Pages

Subscribe:

Saturday, 15 September 2012

کسی کے ہاتھ میں مینا ہے کوئی جام لیتا ہے (منزل و محمِل)

کسی کے ہاتھ میں مینا ہے کوئی جام لیتا ہے
کوئی آنے کا میخانے میں بس الزام لیتا ہے
خراباتِ مغاں میں آجکل رشوت بھی چلتی ہے
اُسے ملتی ہے جس سے چھپ کے ساقی دام لیتا ہے
تعجب ہے کہ جس کے ہوش اڑ جاتے ہیں۔ کہتا ہے
جہاں میں زندگی کا لطف مے آشام لیتا ہے
ہوس نے پارہ پارہ کر دیا ہے جس کے دامن کو
سرِمحفل تمہارا نام وہ بدنام لیتا ہے
وہ جس نے خواہشِ بے جا کو ذوقِ عشق سمجھا ہے
وہ پاگل ہر کسی کا بڑھ کے دامن تھام لیتا ہے
محبت میں جو پختہ کار ہیں خاموش رہتے ہیں
مگر ہر خام دعوے سے تمہارا نام لیتا ہے
اُسے اہلِ خرد کی بزم میں آنے کا کیا حق ہے
جو نُورِ صبح کے بدلے سَوادِ شام لیتا ہے
تبسم جس سے اُمیدِ وفا تھی وہ بُتِ کافر
محبت سے عداوت اور جفا کا کام لیتا ہے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔