Pages

Subscribe:

Friday, 21 September 2012

اس طرح آج میری اُس نے پذیرائی کی (منزل و محمِل)

اس طرح آج میری اُس نے پذیرائی کی
مجھ کو افسوس ہوا کس سے شناسائی کی
لے کے ٹھہرا ہے کہاں مجھکو میرا ذوقِ جنوں
کون تھا جس کیلئے بادیہ پیمائی کی
شہر میں چاروں طرف ایک بسا ہے جنگل
لوگ ہوتے تو خبر لیتے بھی سودائی کی
دل ابھی تک میرے سینے میں دھڑکتا کیوں ہے
اس پہ گذری ہے قیامت شب تنہائی کی
مجھ کو کچھ یاد نہیں کون ملا تھا مجھکو
کون سی دل کو ادا بھائی تھی ہرجائی کی
میں گنہگار ہوں کیوں اس کو سزا دیتے ہو
مجھ کو اُمید تھی قاتل سے مسیحائی کی
تو کبھی دیکھ شبستاں سے نکل کر اپنے
رات کسطرح بسر ہوتی ہے صحرائی کی
خود فریبی میں بھی لذت ہے تبسم کیسی
داد بھی اس سے جو بنیاد ہے رسوائی کی

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔