Pages

Subscribe:

Friday, 18 May 2012

دل بھی پریشاں ہے سرابوں سے نکل کر

سینے سے لپٹ جا میرے خوابوں سے نکل کر
اک بار ملیں ہم بھی حجابوں سے نکل کر


کرنوں کی طرح بانٹ زمانے میں اجالا
خوشبو کی طرح پھیل گلابوں سے نکل کر


مے خانوں کی صورت ہیں تیری جھیل سی آنکھیں
ڈوبے ہیں جہاں لوگ شرابوں سے نکل کر


مجھ کو بھی گوارہ نہیں اب تجھ سے بچھڑنا
دل بھی پریشان سرابوں سے نکل کر


رہنے دو ابھی گردش دوراں میں ہے محسن
بہلے گی طبیعت نئے عذابوں سے نکل کر . . . !

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ:- اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔