Pages

Subscribe:

Thursday, 31 May 2012

پا شکستہ سربریدہ خواب

شہر کے گوشوں میں ہیں بکھرے ھوئے
پا شکستہ سر بریدہ خواب
جن سے شہر والے بے خبر!
گھومتا ہوں شہر کے گوشوں میں روز و شب
کہ ان کو جمع کر لوں
دل کی بھٹی میں تپاؤں
جس سے چھٹ جائے پرانا میل
ان کے دست و پا پھر سے ابھر آئیں
چمک اٹھیں لب و رخسار و گردن
جیسے نو آراستہ دولھوں کے دل کی حسرتیں
پھر سے ان خوابوں کو سمت رہ ملے!
“خواب لے لو خواب ـــــــــــ ”
صبح ہوتے ہی چوک میں جا کر لگاتا ہوں صدا ـــــــــ
“خواب اصلی ہیں کہ نقلی”
یوں پرکھتے ہیں کہ جیسے ان سے بڑھ کر
خواب داں کوئی نہ ہو!
خواب گر میں بھی نہیں
صورت گر ثانی ہوں بس ـــــــ
ہاں مگر میری معیشت کا سہارا خواب ہیں!
شام ھو جاتی ہے
میں پھر سے لگاتا ہوں صدا ـــــــ
“مفت لے لو مفت، یہ سونے کے خواب ـــــــــ”
“مفت” سن کر اور ڈر جاتے ہیں لوگ
اور چپکے سے سرک جاتے ہیں لوگ ــــــــــ
“دیکھنا یہ “مفت” کہتا ہے
کوئی دھوکا نہ ہو!
ایسا کوئی شعبدہ پنہاں نہ ہو
گھر پہنچ کر ٹوٹ جائیں
یا پگھل جائیں یہ خواب
بھک سے اڑ جائیں کہیں
یا ہم پہ کوئی سحر کر ڈالیں یہ خواب ـــــــــ
جی نہیں کس کام کے؟
ایسے کباڑی کے یہ خواب
ایسے نابینا کباڑی کے یہ خواب!”
رات ہو جاتی ہے
خوابوں کے پلندے سر پہ رکھ کر
منہ بسورے لوٹتا ہوں
رات بھر پھر بڑبڑاتا ہوں
“یہ لے لو خواب ــــــــ”
اور لے لو مجھ سے ان کے دام بھی
خواب لے لو، خواب ــــــــــ
میرے خواب ـــــــــــ
خواب ـــــــــ میرے خواب ـــــــــ
خو ا ا ا ا ب ــــــــــــ
ان کے د ا ا ا ا م بھی ی ی ی ـــــــــــــ”

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔