Pages

Subscribe:

Monday, 10 September 2012

متاع شامِ سفر بستیوں میں چھوڑ آئے

متاعِ شامِ سفر بستیوں میں چھوڑ آئے
بجھے چراغ ہم اپنے گھروں میں چھوڑ آئے
ہم اپنی در بدری کے مشاہدے اکثر
نصیحتوں کی طرح کم سنوں میں چھوڑ آئے
بچھڑ کے تجھ سے چلے ہم تو اب کے یوں بھی ہوا
کہ تیری یاد کہیں راستوں میں چھوڑ آئے
گھرے ہیں لشکر اعدا میں اور سوچتے ہیں
ہم اپنے تیر تو اپنی صفوں میں چھوڑ آئے
ہوا ہی دن میں پرندے اڑائے پھرتی ہے
ہوا ہی پھر سے انہیں گھونسلوں میں چھوڑ آئے
کسے خبر ہے کہ زخمی غزال کس کے لیے
نشاں لہو کے گھنے جنگلوں میں چھوڑ آئے
اڑیں گے کیا وہ پرندے جو اپنے رزق سمیت
سفر کا شوق بھی ٹوٹے پروں میں چھوڑ آئے
ہمارے بعد بھی رونق رہے گی مقتل میں
ہم اہلِ دل کو بڑے حوصلوں میں چھوڑ آئے
سدا سکھی رہیں چہرے وہ ہم جنہیں ‘محسن‘
بجھے گھروں کی کھلی کھڑکیوں میں چھوڑ آئے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔