Pages

Subscribe:

Saturday, 15 September 2012

کبھی جو ملتے تھے ہم سے بغیر قدغن کے (منزل و محمِل)


کبھی جو ملتے تھے ہم سے بغیر قدغن کے
وہ مہرباں ہوئے آج دوست دشمن کے
رُکی جو سامنے آ بیٹھے گردشِ ساغر
تمہاری بزم سے اٹھے تو قہقہے کھنکے
ہمیں نہ سمجھے عداوت ہے کیا۔  محبت کیا
وگرنہ ظلم وہ کرنے کبھی نہ مَن مَن کے
ہم اضطراب میں خطرات کی طرف ہی بڑھے
اِشارے ہم نہ سمجھ پائے دل کی دھڑکن کے
گھٹَا میں چاند۔ سیاہ بال اس کے چہرے پر
ضیائیں پھیلی ہوئی تھیں فضا میں چَھن چَھن کے
وہی سماں ہو تو ممکن ہے اُس کو یاد آئیں
ہوئے تھے ہم میں جو قول و قرار بچپن کے
بس اتنا کہتے ہیں جاتے ہوئے خیال رہے
تمہاری بزم میں ہیں لوگ جمع فن فن کے
نظر بچا کے گذر جاتے ہیں اصیل و نسیب
رذیل پھرتے ہیں گردن اٹھائے تن تن کے
لٹائی جن کے لئے سب متاع دل ہم نے
وہ سارے نکلے تبسم گوپال ٹھن ٹھن کے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔