Pages

Subscribe:

Thursday, 6 September 2012

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ھم
دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے
تیرے ہاتوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم
نیم تاریک راہوں میں مارے گئے


سولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے

تیرے ہونٹوں کی لالی لپکتی رہی
تیری زلفوں کی مستی برستی رہی
تیرے ہاتوں کی چاندی دمکتی رہی

جب کھلی تیری راہوں میں شام ستم
ہم چلے آئے؛ لائے جہاں تک قدم
لب پہ حرف غزل؛ دل میں قندیل غم
اپنا غم تھا گواہی تیرے حسن کی
دیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

نار سائی اگر اپنی تقدیر تھی ،
تیری الفت تو اپنی تدبیر تھی
کس کو گلہ ہے گر شوق کے سلسلے
ھجر کی قتل گاہوں سے سب جا ملے

قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم
اور نکلیں گئے عشاق کے قافلے
جن کی راہ طلب سےہمارے قدم
مختصر کر چلے دور کے فاصلے
کر چلے جن کی خاطر جہاں گیر ہم
جان گنوا کر تیری دلبری کا بھرم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔