Pages

Subscribe:

Monday, 21 May 2012

ہم انا مست تہی دست بہت ہیں محسن

آج گم سم ہے جو برباد جزیروں جیسی ،
اس کی آنکھوں میں چمک تھی کبھی ہیروں جیسی

کتنے مغرور پہاڑوں کے بدن چاک ہوئے ،
تیز کرنوں کی جو بارش ہوئی تیروں جیسی

جس کی یادوں سے خیالوں کے خزانے دیکھے ،
اسکی صورت بھی لگی آج فقیروں جیسی

چاہتیں لب پہ مچلتی ہوئی لڑکی کی طرح ،
حسرتیں آنکھ میں زندان کے اسیروں جیسی

ہم انا مست ، تہی دست بہت ہیں محسن ،
یہ الگ بات کے عادت ہے امیروں جیسی . . . !

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔