Pages

Subscribe:

Wednesday, 26 September 2012

خار ہی خار ہیں بکھرے ہوئے گلزاروں میں (منزل و محمِل)

خار ہی خار ہیں بکھرے ہوئے گلزاروں میں
پھول کھلتے ہیں تو بک جاتے ہیں بازاروں میں
خیر ہی خیر ہے یہ دردِ محبت۔ لیکن
لوگ گنتے ہیں مجھے تیرے گنہگاروں میں
آج بھی جنسِ محبت ہے گراں کل کیطرح
ہاں مگر بکتی ہے بے مول بھی درباروں میں
عشق میں سایۂِ دیوار سے بڑھنے والے
چن دئے جاتے ہیں اُٹھتی ہوئی دیوارں میں
خود تجھے کیا نہیں معلوم۔ یہ مجھ سے مت پوچھ
لوگ ہیں کیسے ترے خاشیہ برداروں میں
اہلِ محفل ہی اَمیں ہوں نہ اگر محفل کے
راز کی بات چلی جائے گی اخباروں میں
صورتِ حال پہ کچھ پیرِ مغاں غور کریں
بدظنی بڑھتی چلی جاتی ہے میخواروں میں
تیری بیداد و جفا عین کرم ہے لیکن
جانے کیا ڈھونڈ رہا ہے تُو وفاداروں میں
یاد کے آیٔینہ خانوں سے میں جب بھی گزرا
تیری تصویر ہی ممتاز تھی شاہکاروں میں
دلبری پر تو گزارا ہے تبسم مشکل
کچھ تو دلداری بھی ہو آج کے دلداروں میں

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔