Pages

Subscribe:

Friday, 18 May 2012

ذہنوں میں خیال جل رہے ہیں

ذہنوں میں خیال جل رہے ہیں
سوچوں کے الاؤ سے لگے ہیں

دنیا کی گرفت میں ہیں سائے
ہم اپنا وجود ڈھونڈتے ہیں

اب بھوک سے کوئی کیا مریگا
منڈی میں ضمیر بک رہے ہیں

ماضی میں تو صرف دل دکھاتے تھے
اس دور میں ذہن بھی دکھتے ہیں

سر کٹاتے تھے کبھی شایان شان
اب لوگ زبان کاٹتے ہیں

ہم کیسے چھڑائیں شب سے دامن
دن نکلا تو سائے چل پڑے ہیں

لاشوں کے ہجوم میں بھی ہنس دیں
اب ایسے بھی حوصلے کسے ہیں

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔