Pages

Subscribe:

Wednesday, 26 September 2012

آرزو جب تیری حسرت سے بدل جائے گی (منزل و محمِل)

آرزو جب تیری حسرت سے بدل جائے گی
مشکل آسانی کے ڈھانچے میں بھی ڈل جائے گی
عالمِ یاس میں گھبرانے سے کیا حاصل ہے
زندگی ایک مصیبت ہے تو ٹل جائے گی
جل گیا ہے کوی پروانہ تو افسوس نہ کر
شمع بھی سوزشِ پنہانی سے جل جائے گی
آجکل سنتا ہوں۔ ہوتا ہے رقیبوں پہ عتاب
اِس طرح کیا میری تقدیر بدل جائے گی
حُسن پتھر ہے تو کم عشق کی گرمی بھی نہیں
اُس کی ہٹ موم کی مانند پگھل جائے گی
دیکھنا اپنی وفا ہے تو یہ نفرت کی خلش
اُس کے سینے سے بتدریج نکل جائے گی
آج حیران ہیں احباب تبسم اِس پر
اُس کو اصرار ہے وہ سُن کے غزل جائے گی

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔