ذہنوں میں خیال جل رہے ہیں
سوچوں کے الاؤ سے لگے ہیں
دنیا کی گرفت میں ہیں سائے
ہم اپنا وجود ڈھونڈتے ہیں
اب بھوک سے کوئی کیا مریگا
منڈی میں ضمیر بک رہے ہیں
ماضی میں تو صرف دل دکھاتے تھے
اس دور میں ذہن بھی دکھتے ہیں
سر کٹاتے تھے کبھی شایان شان
اب لوگ زبان کاٹتے ہیں
ہم کیسے چھڑائیں شب سے دامن
دن نکلا تو سائے چل پڑے ہیں
لاشوں کے ہجوم میں بھی ہنس دیں
اب ایسے بھی حوصلے کسے ہیں
0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔