Pages

Subscribe:

Friday, 21 September 2012

دل کے جذبات کی تفسیر سے ڈر جاتا ہوں (منزل و محمِل)

دل کے جذبات کی تفسیر سے ڈر جاتا ہوں
انجمن والوں کی تعزیر سے ڈر جاتا ہوں
بات کرنے کا کبھی اس سے جو آتا ہے خیال
اے محبت تری تعبیر سے ڈر جاتا ہوں
میری تدبیر کو اقدام کی جرءات کیا ہو
میں تو بے مہریِ تقدیر سے ڈر جاتا ہوں
میرے احباب کے بارے میں نہ پوچھو مجھ سے
وہ تو وہ اُن کی تصویر سے ڈر جاتا ہوں
خرقہ پوشوں کے شب و روز سے واقف ہوں میں
ان کے اسرار کی تشہیر سے ڈر جاتا ہوں
رہنماؤں میں قیادت کے ہیں جوہر مفقود
اسلئیے قوم کی تعمیر سے ڈر جاتا ہوں
روبرو اُن کے تبسم نہیں آتا لب پر
اُن کے فرمان کی تحقیر سے ڈر جاتا ہوں

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔