Pages

Subscribe:

Friday, 18 May 2012

شفق جو روئے سحر پر گلال ملنے لگی

شفق جو روۓ سحر پر گلال ملنے لگی
یہ بستیوں کی فضا کیوں دھواں اگلنے لگنے لگی

اسی لیے تو ہوا رو پڑی درختوں میں
ابھی میں کھل نہ سکا تھا کہ رت بدلنے لگی

اتر کے ناؤ سے بھی کب سفر تمام ہوا
زمیں پہ پاؤں دھرا تو زمین چلنے لگی

کسی کا جسم اگر چھو لیا خیال میں بھی
تو پور پور میری، مثل شمع جلنے لگی

میں ناپتا چلا قدموں سے اپنے ساۓ کو
کبھی جو دشت مسافت میں دھوپ ڈھلنے لگی

مری نگاہ میں خواہش کا شائبہ بھی نہ تھا
یہ برف سی تیرے چہرے پہ کیوں پگھلنے لگی

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔