Pages

Subscribe:

Friday, 18 May 2012

شفق میں دھوپ ملائیں تو اس کا جسم بنے

شفق میں دھوپ ملائیں تو اس کا جسم بنے
بشر کے روپ میں اک دلربا طلسم بنے
وہ معجزات کی حد تک پہنچ گیا ہے قتیل
حروف کوئی بھی لکھوں اسی کا اسم بنے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔