Pages

Subscribe:

Saturday, 8 September 2012

رنگ ہے دل کا میرے خونِ جگر ہونے تک

تم نہ آئے تھے تو ہر چیز وہی تھی کہ جو ہے
آسماں حدِّ نظر، راہگزر شیشہ مَے شیشہ مے
اور اب شیشہ مَے،راہگزر،رنگِ فلک
رنگ ہے دل کا مرے،’’خون جگر ہونے تک‘‘
چمپئی رنگ کبھی راحتِ دیدار  کا رنگ
سرمئی رنگ کہ ہے ساعت بیزار کا رنگ
زرد پتّوں کا،خس و خار کا رنگ
سُرخ پھُولوں کا دہکتے ہوئے گلزار کا رنگ
زہر کا رنگ، لہو رنگ، شبِ تار کا رنگ
آسماں، راہگزر،شیشہ مَے،
کوئی بھیگا ہُوا دامن،کوئی دُکھتی ہوئی رگ
کوئی ہر لحظہ بدلتا ہُوا آئینہ ہے
اب جو آئے ہو تو ٹھہرو کہ کوئی رنگ،کوئی رُت،کوئی شے
ایک جگہ پر ٹھہرے،
پھر سے اک بار چیز وہی ہو کہ جو ہے
آسماں حدِّ نظر، راہگزر شیشہ مَے شیشہ مے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔