Pages

Subscribe:

Monday, 21 May 2012

در قفس سے پرے جب ہوا گزرتی ہے



در قفس سے پرے جب صباء گزرتی ہے
کسے خبر کے اسیروں پر کیا گزرتی ہے


تعلق کبھی اس قدر نا ٹوٹے تھے
کے تیری یاد بھی دل سے خفا گزرتی ہے


وہ اب ملے بھی تو ملتا ہے اس طرح جیسے
بجھے چراغوں کو چھو کر ہوا گزرتی ہے


فقیر کب کے گئے جنگلوں کی سمت مگر
گلی سے آج بھی ان کی صدا گزرتی ہے


یہ اہل ہجر کی بستی ہے ، احتیاط سے چل
مصیبتوں کی یہاں انتہا گزرتی ہے


بھنور سے بچ تو گئیں کشتیاں مگر اب کے
دلوں کی خیر کے موج بلا گزرتی ہے


نا پوچھ اپنی انا کی بغاوتیں محسن
در قبول سے بچ کر دعا گزرتی ہے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔