Pages

Subscribe:

Friday, 21 September 2012

اخلاق کے تو آپ حوالے نہ دیجئے (منزل و محمِل)

اخلاق کے تو آپ حوالے نہ دیجئے
محفل میں سب غلام ہیں بیداد کیجئے
ہم ہیں متاعِ زینتِ بزمِ سخن اگر
جس جا پڑے ہیں ہم۔ ہمیں برداشت کیجئے
مقصود ہے گذارشِ احوالِ واقعی
منظور اگر نہیں تو عنایت نہ کیجئے
تسلیم یہ کہ آپکی ہر بات ہے سند
مجھکو بھی بولنے کی اجازت تو دیجئے
نخوت ملا کے مے میں جو ساقی پلائے گا
بہتر ہزرا بار ہے بھر زہر پیجئے
تحریک کو تو چاہیئے ارکان کا خلوص
جذبات کی جراہتِ بے جا نہ کیجئے
تطہیر ہو رہی ہے تبسم تو آپ بھی
رازِ درونِ پردہ کو افشا نہ کیجئے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔