Pages

Subscribe:

Monday, 17 September 2012

منظر گلزارِ ھستی خار ہے تیرے بغیر (منزل و محمِل)


منظر گلزارِ ھستی خار ہے تیرے بغیر
رونق بزم جہاں آزار ہے تیرے بغیر
کھویا کھویا اور معطل سا ہے نظمِ شش جہات
سہمی سہمی وقت کی رفتار ہے تیرے بغیر
بزمِ امکانِ جہاں کو اجنبی پاتا ہوں میں
ساری دنیا محفلِ اُغیار ہے تیرے بغیر
جستجووذوق تک تھی شوق کی سب ترک و تاز
ھستی بے مدعا بے کار ہے تیرے بغیر
کسقدر  جاں بحش تھا میرے لئے تیرا  خیال
کسقدر دل کے لئے آزار ہے تیرے بغیر
 وصل۔فرقت۔سَر خوشی۔غم کس کا میں سودا کروں
زندگی بے زارِ کاروبار ہے تیرے بغیر
اک تبسم ہی نہیں ہونٹوں کی صحبت سے نفُور
اشکِ بے مایہ دُرِ شہوار ہے تیرے بغیر

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔