Pages

Subscribe:

Tuesday, 29 May 2012

میری آنکھوں میں امنڈ آیا ہے دریا دل کا

میری آنکھوں میں امنڈ آیا ہے دریا دل کا
پھر کہیں ٹوٹ گیا ہو نا کنارا دل کا

بس محبت سے روایات ہے کہانی دل کی
چار حرفوں سے عبارت ہے فسانہ دل کا

سانس رکتی ہے تو پھر جان کا خیال آتا ہے
دل دھڑکتا ہے تو لگ جاتا ہے دھڑکا دل کا

اسی کوشش میں بہت عمر گنوا دی میں نے
پھر بھی پورا نا ہوا مجھ سے خسارا دل کا

میری پایاب تمنائیں بتاتی ہیں مجھے
سُوکھ جائے گا کچھ روز میں دریا دل کا

بدلی بدلی سی صدا دیتی ہے دھڑکن دل کی
حجر میں اور ہی ہو جاتا ہے لہجہ دل کا

کیوں نا اے دوست ابھی ترک آ محبت کر لیں
اس سے پہلے کے بدل جائے ارادہ دل کا

فکر دنیا میں میرے دل کو بھلانے والے
تیری دنیا سے زیادہ ہے اثاثہ دل کا

عشق کاٹے گا ابھی اور چاہتیں ساغر
عقل دیکھے گی ابھی اور تماشہ دل کا

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔