Pages

Subscribe:

Friday, 21 September 2012

کس کی نگاہ فتنہ اثر کام کر گئی (منزل و محمِل)

کس کی نگاہ فتنہ اثر کام کر گئی
دنیائے چار سُو ہی نظر سے اُتر گئی
نظارہء جمال نے بے خود سا کر دیا
احساس پر تو ایک قیامت گذر گئی
چونکے تو اک خلا تھا نگاہوں کے سامنے
ہمراہ شہسوار کے گردِ سفر گئی
اے دل یقین ہے کہ وہ ہونگے اسی طرف
شب جس طرف گئی تھی اُسی رُخ سحر گئی
سودائے ہوشیار ہی بھٹکا نہیں یہاں
عقلِ جنوں نواز بھی تو بے خبر گئی
ہمت کو تازیانہ ہے محرومیِ  وصال
افسوس کیا ہے آہ اگر بے اثر گئی
عشق اور احتراز غمِ روزگار سے؟
یہ زلف تو نہیں کہ سنوارہ سنور گئی
ہستی کے معرکے میں تبسم بھی فرد ہے
خود کیا مٹا کہ حسرتِ حرماں بھی مر گئی

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔