Pages

Subscribe:

Friday, 18 May 2012

پر آسائش غم کا شکریہ

پرآسائش غم کا شکریہ ، کیا تجھے آگہی نہیں
تیرے بغیر زندگی درد ہے ، زندگی نہیں

دور تھا کے گزر گیا ، نشہ تھا ایک اُتَر گیا
اب وہ مقام ہے جہاں شکوہ بیرخی نہیں

تیرے سوا کروں پسند کیا تیری کائنات میں
دونوں جہاں کی نعمتیں ، قیمت بندگی نہیں

لاکھ زمانہ ظلم ڈھائے ، وقت نا وہ خدا دکھائے
جب مجھے ہو یقین کے تو حاصل زندگی نہیں

دل کی شگفتگی کے ساتھ راحت مےکدہ گئی
فرصت مہ کشی تو ہے ، حسرت مہ کشی گئی

زخم پے زخم کھاکے جی ، اپنے لہو کے گھونٹ پی
آہ نا کر ، لبوں کو سی ، عشق ہے دل لگی نہیں

دیکھ کے خشک و زرد پھول ، دل ہے کچھ اس طرح ملول
جیسے تیری خزاں کے بعد ، دور بہار ہی نہیں

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔