Pages

Subscribe:

Tuesday, 25 September 2012

بول اے سکوتِ دل کہ درِ بے نِشاں کُھلے

بول اے سکوتِ دل کہ درِ بے نِشاں کُھلے
مجھ پر کبھی تو عُقدہِ ہفت آسماں کُھلے

یوں دل سے ھمکلام ہوئی یادِ رفتگاں

جیسے اک اجنبی سے کوئی رازداں کُھلے

سہمی کھڑی ہیں خوفِ تلاطم سے کشتیاں

موج ہوا کو ضد کہ کوئی بادباں کُھلے

وہ آنکھ نیم وا ہو تو دل پھر سے جی اُٹھیں

وہ لب ہلیں تو قفلِ سکوتِ جہاں کُھلے

وہ جبر ہے کہ سوچ بھی لگتی ہے اجنبی

ایسے میں کس سے بات کریں کیا زباں کُھلے

جتنا ہوا سے بندِ قبا کُھل گیا تیرا

ہم لوگ اس قدر بھی کسی سے کہاں کُھلے

محسن کی موت اتنا بڑا سانحہ نہ تھی

اس سانحے پر بال تیرے رائیگاں کُھلے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔