتِ عِرفاں
لیکن میں جہالت کے اندھیروں میں گھرا ہوں
بخشش کا سمندر تھا تِرا لطف و کرم بھی
لیکن میں تیرا لطف و کرم بھول چکا ہوں
بکھری ہے کچھ ایسے شبِ تیرہ کی سیاہی
میں شعلگیِ شمعِ حرم بھول چکا ہوں
تُو نے تو مجھے کفر کی پستی سے نکالا
میں پھر بھی رہا قامتِ الحاد کا پابند
تُو نے تو مرے زخم کو شبنم کی زباں دی
میں پھر بھی تڑپتا ہی رہا صورتِ اَسپند
تُو نے تو مجھے نکتۂ شیریں بھی بتایا
میں پھر بھی رہا معتقدِ تلخ کلامی
تُو نے تو مِرا داغِ جبیں دھو بھی دیا تھا
میں پھر بھی رہا صید و ثنا خوانِ غلامی
تُو نے تو مسلط کیا افلاک پہ مجھ کو
میں پھر بھی رہا خاک کے ذروں کا پجاری
تُو نے تو ستارے بھی نچھاور کیے مجھ پر
میں پھر بھی رہا تیرگیِ شب کا شکاری
تُو نے تو مجھے درسِ مساوات دیا تھا
میں پھر بھی مَن و تُو کے مراحل میں رہا ہوں
تُو نے تو جدا کر کے دکھایا حق و باطل
میں پھر بھی تمیزِ حق و باطل میں رہا ہوں
تُو نے تو کہا تھا کہ زمیں سب کے لیے ہے
میں نے کئی خطوں میں اسے بانٹ دیا ہے
تُو نے جسے ٹھوکر کے بھی قابل نہیں سمجھا
میں نے اسی کنکر کو گُہر مان لیا ہے
تُو نے تو کہا تھا کہ زمانے کا خداوند
اِنساں کے خیالوں میں کبھی آ نہیں سکتا
لیکن میں جہالت کے سبب صرف یہ سمجھا
وہ کیسا خدا ؟ جس کو بشر پا نہیں سکتا
تُو نے تو کہا تھا کہ وہ اُونچا ہے خِرد سے
میں نے یہی چاہا اتر آئے وہ خِرد میں
تو نے تو کہا تھا “احد” ہے وہ ازل سے
میں نے اسے ڈھونڈا ہے سدا “حِس و عدد” میں
اب یہ ہے کہ دنیا ہے مِری تیرہ و تاریک
سایہ غمِ دوراں کا محیطِ دل و جاں ہے
ہر لمحہ اُداسی کے تصرف میں ہے احساس
تا حدِ نظر خوفِ مسلسل کا دھواں ہے
صحرائے غم و یاس میں پھیلی ہے کڑی دھُوپ
کچھ لمسِ کفِ موجِ صبا تک نہیں ملتا
بے انت سرابوں میں کہاں جادۂ منزل ؟
اپنا ہی نشانِ کفِ پا تک نہیں ملتا
اَعصاب شکستہ ہیں تو چھلنی ہیں نگاہیں
احساسِ بہاراں ، نہ غمِ فصلِ خزاں ہے
آندھی کی ہتھیلی پہ ہے جگنو کی طرح دل
شعلوں کے تصرف میں رگِ غُنچہ جاں ہے
ہر سمت ہے رنج و غم و آلام کی بارش
سینے میں ہر اک سانس بھی نیزے کی انی ہے
اب آنکھ کا آئینہ سنبھالوں میں کہاں تک
جو اَشک بھی بہتا ہے وہ ہیرے کی کنی ہے
احباب بھی اعداء کی طرح تیر بکف ہیں
اب موت بھٹکتی ہے صفِ چارہ گراں میں
سنسان ہے مقتل کی طرح شہرِ تصور
سہمی ہوئی رہتی ہے فغاں خیمۂ جاں میں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Saturday, 29 September 2012

میرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی

میں کہ اس شہر کا سیماب صفت شاعر ہوں
میری تخلیق میرے فکر کی پہچان بھی ہے

میرے حرفوں ، میرے لفظوں میں ہے چہرہ میرا
میرا فن اب میرا مذہب ، میرا ایمان بھی ہے

میر و غالب نہ سہی ، پھر بھی غنیمت جانو
میرے یاروں کے سِرہانے میرا دیوان بھی ہے

مجھ سے پوچھو کہ شکستِ دل و جاں سے پہلے
میرے احساس پہ گزری ہے قیامت کیا کیا

سایہء دار و شبِ غم کی سخاوت سے الگ
میں نے سوچی قد و گیسو کی علامت کیا کیا

میرے ٹوٹے ہوئے خوابوں کے خرابوں سے پرے
میرے بکھرے ہوئے جذبے تھے سلامت کیا کیا

طنزِ اغیار سے احباب کے اخلاص تلک
میں نے ہر نعمتِ عظمیٰ کا لبادہ پہنا

دستِ قاتل کی کشش آپ گواہی دے گی
میں نے ہر زخم قبا سے بھی زیادہ پہنا

میری آنکھوں میں خراشیں تھیں دھنک کی لیکن
میری تصویر نے ملبوس تو سادہ پہنا

ضربتِ سنگِ ملامت میرے سینے پہ سجی
تمغہء جرّات و اعزازِ حکومت کی طرح

کُھل کے برسی میری سوچوں پہ عداوت کی گھٹا
آسمانوں سے اُترتی ہوئی دولت کی طرح

قریہ قریہ ہوئی رسوا میرے فن کی چاہت
کونے کونے میں بکھرتی ہوئی شہرت کی طرح

میرے آنگن میں حوادث کی سواری اُتری
میرا دل وجہء عذابِ در و دیوار ہوا

عشق میں عزّتِ سعادت بھلا کر اکثر
میر صاحب کی طرح میں بھی گناہ گار ہوا

اپنی اُجڑی ہوئی آنکھوں سے شعائیں لے کر
میں نے بجھتی ہوئی سوچوں کو جوانی دی ہے

اپنی غزلوں کے سُخن تاب ستارے چُن کر
سنگریزوں کو بھی آشفتہ بیانی دی ہے

حسنِ خاکِ رہِ یاراں سے محبت کر کے
میں نے ہر موڑ کو اِک تازہ کہانی دی ہے

مجھ سے روٹھے ہیں میرے اپنے قبیلے والے
میرے سینے میں ہر اِک تیرِ ستم ٹوٹا ہے

کربِ نا قدریء یاراں کہ بھنور میں گِھر کر
بارہا دل کی طرح شوق کا دم ٹوٹا ہے

میں کہ اس شہر کا سیماب صفت شاعر ہوں
میں نے اس شہر کی چاہت سے شرف پایا ہے

میرے اعادہ کا غضب ابرِ کرم ہے مجھ کو
میرے احباب کی نفرت میرا سرمایہ ہے

مطمئن ہوں کہ مجھے یاد رکھے گی دنیا
جب بھی اس شہر کی تاریخِ وفا لکھے گی

میرے گھر کے در و دیوار مجھے سوچیں گے
وسعتِ دشت مجھے آبلہ پا لکھے گی

میرا ماتم اسی چپ چاپ فضا میں ہوگا
میرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی!!!!
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Wednesday, 26 September 2012

محسن کل آسماں بھی میرے کفن سا تھا

کل رات بزم میں جو مِلا، گلبدن سا تھا
خوشبو سے اُس کے لفظ تھے، چہرہ چمن سا تھا
دیکھا اُسے تو بول پڑے اُس کے خدّوخال
پوچھا اُسے تو چپ سا رہا، کم سُخن سا تھا
تنہائیوں کی رُت میں بھی لگتا تھا مُطمئن
وہ شخص اپنی ذات میں اِک انجمن سا تھا
سوچا اُسے، تو میں کئی رنگوں میں کھو گیا
عالم تمام اُس کے حسِیں پیرہن سا تھا
جو شاخ شوخ تھی، وہ اُسی کے لبوں سی تھی
جو پھول کھِل گیا، وہ اُسی کے دہن سا تھا
وہ سادگی پہن کے بھی دل میں اُتر گیا
اُس کی ہر اک ادا میں عجب بھولپن سا تھا
آساں سمجھ رہے تھے اُسے شہرِ جاں کے لوگ
مشکل تھا اِس قدر، کہ مِرے اپنے فن سا تھا
وہ گفتگو تھی اُس کی، اُسی کے لیے ہی تھی!
کہنے کو، یوں تو میں بھی شریکِ سُخن سا تھا
تارے تھے چاندنی میں، کہ تہمت کے داغ تھے
مُحسن کل آسمان بھی، میرے کفن سا تھا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

قطعہ (منزل و محمِل)

بے وجہ کبھی کسی سے کسد نہ کرے
انسان ہے وہ جو کبھی حسد نہ کرے
ہر بات میں اللہ پہ بھروسہ کر کے
ممکن ہو اگر کسی کی بات رد نہ کرے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

خار ہی خار ہیں بکھرے ہوئے گلزاروں میں (منزل و محمِل)

خار ہی خار ہیں بکھرے ہوئے گلزاروں میں
پھول کھلتے ہیں تو بک جاتے ہیں بازاروں میں
خیر ہی خیر ہے یہ دردِ محبت۔ لیکن
لوگ گنتے ہیں مجھے تیرے گنہگاروں میں
آج بھی جنسِ محبت ہے گراں کل کیطرح
ہاں مگر بکتی ہے بے مول بھی درباروں میں
عشق میں سایۂِ دیوار سے بڑھنے والے
چن دئے جاتے ہیں اُٹھتی ہوئی دیوارں میں
خود تجھے کیا نہیں معلوم۔ یہ مجھ سے مت پوچھ
لوگ ہیں کیسے ترے خاشیہ برداروں میں
اہلِ محفل ہی اَمیں ہوں نہ اگر محفل کے
راز کی بات چلی جائے گی اخباروں میں
صورتِ حال پہ کچھ پیرِ مغاں غور کریں
بدظنی بڑھتی چلی جاتی ہے میخواروں میں
تیری بیداد و جفا عین کرم ہے لیکن
جانے کیا ڈھونڈ رہا ہے تُو وفاداروں میں
یاد کے آیٔینہ خانوں سے میں جب بھی گزرا
تیری تصویر ہی ممتاز تھی شاہکاروں میں
دلبری پر تو گزارا ہے تبسم مشکل
کچھ تو دلداری بھی ہو آج کے دلداروں میں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

آرزو جب تیری حسرت سے بدل جائے گی (منزل و محمِل)

آرزو جب تیری حسرت سے بدل جائے گی
مشکل آسانی کے ڈھانچے میں بھی ڈل جائے گی
عالمِ یاس میں گھبرانے سے کیا حاصل ہے
زندگی ایک مصیبت ہے تو ٹل جائے گی
جل گیا ہے کوی پروانہ تو افسوس نہ کر
شمع بھی سوزشِ پنہانی سے جل جائے گی
آجکل سنتا ہوں۔ ہوتا ہے رقیبوں پہ عتاب
اِس طرح کیا میری تقدیر بدل جائے گی
حُسن پتھر ہے تو کم عشق کی گرمی بھی نہیں
اُس کی ہٹ موم کی مانند پگھل جائے گی
دیکھنا اپنی وفا ہے تو یہ نفرت کی خلش
اُس کے سینے سے بتدریج نکل جائے گی
آج حیران ہیں احباب تبسم اِس پر
اُس کو اصرار ہے وہ سُن کے غزل جائے گی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

جتنی آزاد ہیں بے باک ہیں اِنسانوکی (منزل و محمِل)

جتنی آزاد ہیں بے باک ہیں اِنسانوکی
اِتنی بے باک نہیں نیتیں حیوانوں کی
روشنی دیکھی ہے شہرونکی شبستانونکی
اِن سے پیاری ہے شبِ ماہ بیابانونکی
دل ہلا دیتی ہے تہذیب کے ماتھے کی شکن
خار بن جاتی ہیں کلیاں بھی گلستانونکی
اضطراب اور بڑھاتا ہے ہجومِ یاراں
اور سکوں دیتی ہیں تنہائیاں ویرانونکی
لذتِ درد سے خالی ہیں دلوں کے گوشے
کون لیتا ہے خبر سوختہ سامانونکی
جن میں ہے ساغرو مینا وہی نازک سے ہاتھ
اِینٹ سے اِینٹ بجا دیتے ہیں میخانونکی
عقل کے نام پہ کوئی نہ سردار آیا
یہ وہ منزل ہے جو پامال ہے دیوانونکی
ذوق اَرزاں ہے تو کچھ تبسم اِرشاد
آپ بھی بیٹھے ہیں مجلس میں غزلخوانونکی
</
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Tuesday, 25 September 2012

بول اے سکوتِ دل کہ درِ بے نِشاں کُھلے

بول اے سکوتِ دل کہ درِ بے نِشاں کُھلے
مجھ پر کبھی تو عُقدہِ ہفت آسماں کُھلے

یوں دل سے ھمکلام ہوئی یادِ رفتگاں

جیسے اک اجنبی سے کوئی رازداں کُھلے

سہمی کھڑی ہیں خوفِ تلاطم سے کشتیاں

موج ہوا کو ضد کہ کوئی بادباں کُھلے

وہ آنکھ نیم وا ہو تو دل پھر سے جی اُٹھیں

وہ لب ہلیں تو قفلِ سکوتِ جہاں کُھلے

وہ جبر ہے کہ سوچ بھی لگتی ہے اجنبی

ایسے میں کس سے بات کریں کیا زباں کُھلے

جتنا ہوا سے بندِ قبا کُھل گیا تیرا

ہم لوگ اس قدر بھی کسی سے کہاں کُھلے

محسن کی موت اتنا بڑا سانحہ نہ تھی

اس سانحے پر بال تیرے رائیگاں کُھلے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Monday, 24 September 2012

غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا Ghazab kia terey wadey pey aitbaar kia

غضب کیا تیرے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا

نہ پوچھ دل کی حقیقت مگر یہ کہتے ہیں
وہ بے قرار رہے جس نے بے قرار کیا

ہنسا ہنسا کے شبِ وصل اشک بار کیا
تسلیاں مجھے دے دے کے بے قرار کیا

ہم ایسے محوِ نظراں نہ تھے جو ہوش آتا
مگر تمھارے تغافل نے ہوشیار کیا

فسانہِ شبِ غم اُن کو اِک کہانی تھی
کچھ اعتبار کیا، کچھ نااعتبار کیا۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Friday, 21 September 2012

کس کی نگاہ فتنہ اثر کام کر گئی (منزل و محمِل)

کس کی نگاہ فتنہ اثر کام کر گئی
دنیائے چار سُو ہی نظر سے اُتر گئی
نظارہء جمال نے بے خود سا کر دیا
احساس پر تو ایک قیامت گذر گئی
چونکے تو اک خلا تھا نگاہوں کے سامنے
ہمراہ شہسوار کے گردِ سفر گئی
اے دل یقین ہے کہ وہ ہونگے اسی طرف
شب جس طرف گئی تھی اُسی رُخ سحر گئی
سودائے ہوشیار ہی بھٹکا نہیں یہاں
عقلِ جنوں نواز بھی تو بے خبر گئی
ہمت کو تازیانہ ہے محرومیِ  وصال
افسوس کیا ہے آہ اگر بے اثر گئی
عشق اور احتراز غمِ روزگار سے؟
یہ زلف تو نہیں کہ سنوارہ سنور گئی
ہستی کے معرکے میں تبسم بھی فرد ہے
خود کیا مٹا کہ حسرتِ حرماں بھی مر گئی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

سجدوں سے گِھس چکا ہوں ترے سنگِ در کو میں (منزل و محمِل)

سجدوں سے گِھس چکا ہوں ترے سنگِ در کو میں
پھر بھی دعا میں مانگ رہا ہوں اثر کو میں
عرضِ نیاز شوق ہے اور پائے یار ہے
وہ خود بھی حکم دے تو اٹھاؤں نہ سر کو میں
گو منزلِ جنوں سے بھی آگے نکل گیا
طے کر رہا ہوں پھر بھی ابھی رہگزر کو میں
صبحِ ازل کہاں ہے وہ نظارہء جمال
بھولا نہیں ہوں لطف کی پہلی نظر کو میں
دنیائے مستعار پسند آ گئی مجھے
بیٹھا ہوا ہوں کھول کے رختِ سفر کو میں
کچھ صورتیں نگاہوں میں ایسی سما گئیں
گم کر چکا ہوں سرمہء نورِ بصر کو میں
گلشن ترا۔ گلوں میں تبسم بھی ہے ترا
میں کیا ہوں؟ پُاؤں کسطرح اپنی خبر کو میں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

دل کے جذبات کی تفسیر سے ڈر جاتا ہوں (منزل و محمِل)

دل کے جذبات کی تفسیر سے ڈر جاتا ہوں
انجمن والوں کی تعزیر سے ڈر جاتا ہوں
بات کرنے کا کبھی اس سے جو آتا ہے خیال
اے محبت تری تعبیر سے ڈر جاتا ہوں
میری تدبیر کو اقدام کی جرءات کیا ہو
میں تو بے مہریِ تقدیر سے ڈر جاتا ہوں
میرے احباب کے بارے میں نہ پوچھو مجھ سے
وہ تو وہ اُن کی تصویر سے ڈر جاتا ہوں
خرقہ پوشوں کے شب و روز سے واقف ہوں میں
ان کے اسرار کی تشہیر سے ڈر جاتا ہوں
رہنماؤں میں قیادت کے ہیں جوہر مفقود
اسلئیے قوم کی تعمیر سے ڈر جاتا ہوں
روبرو اُن کے تبسم نہیں آتا لب پر
اُن کے فرمان کی تحقیر سے ڈر جاتا ہوں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

اب کے بھی اُن سے عرضِ تمنا نہ کر سکے (منزل و محمِل)

اب کے بھی اُن سے عرضِ تمنا نہ کر سکے
جذبات کی طہارتیں رسوا نہ کر سکے
بکھری پڑی تھیں دل سے زباں تک شکایتیں
جب رُوبُرو وہ آئے تو یکجا نہ کر سکے
ہر بار احتیاط نے دامن پکڑ لیا
بے خوف ہو کے اُن کا تماشا  نہ کر سکے
پہلے پہل وہ سرسری سی نظر ِالتفات
کیا کہہ گئی کہ ترکِ تمنا نہ کر سکے
تکمیل آشیاں نہ ہوئی ہم سے یا وہی
اپنی نظر میں بجلیاں پیدا نہ کر سکے
یہ دردِ زندگی بھی کوئی لادوا نہیں
خود وہ اگر علاج مسیحا نہ کو سکے
سونپی ہے ہم نے دل کو تبسم زمامِ کار
ممکن ہے کوئی کام یہ دیوانہ کر سکے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

اخلاق کے تو آپ حوالے نہ دیجئے (منزل و محمِل)

اخلاق کے تو آپ حوالے نہ دیجئے
محفل میں سب غلام ہیں بیداد کیجئے
ہم ہیں متاعِ زینتِ بزمِ سخن اگر
جس جا پڑے ہیں ہم۔ ہمیں برداشت کیجئے
مقصود ہے گذارشِ احوالِ واقعی
منظور اگر نہیں تو عنایت نہ کیجئے
تسلیم یہ کہ آپکی ہر بات ہے سند
مجھکو بھی بولنے کی اجازت تو دیجئے
نخوت ملا کے مے میں جو ساقی پلائے گا
بہتر ہزرا بار ہے بھر زہر پیجئے
تحریک کو تو چاہیئے ارکان کا خلوص
جذبات کی جراہتِ بے جا نہ کیجئے
تطہیر ہو رہی ہے تبسم تو آپ بھی
رازِ درونِ پردہ کو افشا نہ کیجئے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

اس طرح آج میری اُس نے پذیرائی کی (منزل و محمِل)

اس طرح آج میری اُس نے پذیرائی کی
مجھ کو افسوس ہوا کس سے شناسائی کی
لے کے ٹھہرا ہے کہاں مجھکو میرا ذوقِ جنوں
کون تھا جس کیلئے بادیہ پیمائی کی
شہر میں چاروں طرف ایک بسا ہے جنگل
لوگ ہوتے تو خبر لیتے بھی سودائی کی
دل ابھی تک میرے سینے میں دھڑکتا کیوں ہے
اس پہ گذری ہے قیامت شب تنہائی کی
مجھ کو کچھ یاد نہیں کون ملا تھا مجھکو
کون سی دل کو ادا بھائی تھی ہرجائی کی
میں گنہگار ہوں کیوں اس کو سزا دیتے ہو
مجھ کو اُمید تھی قاتل سے مسیحائی کی
تو کبھی دیکھ شبستاں سے نکل کر اپنے
رات کسطرح بسر ہوتی ہے صحرائی کی
خود فریبی میں بھی لذت ہے تبسم کیسی
داد بھی اس سے جو بنیاد ہے رسوائی کی
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Monday, 17 September 2012

منظر گلزارِ ھستی خار ہے تیرے بغیر (منزل و محمِل)


منظر گلزارِ ھستی خار ہے تیرے بغیر
رونق بزم جہاں آزار ہے تیرے بغیر
کھویا کھویا اور معطل سا ہے نظمِ شش جہات
سہمی سہمی وقت کی رفتار ہے تیرے بغیر
بزمِ امکانِ جہاں کو اجنبی پاتا ہوں میں
ساری دنیا محفلِ اُغیار ہے تیرے بغیر
جستجووذوق تک تھی شوق کی سب ترک و تاز
ھستی بے مدعا بے کار ہے تیرے بغیر
کسقدر  جاں بحش تھا میرے لئے تیرا  خیال
کسقدر دل کے لئے آزار ہے تیرے بغیر
 وصل۔فرقت۔سَر خوشی۔غم کس کا میں سودا کروں
زندگی بے زارِ کاروبار ہے تیرے بغیر
اک تبسم ہی نہیں ہونٹوں کی صحبت سے نفُور
اشکِ بے مایہ دُرِ شہوار ہے تیرے بغیر
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Saturday, 15 September 2012

نسیم صبحگاہی آ چلیں صحن گلستاں میں (منزل و محمِل)


نسیم صبحگاہی آ چلیں صحن گلستاں میں
بہارِ گل۔ ابھی فرصت ہے بھر لیں جیب و داماں میں
زمانہ آ رہا ہے جب نظر پتھرا گئی ہو گی
نہ جانے ہم کہاں ہوں گے چمن میں یا کہ زنداں میں
گلوں میں ڈھونڈنے والوں نے بُو تیری نہیں پائی
نظر آتا ہے تو مجھکو مگر خارِ مغیلاں میں
حقیقت ایک ہے کردار دو۔ اے انجمن والو
لگی پروانے کے دل کی جلی شمع شبستاں میں
خدا کے واسطے چھوڑو نہیں اب مان بھی جاؤ
تمہاری ہاں سے ہو جائے گا داخل کفر ایماں میں
تری زلفِ رَسَا کی طرح نگہِ شوق تشنہ تھی
یہ دونوں مل کے اُتری ہیں ترے چاہِ زنخداں میں
بہت ممکن ہے میخواروں سے کوئی کر لے توبہ بھی
تبسم اس لئے جاتا ہے اکثر بزمِ رِنداں میں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

جب تیز ہواؤں کی چراغوں سے ٹھنی ہے (منزل و محمِل)


جب تیز ہواؤں کی چراغوں سے ٹھنی ہے
اَے صحنِ چمن۔ چادرِ ظلمات تنی ہے
جو پھول چراغوں کی طرح جل نہیں سکتے
گلشن میں سمجھتے ہیں غریبُ الوطنی ہے
جیسے کہ ہو جنگل بھی گلستاں کا شناسا
یوں کاکُلِ سنبل میں پھنسی ناگ پھنی ہے
گل کو نہیں احساسِ غمِ بُلبلِ نالاں
بجلی کی اگر شاخِ نشیمن سے ٹھنی ہے
اَے باغِ وطن۔ بُوئے وطن ڈھونڈ رہا ہوں
تسلیم۔ درختوں کی تیرے چھاؤں گھنی ہے
اللہ رے۔ سیرتِ اربابِ سیاست
دشمن ہیں وہی جن سے کبھی گاڑھی چھنی ہے
دل چیر کے رکھ دوں تو نہ مانے وہ تبسم
ناصح کی کبھی شاعرِ مخلص سے بنی ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

جان پر کھیل کر ہم وعدہ شکن تک پہنچے (منزل و محمِل)


جان پر کھیل کر ہم وعدہ شکن تک پہنچے
اس کے احسان سے پھر دارورسن تک پہنچے
زندگی موجِ ہوا ہے کہ چلے تو نہ رُکے
لالہ زاروں سے گذرتی ہوئی بَن تک پہنچے
روز بن جاتی ہیں اس ضد میں نئی دیواریں
نالہ بھی اہل قفس کا نہ چمن تک پہنچے
بات اُس چہرے کی محفل میں اگر چھڑ جائے
چاند تاروں سے چلے اور چمن تک پہنچے
اب مسرت کے تصور سے بھی جی ڈرتا ہے
ہم بھی کس مرحلہء رنج و محن تک پہنچے
جان سے جاتے ہیں ہم راہِ وفا پر چل کر
یہ مگر بات نہ اُس غنچہ دہن تک پہنچے
برق کی زد پر تبسم ہیں سیاہ بخت ہمِیں
حوصلہ ہے تو ذرا گورے بدن تک پہنچے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

کبھی جو ملتے تھے ہم سے بغیر قدغن کے (منزل و محمِل)


کبھی جو ملتے تھے ہم سے بغیر قدغن کے
وہ مہرباں ہوئے آج دوست دشمن کے
رُکی جو سامنے آ بیٹھے گردشِ ساغر
تمہاری بزم سے اٹھے تو قہقہے کھنکے
ہمیں نہ سمجھے عداوت ہے کیا۔  محبت کیا
وگرنہ ظلم وہ کرنے کبھی نہ مَن مَن کے
ہم اضطراب میں خطرات کی طرف ہی بڑھے
اِشارے ہم نہ سمجھ پائے دل کی دھڑکن کے
گھٹَا میں چاند۔ سیاہ بال اس کے چہرے پر
ضیائیں پھیلی ہوئی تھیں فضا میں چَھن چَھن کے
وہی سماں ہو تو ممکن ہے اُس کو یاد آئیں
ہوئے تھے ہم میں جو قول و قرار بچپن کے
بس اتنا کہتے ہیں جاتے ہوئے خیال رہے
تمہاری بزم میں ہیں لوگ جمع فن فن کے
نظر بچا کے گذر جاتے ہیں اصیل و نسیب
رذیل پھرتے ہیں گردن اٹھائے تن تن کے
لٹائی جن کے لئے سب متاع دل ہم نے
وہ سارے نکلے تبسم گوپال ٹھن ٹھن کے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

رازِ پنہاں دل بہ دل سینہ بسینہ آ گیا (منزل و محمِل)


رازِ پنہاں دل بہ دل سینہ بسینہ آ گیا
اب محبت کا ہمیں بھی سب قرینہ آ گیا
ہم نے دیکھا آگ اور پانی گلے ملنے لگے
جب تیرے گلرنگ گالوں پر پسینہ آ گیا
گھات میں ہر وقت رہتا ہے رقیبِ فتنہ جُو
بات تک کرنے نہ پائےہم۔ کمینہ آ گیا
زندگی میں بارہا ایسا ہوا ہے اتفاق
جب توقع اُس کے ملنے کی رہی نہ آ گیا
یاد ہے آواز دی تھی اُس نے ساحل سے مجھے
پھر خدا جانے بھنور میں کب سفینہ آ گیا
ہائے جس کو تھا مرا محبوب بننے کا جنوں
زندگی بھر میں نے اُس طرح دی نہ آ گیا
جاں لبوں پر تھی تبسم۔ تازہ دم ہم ہو گئے
روح پرور اک صدا آئی مدینہ آ گیا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

لمحے کسی کی یاد کے آنسو بنا دئے(منزل و محمِل)


لمحے کسی کی یاد کے آنسو بنا دئے
طوفاں میں حسرتوں کے سفینے بہا دئے
دیکھے نہ کوئی یاد میں آئے ہوئے اُنہیں
ہم نے چراغ اے شبِ ہجراں بجھا دئے
یعنی شبِ فراق گذاری ہے اس طرح
خود جاگے۔ دے کے تھپکیاں ارماں سلا دئے
منظر کوئی نگاہ  میں آیا تو کیا کہیں؟
بے چارگی سے کس طرح ہم تلملا دئے
مجھ کو تو خیر بھول کے ہی ہوں گے دن بسر
کیا واقعات سارے کے سارے بھلا دئے
ہمراز نے ہمارے ہی کل بزمِ غیر میں
سب واقعات نام بدل کر سنا دئے
اِس زندگی میں تم پہ کوئی حرف آ نہ جائے
تم نے جو خط لکھے تھے وہ سارے جلا دئے
احباب کی تسلیِ خاطر کے واسطے
ان کے ہر اک سوال پر ہم مسکرا دئے
کس نے نظر ملا کے تبسم بروزِ عید
کھڑکی کے پردے ہاتھ بڑھا کر گرا دئے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

کسی کے ہاتھ میں مینا ہے کوئی جام لیتا ہے (منزل و محمِل)

کسی کے ہاتھ میں مینا ہے کوئی جام لیتا ہے
کوئی آنے کا میخانے میں بس الزام لیتا ہے
خراباتِ مغاں میں آجکل رشوت بھی چلتی ہے
اُسے ملتی ہے جس سے چھپ کے ساقی دام لیتا ہے
تعجب ہے کہ جس کے ہوش اڑ جاتے ہیں۔ کہتا ہے
جہاں میں زندگی کا لطف مے آشام لیتا ہے
ہوس نے پارہ پارہ کر دیا ہے جس کے دامن کو
سرِمحفل تمہارا نام وہ بدنام لیتا ہے
وہ جس نے خواہشِ بے جا کو ذوقِ عشق سمجھا ہے
وہ پاگل ہر کسی کا بڑھ کے دامن تھام لیتا ہے
محبت میں جو پختہ کار ہیں خاموش رہتے ہیں
مگر ہر خام دعوے سے تمہارا نام لیتا ہے
اُسے اہلِ خرد کی بزم میں آنے کا کیا حق ہے
جو نُورِ صبح کے بدلے سَوادِ شام لیتا ہے
تبسم جس سے اُمیدِ وفا تھی وہ بُتِ کافر
محبت سے عداوت اور جفا کا کام لیتا ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Monday, 10 September 2012

لہو سے دل کبھی چہرے اجالنے کے لئے

لہو سے دل کبھی چہرے اجالنے کے لئے
میں جی رہا ہوں اندھیروں کو ٹالنے کے لئے
اتر پڑے ہیں پرندوں کے غول ساحل پر
سفر کا بوجھ سمندر میں ڈالنے کے لئے
سخن لباس پہ ٹھہرا تو جوگیوں نے کہا
کہ آستیں ہے فقط سانپ پالنے کے لئے
میں سوچتا ہوں کبھی میں بھی کوہکن ہوتا
ترے وجود کو پتھر میں ڈھالنے کے لئے
کسے خبر کہ شبوں کا وجود لازم ہے
فضا میں چاند ستارے اچھالنے کے لئے
بہا رہی تھی وہ سیلاب میں جہیز اپنا
بدن کی ڈوبتی کشتی سنبھالنے کے لئے
وہ ماہتاب صفت’ آئینہ جبیں محسن
گلے ملا بھی تو مطلب نکالنے کے لئے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

متاع شامِ سفر بستیوں میں چھوڑ آئے

متاعِ شامِ سفر بستیوں میں چھوڑ آئے
بجھے چراغ ہم اپنے گھروں میں چھوڑ آئے
ہم اپنی در بدری کے مشاہدے اکثر
نصیحتوں کی طرح کم سنوں میں چھوڑ آئے
بچھڑ کے تجھ سے چلے ہم تو اب کے یوں بھی ہوا
کہ تیری یاد کہیں راستوں میں چھوڑ آئے
گھرے ہیں لشکر اعدا میں اور سوچتے ہیں
ہم اپنے تیر تو اپنی صفوں میں چھوڑ آئے
ہوا ہی دن میں پرندے اڑائے پھرتی ہے
ہوا ہی پھر سے انہیں گھونسلوں میں چھوڑ آئے
کسے خبر ہے کہ زخمی غزال کس کے لیے
نشاں لہو کے گھنے جنگلوں میں چھوڑ آئے
اڑیں گے کیا وہ پرندے جو اپنے رزق سمیت
سفر کا شوق بھی ٹوٹے پروں میں چھوڑ آئے
ہمارے بعد بھی رونق رہے گی مقتل میں
ہم اہلِ دل کو بڑے حوصلوں میں چھوڑ آئے
سدا سکھی رہیں چہرے وہ ہم جنہیں ‘محسن‘
بجھے گھروں کی کھلی کھڑکیوں میں چھوڑ آئے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

میں خود زمیں ہوں مگر ظرف آسمان کا ہے

میں خود زمیں ہوں مگر ظرف آسمان کا ہے
کہ ٹوٹ کر بھی میرا حوصلہ چٹان کا ہے
بُرا نہ مان میرے حرف زہر زہر سہی
میں کیا کروں کہ یہی ذائقہ زبان کا ہے
ہر ایک گھر پہ مسلط ہے دِل کی ویرانی
تمام شہر پہ سایہ میرے مکان کا ہے
بچھڑتے وقت سے اب تک میں یوں نہیں رویا
وہ کہہ گیا تھا یہی وقت امتحان کا ہے
مسافروں کی خبر ہے نہ دُکھ ہے کشتی کا
ہوا کو جتنا بھی غم ہے وہ بادبان کا ہے
یہ اور بات عدالت ہے بے خبر ورنہ
تمام شہر میں چرچہ میرے بیان کا ہے
اثر دِکھا نہ سکا اُس کے دل میں اشک میرا
یہ تیر بھی کسی ٹوٹی ہوئی کمان کا ہے
بچھڑ بھی جائے مگر مجھ سے بدگمان بھی رہے
یہ حوصلہ ہی کہاں میرے بدگمان کا ہے
قفس تو خیر مقدر میں تھا مگر محسن
ہوا میں شور ابھی تک میری اُڑان کا ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ہجوم شہر سے ہٹ کر

ہجوم شہر سے ہٹ کر، حدود شہر کے بعد
وہ مسکرا کے ملے بھی تو کون دیکھتا ہے ؟
جس آنکھ میں کوئی چہرہ نہ کوئی عکس طلب
وہ آنکھ جل کے بجھے بھی تو کون دیکھتا ہے ؟
ہجوم درد میں کیا مسکرایئے کہ یہاں
خزاں میں پھول کھلے بھی تو کون دیکھتا ہے ؟
ملے بغیر جو مجھ سے بچھڑ گیا محسن
وہ راستے میں رکے بھی تو کون دیکھتا ہے ؟
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Saturday, 8 September 2012

رنگ ہے دل کا میرے خونِ جگر ہونے تک

تم نہ آئے تھے تو ہر چیز وہی تھی کہ جو ہے
آسماں حدِّ نظر، راہگزر شیشہ مَے شیشہ مے
اور اب شیشہ مَے،راہگزر،رنگِ فلک
رنگ ہے دل کا مرے،’’خون جگر ہونے تک‘‘
چمپئی رنگ کبھی راحتِ دیدار  کا رنگ
سرمئی رنگ کہ ہے ساعت بیزار کا رنگ
زرد پتّوں کا،خس و خار کا رنگ
سُرخ پھُولوں کا دہکتے ہوئے گلزار کا رنگ
زہر کا رنگ، لہو رنگ، شبِ تار کا رنگ
آسماں، راہگزر،شیشہ مَے،
کوئی بھیگا ہُوا دامن،کوئی دُکھتی ہوئی رگ
کوئی ہر لحظہ بدلتا ہُوا آئینہ ہے
اب جو آئے ہو تو ٹھہرو کہ کوئی رنگ،کوئی رُت،کوئی شے
ایک جگہ پر ٹھہرے،
پھر سے اک بار چیز وہی ہو کہ جو ہے
آسماں حدِّ نظر، راہگزر شیشہ مَے شیشہ مے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Friday, 7 September 2012

شاعری سچ بولتی ہے

لاکھ پردوں میں رہوں، بھید میرے کھولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے
میں نے دیکھا ہے کہ جب میری زبان ڈولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے

تیرا اصرار کے چاہت میری بیتاب نہ ہو
واقف اس غم سے میرا حلقہ احباب نہ ہو
تو مجھے ضبط کے صحرائوں میں کیوں رولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے

یہ بھی کیا بات کے چھپ چھپ کے تجھے پیار کروں
گر کوئی پوچھ ہی بیٹھے تو میں انکار کروں
جب کسی بات کو دنیا کی نظر ٹٹولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے

میں نے اس فکر میں کاٹی کئی راتیں کئی دن
میرے شعروں میں تیرا نام نہ آئے لیکن
جب تیری سانس میری سانس میں رس گھولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے

تیرے جلووں کا ہے پرت میری اک اک غزل
تو میرے جسم کا سایا ہے تو کترا کے نہ چل
پردہ داری تو خود اپنا ہی بھرم کھولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Thursday, 6 September 2012

اے راہِ حق کے شہیدو وفا کی تصویرو


اے راہِ حق کے شہیدو ، وفا کی تصویرو

تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں

اے راہِ حق کے شہیدو


لگانے آگ جو آئے تھے آشیانے کو

وہ شعلے اپنے لہو سے بجھا لیے تم نے

بچا لیا ہے یتیمی سے کتنے پھولوں کو

سہاگ کتنی بہاروں کے رکھ لیے تم نے

تمہیں چمن کی فضائیں سلام کہتی ہیں

اے راہِ حق کے شہیدو


چلے جو ہو گے شہادت کا جام پی کر تم

رسولِ پاک نے بانہوں میں لے لیا ہو گا

علی تمہاری شجاعت پہ جھومتے ہوں گے

حسین پاک نے ارشاد یہ کیا ہو گا

تمہیں خدا کی رضائیں سلام کہتی ہیں

اے راہِ حق کے شہیدو


جنابِ فاطمہ جگرِ رسول کے آگے

شہید ہو کے کیا ماں کو سرخرو تم نے

جنابِ حضرتِ زینب گواہی دیتی ہیں

شہیدو رکھی ہے بہنوں کی آبرو تم نے

وطن کی بیٹیاں مائیں سلام کہتی ہیں

اے راہِ حق کے شہیدو ، وفا کی تصویرو

تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں

اے راہِ حق کے شہیدو

اے راہِ حق کے شہیدو


مکمل تحریر اور تبصرے >>

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ھم
دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے
تیرے ہاتوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم
نیم تاریک راہوں میں مارے گئے


سولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے

تیرے ہونٹوں کی لالی لپکتی رہی
تیری زلفوں کی مستی برستی رہی
تیرے ہاتوں کی چاندی دمکتی رہی

جب کھلی تیری راہوں میں شام ستم
ہم چلے آئے؛ لائے جہاں تک قدم
لب پہ حرف غزل؛ دل میں قندیل غم
اپنا غم تھا گواہی تیرے حسن کی
دیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

نار سائی اگر اپنی تقدیر تھی ،
تیری الفت تو اپنی تدبیر تھی
کس کو گلہ ہے گر شوق کے سلسلے
ھجر کی قتل گاہوں سے سب جا ملے

قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم
اور نکلیں گئے عشاق کے قافلے
جن کی راہ طلب سےہمارے قدم
مختصر کر چلے دور کے فاصلے
کر چلے جن کی خاطر جہاں گیر ہم
جان گنوا کر تیری دلبری کا بھرم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Tuesday, 4 September 2012

یہ دھوپ کنارا شام ڈھلے

یہ دھُوپ کنارا، شام ڈھلے
مِلتے ہیں دونوں وقت جہاں
جو رات نہ دن، جو آج نہ کل
پل بھر کو امر،پل بھر میں دھواں
اِس دھوپ کنارے، پل دو پل
ہونٹوں کی لپک
باہوں کی چھنک
یہ میل ہمارا، جھوٹ نہ سچ
کیوں زار کرو،کیوں دوش دھرو
کس کارن، جھوٹی بات کرو
جب تیری سمندر آنکھوں میں
اس شام کا سورج ڈوبے گا
سُکھ سوئیں گے گھر دَر والے
اور راہی اپنی رہ لے گا
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Monday, 3 September 2012

نہ سیو ہونٹ نہ خوابوں میں صدا دو ہم کو Na seo hont na khwaboon mein sada do hum ko




نہ سیو ہونٹ نہ خوابوں میں صدا دو ھم کو
مصلحت کا یہ تقاضا ھے ، بھلا دو ھم کو



جرم سقراط سے ھٹ کر نہ سزا دو ھم کو
زہر رکھا ھے تو یہ آب بقا دو ھم کو



بستیاں آگ میں بہہ جائیں کہ پتھر برسیں
ھم اگر سوئے ھوئے ھیں جگا دو ھم کو



ھم حقیقت ھیں تو تسلیم نہ کرنے کا سبب ؟
ہاں اگر حرف غلط ھیں تو مٹادو ھم کو



خضر مشہور ھو الیاس بنے پھرتے ھو
کب سے ھم گم سم ھیں ھمارا تو پتہ دو ھم کو



زیست ھے اس سحرو شام سے بیزار و زبوں
لالہ گل کی طرح رنگ قبا دو ھم کو



شورش عشق میں ھے حسن برابر کا شریک
سوچ کر جرم تمنا کی سزا دو ھم کو
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ہستی کا ہر نفس ہے نیا دیکھ کر چلو Hasti ka har nafas hai nia daikh kar chalo

ہستی کا ہر نفَس ہے نیا دیکھ کر چلو
کس رُخ کی چل رہی ہے ہوا دیکھ کر چلو

زندہ ہے دل تو اس میں محبت بھی چاہیے

آنکھیں جو ہیں تو راہِ وفا دیکھ کر چلو

آذر کدے کی آنچ سے شہ پا کے یک بیک

صر صر بنی ہوئی ہے صبا دیکھ کر چلو

امسال دیدنی ہے چمن میں جنوں کا رنگ

گُل چاک کر رہے ہیں قبا دیکھ کر چلو

گُلچیں کے سدّباب سے انکار ہے کسے

لیکن اصولِ نشو و نما دیکھ کر چلو

کچھ سرپھروں کو ذکرِ وفا بھی ہے ناگوار

یہ انحطاطِ مہر و وفا دیکھ کر چلو

ہاں انفرادیت بھی بُری چیز تو نہیں

چلنا اگر ہے سب سے جدا دیکھ کر چلو

آنکھیں کھلی ہوئی ہوں تو ہر شے ہے بے نقاب

اے بندگانِ حرص و ہوا دیکھ کر چلو

ذوقِ عبودیت ہو کہ گستاخیِ نگاہ

تخمینۂ جزا و سزا دیکھ کر چلو

ناموسِ زندگی بھی بڑی شے ہے دوستو

دیکھو بلند و پست فضا دیکھ کر چلو

یہ تو بجا کہ ذوقِ سفر ہے ثبوتِ زیست

اس دشت میں سموم و صبا دیکھ کر چلو

عرفان و آگہی بھی عبادت سہی مگر

طرز و طریقِ اہلِ وفا دیکھ کر چلو

اسبابِ ظاہری پہ بھی درکار ہے نظر

باوصف اعتمادِ خدا دیکھ کر چلو

ممکن ہے روحِ سرو و سمن سے ہو ساز باز

کیا دے گئی گلوں کو صبا دیکھ کر چلو

ہر کشمکش نہیں ہے امینِ سکونِ دل

ہر موت میں نہیں ہے بقا دیکھ کر چلو

ہر لحظہ ہے پیمبرِ اندیشہ و عمل

کیا چاہتا ہے رنگِ فضا دیکھ کر چلو

یہ بھی روش نہ ہو رہِ مقصود کے خلاف

آئی ہے یہ کدھر سے صدا "دیکھ کر چلو"

ہمدرد بن کے دشمنِ دانش ہوئے ہیں لوگ

یہ بھی ہے دوستی کی ادا دیکھ کر چلو
مکمل تحریر اور تبصرے >>

ہم کون ہیں کیا ہیں بخدا یاد نہیں


ہم کون ہیں کیا ہیں بخدا یاد نہیں
اپنے اسلاف کی کوئی بھی ادا یاد نہیں

ہیں اگر یاد تو کافر کے ترانے اب
ہے نہیں یاد تو کعبے کی صدا یاد نہیں

بنت حوا کو نچاتے ہیں سرمحفل اب
کتنے سنگ دل ہیں رسم حیاء یاد نہیں

آج اپنے ذلت کا سبب یہ ہے شاید
سب کچھ یاد پر خوف خدا یاد نہیں
مکمل تحریر اور تبصرے >>

Sunday, 2 September 2012

اس کا سوچا بھی نہیں تھا اب کے جو تنہا گزری iss ka socha bhi nahin tha ab key jo tanha guzri

اِس کا سوچا بھی نہ تھا اب کے جو تنہا گزری
وہ قیامت ہی غنیمت تھی جو یکجا گزری

آ گلے تجھ کو لگا لوں میرے پیارے دشمن
اک مری بات نہیں تجھ پہ بھی کیا کیا گزری

میں تو صحرا کی تپش، تشنہ لبی بھول گیا
جو مرے ہم نفسوں پر لب ِدریا گزری

آج کیا دیکھ کے بھر آئی ہیں تیری آنکھیں
ہم پہ اے دوست یہ ساعت تو ہمیشہ گزری

میری تنہا سفری میرا مقدر تھی فراز
ورنہ اس شہر ِتمنا سے تو دنیا گزری
مکمل تحریر اور تبصرے >>