Pages

Subscribe:

Friday, 18 May 2012

میں اس دن لوٹ آؤں گا

سنو تم نے کہا تھا نا ! !
مجھے جذبہ محبت سے کبھی جو تم پکارو گی
میں اس دن لوٹ آؤں گا ! !
تو دیکھو نا ! !
کئی لمحوں
کئی سالوں
کئی صدیوں
سے تیرا رستہ تکتی
یہ میری منتظر آنکھیں
میرے دل کی یہ دھڑکن اور سانسیں
بس تمہارا نام لیتی ہیں
وہی اک ورد کرتی ہیں
میری آنکھوں کے ساحل پر
تیری خواہش کی موجوں نے
بڑی ہلچل مچائی ہے
تیری تصویر ، سوکھے پھول اور تحفے !
تیری چاہت کی خوشبو میں
ابھی تک سانس لیتے ہیں
وہ سب رستے کے جن پر تم ہمارے ساتھ چلتے تھے
وہ سب رستے جہاں تیری ہنسی کے پھول کھلتے تھے
جہاں پیڑوں کی شاخوں پر
ہم اپنا نام لکھتے تھے
اُداسی سے بھرے منظر
تمھارے لوٹ کر آنے کی امیدیں دلاتے ہیں
سنو کچھ بھی نہیں بدلہ
تمھارے پاؤں کی آواز سننے کی
میرے کمرے کی بے ترتیب چیزیں منتظر ہیں
سنو ! ! !
تکمیل پاتی چاہتوں کو یوں ادھورہ تو نہیں چھوڑو
مجھے مت آزماؤ تم
چلو اب لوٹ آؤ تم . . . !

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔